حدیث نمبر: 4897
عَنْ أُمِّ إِسْحَاقَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَأَكَلَتْ مَعَهُ ، وَمَعَهُ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرْقًا فَقَالَ : " يَا أُمَّ إِسْحَاقَ ، أَصِيبِي مِنْ هَذَا " . فَذَكَرْتُ أَنِّي صَائِمَةٌ ، فَبَرَدَتْ يَدِي ; لَا أُقَدِّمُهَا وَلَا أُؤَخِّرُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكِ ؟ " . قَالَتْ : كُنْتُ صَائِمَةً فَنَسِيتُ . فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ : الْآنَ بَعْدَمَا شَبِعْتِ ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتِمِّي صَوْمَكِ ; فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أُمُّ حَكِيمٍ ; وَلَمْ أَجِدْ لَهَا تَرْجَمَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کو کھا لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو ایک گوشت والی ہڈی پکڑائی اور فرمایا : اے اُم اسحاق یہ بھی لو سیدہ اُم اسحاق رضی اللہ عنہ کہتی ہیں مجھے یاد آیا : میرا تو روزہ ہے میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے میں نہ ہاتھ آگے کروں نہ پیچھے کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : میرا تو روزہ تھا میں بھول گئی سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اب پیٹ بھر جانے کے بعد تمہیں یاد آیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا روزہ مکمل کرو ! یہ وہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اُم حکیم ہیں میں نے کسی کو اس خاتون کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اُم حکیم ہیں میں نے کسی کو اس خاتون کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4898
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا ، فَنَسِيَ فَأَكَلَ ، أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری روایت کرتے ہیں مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی ایک شخص نے روزہ رکھا ہو اور وہ بھول کر کچھ کھا لے یا کچھ پی لے تو اسے اپنا روزہ مکمل کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا اور پلایا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، لیکن سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، لیکن سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 4899
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَائِمٍ أَكَلَ وَشَرِبَ نَاسِيًا فَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْقَضَاءِ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ طَعَامٌ أَطْعَمَهُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے روزہ دار کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو بھول کر کچھ کھا یا پی لیتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قضاء کا حکم نہیں دیا اور آپ نے فرمایا : یہ وہ کھانا ہے ، جو اللہ تعالی نے اسے کھلایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4900
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فِي رَمَضَانَ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَّارَةَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص رمضان میں بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے تو اس پر نہ تو قضاء لازم ہو گی ، اور نہ ہی کفارہ لازم ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں بھی ایک حدیث منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔