عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى ثَلَاثِ تَمَرَاتٍ أَوْ شَيْءٍ لَمْ تُصِبْهُ النَّارُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ ثَابِتٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ آپ تین کھجوروں کے ذریعے یا کسی ایسی چیز کے ذریعے افطاری کریں جو آگ پر نہ پکی ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن ثابت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن ثابت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ صَائِمًا لَمْ يُصَلِّ حَتَّى نَأْتِيَهُ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ ، فَيَأْكُلُ وَيَشْرَبُ إِذَا كَانَ الرُّطَبُ ، وَإِذَا كَانَ الشِّتَاءُ لَمْ يُصَلِّ حَتَّى نَأْتِيَهُ بِتَمْرٍ وَمَاءٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روزہ رکھا ہوتا تھا ، تو آپ اس وقت تک ( مغرب کی نماز ) ادا نہیں کرتے تھے ، جب تک ہم آپ کے پاس کھجوریں اور پانی نہیں لے آتے تھے ۔ آپ انہیں کھاتے اور پیتے تھے ، جبکہ کھجوریں تر ہوتی تھیں اور جب سردی کا موسم ہوتا ، تو آپ اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتے تھے ، جب تک ہم آپ کے پاس خشک کھجور اور پانی نہیں لے آتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ إِذَا كَانَ صَائِمًا عَلَى اللَّبَنِ ، وَجِئْتُهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَوَضَعَهُ إِلَى جَانِبِهِ فَغَطَّى عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الرَّمْلِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روزہ رکھا ہوتا تھا ، تو آپ افطاری کے وقت دودھ پیتے تھے میں آپ کے پاس دودھ کا پیالہ لے کے آیا میں نے اسے آپ کے پہلو میں رکھ دیا آپ نے اسے ڈھانپ دیا اس دوران آپ نماز ادا کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر رملی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر رملی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ ، فَأَفْطَرَ عَلَى تَمْرِ الْعَجْوَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَلْخِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے دوران سفر کر رہے تھے تو آپ نے عجوہ کھجور کے ذریعے افطاری کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حفص بن ابراہیم بلخی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حفص بن ابراہیم بلخی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : رُبَّمَا أَفْطَرَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى الْجِمَاعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین فرماتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بعض اوقات صحبت کر کے افطاری کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔