کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سفر کے دوران روزہ رکھنا
حدیث نمبر: 4908
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يَدَعُهُمَا ، يَقُولُ : لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا - يَعْنِي الْفَرِيضَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران روزہ رکھ بھی لیتے تھے ، اور روزہ ترک بھی کر دیتے تھے ، اور آپ دو رکعات ادا کیا کرتے تھے وہ ترک نہیں کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اضافہ نہیں کرتے تھے یعنی فرض پر اضافہ نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5309) اخرجه احمد فى المسند (407، 402/1) . اخرجه البزار فى المسند (992)»
حدیث نمبر: 4909
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَنَاعِلًا ، وَيَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ . ¤ قُلْتُ : الصَّلَاةُ حَافِيًا وَنَاعِلًا رَوَاهُ النَّسَائِيُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتا پہنے بغیر اور جوتے سمیت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، اور سفر کے دوران روزہ رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے ، اور نہ رکھتے ہوئے بھی دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جوتا پہنے بغیر یا جوتا پہن کر نماز ادا کرنے والا حصہ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4910
وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : مَا تَقُولُ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ : تَأْخُذُ إِنْ حَدَّثْتُكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ قَصَرَ الصَّلَاةَ ، وَلَمْ يَصُمْ حَتَّى يَرْجِعَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَبِشْرٌ فِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
بشر بن حرب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا سفر کے دوران روزہ رکھنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہیں حدیث بیان کروں تو کیا تم اسے اختیار کر لو گے ؟ میں نے جواب جی ہاں تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس مدینہ سے نکلتے تھے تو نماز قصر کرتے تھے ، اور روزہ نہیں رکھتے تھے ، جب تک واپس تشریف نہیں لے آتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ بشر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5750)»
حدیث نمبر: 4911
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي حَافِيًا وَنَاعِلًا ، وَيَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ، وَيَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہنے بغیر اور جوتا پہن کر ( دونوں طرح ) چل لیتے تھے کھڑے ہو کر ، اور بیٹھ کر ( دونوں طرح سے ) پی لیتے تھے ، اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد دائیں طرف سے بھی اٹھ جاتے تھے ، اور بائیں طرف سے بھی اٹھ جاتے تھے ، اور سفر کے دوران آپ روزہ رکھ بھی لیتے تھے ، اور ترک بھی کر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (993)»
حدیث نمبر: 4912
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ( سفر پر ) روانہ ہوئے ، ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ، اور کچھ لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا ، تو روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا اور نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4913
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ; فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا روزہ دار شخص روزہ نہ رکھنے والے پر اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن مروان ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4913
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4914
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ ، فَأَنَا أَصُومُ وَأُفْطِرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کے دوران روزہ رکھ بھی لیتے تھے ، اور روزہ ترک بھی کر دیتے تھے ، اور میں بھی ( سفر کے دوران ) روزہ رکھ بھی لیتا ہوں اور ترک بھی کر دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4914
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4915
وَعَنْ مُثْعِبٍ قَالَ : كَانَ غَزْوٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا وَلَهُ رَاحِلَتُهُ يَعْتَقِبُ عَلَيْهَا غَيْرِي ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ ثُمَّ يَقُولُ لِي : " ارْكَبْ " . فَأَقُولُ : إِنَّ بِي قُوَّةً . حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً . فَيَقُولُ : " مَا أَنْتَ إِلَّا مِثْعِبٌ " . قَالَ : فَكَانَ مِنْ أَحَبِّ أَسْمَائِي إِلَيَّ . قَالَ : فَكُنْتُ أُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَيَصُومُ بَعْضُهُمْ وَيُفْطِرُ بَعْضُهُمْ ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ; إِلَّا أَنَّ أَشْعَثَ بْنَ أَبِي الشَّعْثَاءِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مشعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے ان میں سے ہر ایک شخص کے پاس سواری کا جانور موجود تھا جس پر وہ سوار تھا صرف میرے پاس نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اترے اور آپ نے مجھ سے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ میں نے عرض کی : میرے اندر قوت موجود ہے ایسا دو یا شاید تین مرتبہ ہوا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم مشعب ( شاید یہاں مراد مضبوط ہونا ہے ) ہو ، راوی کہتے ہیں : تو یہ نام میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کے درمیان سفر کر رہا تھا ، تو ان میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا ، تو روزہ رکھنے والوں نے نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ ہے کہ اشعث بن ابوشعثاء نامی نے کسی بھی راوی سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4915
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (361/20)»
حدیث نمبر: 4916
وَعَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الْعَطَّارِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : سَأَلْتُهُ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ : إِنْ كُنَّا نَصُومُ وَنُفْطِرُ ; فَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ ، وَلَا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْأَشْعَثِ الْعَطَّارُ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابواشعث عطار نے سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : میں نے ان سے سفر کے دوران روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : ہم روزہ رکھ بھی لیتے تھے ، اور ترک بھی کر دیتے تھے ، روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر اور روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابواشعث عطار نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4916
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2996)»
حدیث نمبر: 4917
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ خَيْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا مُصْبِحُوهُمْ بِغَارَةٍ ; فَأَفْطِرُوا وَتَقَوَّوْا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگلی صبح ہم نے حملہ کرنا ہے ، تو تم لوگ روزہ ترک کر دو اور قوت حاصل کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4917
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7934)»
حدیث نمبر: 4918
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرِيضَةً بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا تَطَوُّعًا بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا فرض روزہ رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص سے جہنم کو اتنی دور کر دیتا ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے ، اور جو شخص ایک دن کا نفلی روزہ رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم سے اتنی دور کر دیتا ہے جتنی زمین اور آسمان کے درمیان مسافت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4918
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم | الكبير (119/17)»
حدیث نمبر: 4919
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ وَصَامَ مَعَهُ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ أَصْحَابُهُ ، وَكَانَ الصَّائِمُ أَفْضَلَ مِنَ الْمُفْطِرِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَكَانَ الصَّائِمُ أَفْضَلَ مِنَ الْمُفْطِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں روانہ ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا تو آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب نے بھی روزہ ختم کر دیا تو اس وقت روزہ دار ، روزہ نہ رکھنے والے سے افضل ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ نہیں ہیں : ” روزہ رکھنے والا شخص روزہ نہ رکھنے والے سے افضل ہو گیا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط“ (1212)»
حدیث نمبر: 4920
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَفْطَرُوا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سفر کر رہے تھے ۔ آپ کے پاس برتن لایا گیا وہ آپ نے اپنے دست مبارک میں لیا جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے بھی روزہ ختم کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4920
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4921
عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَمَرُّوا بِنَهْرٍ فَسَدَّدُوا النَّظَرَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَشْرَبُونَ ؟ " . قَالُوا : نَشْرَبُ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ وَالطَّائِفِ أَتَى الْجِعِرَّانَةَ فَقَسَّمَ الْغَنَائِمَ بِهَا ، وَاعْتَمَرَ مِنْهَا . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِمْ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اٹھارہ دن گزرنے کے بعد روانہ ہوئے آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا لوگوں کا گزر ایک نہر کے پاس سے ہوا لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم پینا چاہتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : کیا ہم پیئیں گے جبکہ آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوا کر ( پانی ) پی لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین اور غزوہ طائف سے فارغ ہوئے تو آپ جعرانہ تشریف لائے وہاں آپ نے مال غنیمت تقسیم کیا ، اور وہاں سے عمرہ کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور امام طبرانی کے رجال میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4921
درجۂ حدیث محدثین: ورجال أحمد رجال الصحيح، ورجال الطبراني فيهم سعيد بن بشير، وفيه كلام.
حدیث نمبر: 4922
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ، وَوَضَعَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ فِي الْغَرْزِ وَالْأُخْرَى فِي الْأَرْضِ ، ثُمَّ دَعَا بِلَبَنٍ مِنْ لَبَنِهَا فَشَرِبَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی چودہ تاریخ گزرنے کے بعد روانہ ہوئے آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا آپ نے ایک پاؤں اس کے رکاب میں رکھا اور دوسرا زمین پر تھا پھر آپ نے دودھ منگوایا اور اسے پی لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ۔ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4922
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4923
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ يَوْمًا إِلَى الْعَصْرِ ، ثُمَّ أَفْطَرَ ، ثُمَّ صَامَ ، فَأَتَمَّ الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا ، تو ایک دن آپ نے عصر تک روزہ رکھا پھر آپ نے افطاری کر لی پھر آپ نے روزہ رکھا اور رات تک روزے کو مکمل کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4923
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11131)»
حدیث نمبر: 4924
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَافَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَاشْتَدَّ الصَّوْمُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تَهِيمُ بِهِ تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهُ فَأَفْطَرَ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ شَرِبَ فَشَرِبُوا . ¤ قُلْتُ لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کے لئے روزہ رکھنا دشوار ہو گیا اس نے اپنی اونٹنی کو تیزی سے چلایا اور درخت کے سائے میں آ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع دی گئی تو آپ نے اسے حکم دیا ، تو اس نے روزہ ختم کر دیا پھر بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا آپ نے اسے ہاتھ میں لیا جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ نے پانی پی لیا ہے ، تو انہوں نے بھی پی لیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1780 و1883 و ) اخرجه احمد فى المسند (329/3)»
حدیث نمبر: 4925
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4925
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11447) اخرجه البزار فى المسند (985)»
حدیث نمبر: 4926
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَهْلِ السَّقِيفَةِ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِيَامُ فِي امْسَفَرِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِهِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ جو اہل سقیفہ میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ اور امام بن ماجہ نے ان صحابی کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ جس میں یہ الفاظ ہیں : ” سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4927
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْبِرُّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4928
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِأَصْحَابِهِ ، وَإِذَا نَاسٌ قَدْ جَعَلُوا عَرِيشًا عَلَى صَاحِبِهِمْ ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَمَرَّ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : "مَا شَأْنُ صَاحِبِكُمْ ؟ أَوَجِعٌ ؟ " . قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّهُ صَائِمٌ ، وَذَلِكَ فِي يَوْمٍ حَرُورٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا بِرَّ أَنْ يُصَامَ فِي سَفَرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑاؤ کیا اسی دوران آپ کے ایک ساتھی پر سایہ کر دیا گیا اس شخص نے روزہ رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان لوگوں کے پاس سے ہوا آپ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کا کیا معاملہ ہے کیا اسے کوئی تکلیف ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! اس نے روزہ رکھا ہوا ہے راوی کہتے ہیں : وہ ایک گرم دن تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ نیکی نہیں ہے کہ سفر کے دوران روزہ رکھا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4929
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ ، فَسِرْنَا فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَنَزَلْنَا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَّا فَدَخَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَلُوذُونَ بِهِ ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ كَهَيْئَةِ الْوَجِعِ ، فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ ؟ " . قَالُوا : صَائِمٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ ، عَلَيْكُمْ بِالرُّخْصَةِ الَّتِي أَرْخَصَ اللَّهُ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ سے آ رہے تھے ایک شدید گرم دن میں ہم سفر کرتے رہے ہم نے راستے میں پڑاؤ کیا ہم میں سے ایک شخص گیا اور ایک درخت کے سائے میں آ گیا اس کے ساتھیوں نے اسے سہارا دیا ہوا تھا وہ لیٹا ہوا تھا اور اس کو تکلیف محسوس ہو رہی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : تمہارے ساتھی کا کیا معاملہ ہے ۔ لوگوں نے بتایا : اس نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چیز نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر کے دوران روزہ رکھو تم پر رخصت کو اختیار کرنا لازم ہے جو ( رخصت ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے تم اسے قبول کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4930
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ - قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : عبدالواحد نامی راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں انہوں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 4931
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ قَالَ : لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سفر کے دوران روزہ رکھنا سنت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4931
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم ا الكبير (394/19)»
حدیث نمبر: 4932
وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ [ أَنَّهُ ] دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ : " هَلُمَّ " . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ : " هَلُمَّ أُحَدِّثُكَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ [ ال] سَّرِيِّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
زرارہ بن اوفی ایک صاحب کے بارے میں بیان کرتے ہیں : وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : آگے آ جاؤ ! اس شخص نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آگے آ جاؤ ! میں تمہیں بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے مسافر شخص سے روزے اور نصف نماز کو معاف کر دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن سری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4932
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4933
وَعَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ : خَطَبَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ فَقَالَ : لَا تَصُومُوا رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ ، فَمَنْ صَامَ فَلْيَقْضِهِ . قَالَ أَبُو الْفَيْضِ : فَلَقِيتُ أَبَا قِرْصَافَةَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : [ لَوْ صُمْتَ ثُمَّ ] صُمْتَ مَا قَضَيْتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوالفیض بیان کرتے ہیں : مسلمہ بن عبدالملک نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ کہا: تم سفر کے دوران رمضان میں ، روزے نہ رکھو جو شخص روزہ رکھے گا اسے اس کی قضاء کر لینی چاہیے ، ابوالفیض کہتے ہیں : بعد میں میری ملاقات سیدنا ابوقرصافہ واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان سے دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : اگر تم روزہ رکھ لیا اور پھر رکھ لیا تو تم نے اس کی قضاء نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4933
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (52/22)»
حدیث نمبر: 4934
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : الْإِفْطَارُ فِي السَّفَرِ رُخْصَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سفر کے دوران روزہ نہ رکھنا رخصت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4934
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رِجَالُهُ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8390) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1483)»
حدیث نمبر: 4935
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحِبُّ الصَّوْمَ فِي السَّفَرِ ، وَيَقُولُ : إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سفر کے دوران روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیتے تھے ، اور یہ کہتے تھے : یہ چیز رخصت تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبداللہ بن حسن عنبری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4935
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8389)»
حدیث نمبر: 4936
وَعَنْ أَبِي طُعْمَةَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَقْوَى عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطعمہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ۔ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن میں سفر کے دوران روزہ رکھنے کی قوت رکھتا ہوں تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا ہے اسے عرفہ کے پہاڑوں جتنا گناہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4936
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5392)»
حدیث نمبر: 4937
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رُزَيْقٌ الثَّقَفِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی رخصت قبول نہیں کرتا اسے اتنا گناہ ہوتا ہے ، جو عرفہ کے پہاڑوں کی مانند ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رزیق ثقفی ہے میں نے کسی کو اس پر جرح کرتے یا اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4937
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4938
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ فَعَلَيْهِ [ مِنَ الْإِثْمِ ] مِثْلُ جِبَالِ أُحُدٍ آثَامًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا ہے ، تو اسے اُحد کے پہاڑوں جتنا گناہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عمرو بن ابراہیم انصاری ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4938
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4939
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت پر عمل کیا جائے جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کی معصیت کا ارتکاب کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں یہ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4939
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5866) اخرجه البزار فى المسند (988 و 989)»
حدیث نمبر: 4940
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت پر عمل کیا جائے جس طرح وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عزیمت پر عمل کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں امام طبرانی کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11880) اخرجه البزار فى المسند (990)»
حدیث نمبر: 4941
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ تُقْبَلَ رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى رَفْعِ حَدِيثِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو قبول کیا جائے جس طرح وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عزیمت پر عمل کیا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معمر بن عبداللہ انصاری ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : اس روایت کے ” مرفوع “ ہونے میں ، اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10030) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2602)»
حدیث نمبر: 4942
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ وَوَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَأَبُو أُمَامَةَ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُقْبَلَ رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ الْعَبْدُ مَغْفِرَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن یزید بن آدم بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو قبول کیا جائے جس طرح بندہ اس کی مغفرت کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ عبداللہ بن یزید نامی راوی کو امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4942
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7661)»
حدیث نمبر: 4943
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُؤْخَذَ بِرُخَصِهِ كَمَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْخَذَ بِعَزَائِمِهِ " . قُلْتُ : وَمَا عَزَائِمُهُ ؟ قَالَ : " فَرَائِضُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ صَاحِبُ الْحُمُرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو اختیار کیا جائے جس طرح وہ اس بات کو پسند کرتا ہے اس کے لازمی حکم کو اختیار کیا جائے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اس کے لازمی حکم سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے مقرر کردہ فرائض ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبید ہے ، جو صاحب الحمر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4943
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف