کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: روزہ دار شخص کا بیمار کی عیادت کرنا اور بھلائی کے دوسرے کام کرنا
حدیث نمبر: 4944
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَانَ صَائِمًا وَعَادَ مَرِيضًا وَشَهِدَ جِنَازَةً غُفِرَ لَهُ إِلَّا أَنْ يُحْدِثَ مِنْ بَعْدُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص روزہ دار ہو ، اور پھر بیمار کی عیادت کرے اور جنازے میں شریک ہو ، تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ، البتہ بعد میں اگر وہ کوئی نیا کام کر لے تو معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 4945
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ : " مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ [ الْيَوْمَ ] جِنَازَةً ؟ " . قَالَ عُمَرُ : أَنَا . قَالَ : " مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا ؟ " . قَالَ عُمَرُ : أَنَا . قَالَ : " مَنْ تَصَدَّقَ ؟ " . قَالَ عُمَرُ : أَنَا . قَالَ : " مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ " . قَالَ عُمَرُ : أَنَا . قَالَ : " وَجَبَتْ وَجَبَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : آج تم میں سے کون جنازے کے ساتھ گیا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے آج کس نے بیمار کی عیادت کی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس نے صدقہ کیا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس نے آج روزہ رکھا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا واجب ہو گئی واجب ہو گئی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن وردان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4946
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " أَيُّكُمْ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَأَيُّكُمْ عَادَ مَرِيضًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَيُّكُمْ شَيَّعَ جِنَازَةً ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَيُّكُمْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ هَذِهِ الْأَرْبَعُ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَسَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ : " أَيُّكُمْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : آپ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : تم میں سے آج کس نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے بیمار کی عیادت کی ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کون جنازے کے ساتھ گیا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص میں یہ چار چیزیں ہوں گی اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اصل میں یہ الفاظ ساقط ہیں : ” تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اصل میں یہ الفاظ ساقط ہیں : ” تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4947
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَلْ أَصْبَحَ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا ؟ " . فَسَكَتُوا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : " هَلْ عَادَ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا ؟ " . فَسَكَتُوا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَصَدَّقَ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْيَوْمَ بِصَدَقَةٍ ؟ " . فَسَكَتُوا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَعْلَى بِهِ الضَّحِكُ ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا جَمَعَهُنَّ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَإِلَّا دَخَلَ [ بِهِنَّ ] الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ بِنَحْوِ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم میں سے آج کسی نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ لوگ خاموش رہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی نے آج کسی بیمار کی عیادت کی ہے ؟ لوگ خاموش رہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی نے آج کوئی صدقہ دیا ہے ؟ لوگ خاموش رہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ گہری ہو گئی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ایک ہی دن میں یہ سب کام کوئی مؤمن ہی کر سکتا ہے ، اور وہ ان کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کی مانند ایک حدیث جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں اس کی مانند ایک حدیث جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 4948
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا . قَالَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا . قَالَ : " مَنْ شَيَّعَ جِنَازَةً ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا . قَالَ : " مَنْ جَمَعَهُنَّ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ طَلْقٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : آہ کس نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کس نے بیمار کی عیادت کی ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کون جنازے کے ساتھ گیا ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایک ہی دن میں یہ سب کام کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن طلق ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن طلق ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4949
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أُحَدِّثْ نَفْسِي بِالصَّوْمِ الْبَارِحَةَ فَأَصْبَحْتُ مُفْطِرًا . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَكِنِّي حَدَّثْتُ نَفْسِي بِالصَّوْمِ الْبَارِحَةَ فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مِنْكُمُ الْيَوْمَ أَحَدٌ عَادَ مَرِيضًا ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا ثُمَّ لَمْ نَبْرَحْ فَكَيْفَ نَعُودُ الْمَرْضَى ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَغَنِي أَنَّ أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ اشْتَكَى فَجَعَلْتُ طَرِيقِي عَلَيْهِ حِينَ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ لِأَنْظُرَ كَيْفَ أَصْبَحَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا ثُمَّ لَمْ نَبْرَحْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزِ شَعِيرٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخَذْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ فَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . فَتَنَفَّسَ عُمَرُ فَقَالَ : وَاهًا لِلْجَنَّةِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً رَضَّى بِهَا عُمَرَ : " رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ لَمْ يُرِدْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا سَبَقَهُ أَبُو بَكْرٍ إِلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا ، اور دریافت کیا : کیا تم میں سے آج کسی نے روزہ رکھا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے روزہ رکھنے کا نہیں سوچا تھا ، تو میں آج روزے کے بغیر ہوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : لیکن میں نے آج روزے کا سوچا تھا ، تو میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی نے آج بیمار کی عیادت کی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم نے تو ابھی ( فجر کی ) نماز ادا کی ہے ابھی کچھ اور نہیں کیا ، تو کسی بیمار کی عیادت کیسے کر سکتے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : مجھے یہ اطلاع ملی تھی کہ میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار ہیں تو میں آتے ہوئے ان کی طرف سے ہو کے آیا تھا جب میں مسجد کی طرف آ رہا تھا کہ یہ دیکھ لوں کہ ان کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی ایک نے مسکین کو کچھ کھلایا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابھی تو ہم نے ( فجر کی ) نماز ادا کی ہے ، اور کچھ بھی نہیں کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جب میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک سائل موجود تھا جو مانگ رہا تھا ۔ میں نے عبدالرحمن کے ہاتھ میں ایک روٹی کا ٹکڑا پایا تو میں نے اس سے لے کر وہ مسکین کو دے دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جنت کی خوشخبری حاصل کرو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گہرا سانس لیا اور بولے : جنت کے کیا کہنے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا جس کے ذریعے آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دلجوئی کی اور پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے وہ جب بھی کسی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ، تو ابوبکر اس سے پہلے اس بھلائی کی طرف سبقت لے جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔