حدیث نمبر: 4852
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : دَخَلَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لَهُ بِرَأْسٍ ، وَجَعَلَ يَأْكُلُ مَعَهُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَدَعَا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمْ يُجَبْ فَرَجَعَ ، فَمَكَثَ فِي الْمَسْجِدِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ وَاللَّهِ أَصْبَحْتَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ بِلَالًا ; لَوْلَا بِلَالٌ لَرَجَوْنَا أَنْ يُؤَخَّرَ لَنَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : لَوْلَا أَنَّ بِلَالًا حَلَفَ لَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْفَعْ يَدَكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : علقمہ بن علاثہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے کھانا منگوایا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانا شروع کیا اسی دوران بلال آئے اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لئے بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ واپس چلا گیا وہ مسجد میں اتنی دیر ٹھہرا رہا جتنی دیر اللہ کو منظور تھا پھر وہ واپس آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہو گیا ہے اللہ کی قسم صبح ہو چکی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بلال پر رحم کرے اگر بلال نہ ہوتا تو ہمیں یہ توقع تھی کہ ہمارے لئے اتنی تاخیر ہو جاتی جو ہمارے اس وقت اور سورج طلوع ہونے کے درمیان ہوتی ہے “ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر بلال نے حلف نہ اٹھایا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے رہتے یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ سے یہ کہتے کہ آپ ہاتھ اٹھا لیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4852
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (980)»
حدیث نمبر: 4853
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ سُهَيْلٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ لَنَا قُبَّةً عِنْدَ دَارِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَكَانَ بِلَالٌ يَأْتِينَا يُفْطِرُنَا وَنَحْنُ مُسْفِرُونَ ، حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَحْسَبُ [ إِلَّا ] أَنَّ ذَلِكَ شَيْئًا بَيْنَنَا ، فَنَقُولُ : يَا بِلَالُ ، أَفَطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا جِئْتُكُمْ حَتَّى أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَكَانَ بِلَالٌ يَأْتِينَا بِسَحُورِنَا وَإِنَّا لَمُسْتَدْفِئُونَ ، فَنَكْشِفُ سِجْفَ الْقُبَّةِ فَيَسْتَنِيرُ لَنَا طَعَامُنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَلْقَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ صَحَابِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علقمہ بن سہیل ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وفد میں شامل تھا جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ آپ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس ہمارا خیمہ لگوایا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تھے ، اور ہمیں کھانا دیتے تھے اس وقت روشنی باقی ہوتی تھی ، اللہ کی قسم ہم یہی گمان کرتے تھے کہ یہ چیز ہمارے درمیان ہے ، ( یعنی ابھی افطاری کا وقت نہیں ہوا ہے ) ہم نے کہا: اے بلال ! کیا اللہ کے رسول نے افطاری کر لی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں آپ لوگوں کے پاس اس وقت آیا ہوں ، جب اللہ کے رسول نے افطاری کر لی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سحری لے کر اس وقت آ جاتے تھے ، جب ہم گرمائش حاصل کرنا چاہ رہے ہوتے تھے ہم خیمے کا پردہ ہٹاتے تھے تو ہمارے لئے کھانا نمایاں ہو جاتا تھا ( یعنی اتنی روشنی ہوتی تھی کہ وہ نظر آ جاتا تھا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : علقمہ بن سفیان نے عبدالکریم کے حوالے سے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ میں نے کسی ایسے راوی کو نہیں پایا ہے ، جس کا نام عبدالکریم ہو ، اور اس نے کسی صحابی سے سماع کیا ہو اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4853
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (981)»
حدیث نمبر: 4854
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ - قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ - فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقَانِي ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ ، فَقَامَ فَصَلَّى بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، يُرِيدُ الصَّوْمَ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا هُوَ فِي الْأَصْلِ ، وَلَعَلَّهُ أَكَلَ شَيْئًا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو نماز کے لئے بلانے کے لئے آیا ابو أحمد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا آپ نے پیالہ منگوایا اس میں سے پیا اور مجھے بھی پلایا پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے آپ کا ارادہ نماز ادا کرنے کا تھا آپ کھڑے ہوئے اور آپ از سر نو وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی آپ کا ارادہ روزہ رکھنے کا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اصل روایت ان ہی الفاظ میں منقول ہے شاید ایسا ہو گا کہ آپ نے کوئی ایسی چیز کھائی ہو گی جو آگ پر پکی ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1082... 1083). اخرجه احمد فى المسند (16/2)»
حدیث نمبر: 4855
وَلَهُ عِنْدَ أَحْمَدَ فِي رِوَايَةٍ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي ، وَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے امام أحمد نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ کو نماز کے لئے بلاؤں آپ کا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا آپ نے پانی پیا پھر آپ نے برتن میری طرف بڑھا دیا اور پھر آپ نماز کے لیے تشریف لے گئے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (13/6)»
حدیث نمبر: 4856
وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ : جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَوَجَدَهُ يَتَسَحَّرُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ . ¤ وَشَدَّادُ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے امام أحمد نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ ( یعنی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو نماز کے لئے بلانے آئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں نماز کے لئے اپنی مخصوص جگہ پر سحری کرتے ہوئے پایا ۔ عیاض کے غلام شداد نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4856
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 4857
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرْ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ فَادْعُهُ " . فَدَخَلْتُ - يَعْنِي الْمَسْجِدَ - فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ فَدَعَوْتُهُمَا ، فَأَتَيْتُهُ بِشَيْءٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَكَلَ وَأَكَلُوا ، ثُمَّ خَرَجُوا ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم دیکھو کہ مسجد میں جو موجود ہو اسے بلا کے لے آؤ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے میں نے ان دونوں کو بلا لیا پھر میں کوئی چیز لے کر آپ کے پاس آیا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی پھر وہ چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھائی اور ان صاحبان نے بھی کھائی پھر وہ صاحبان نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4858
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُرِيدُ الصِّيَامَ ، وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ يَشْرَبُ مِنْهُ فَيَسْمَعُ النِّدَاءَ ؟ فَقَالَ جَابِرٌ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَشْرَبُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا : جو روزہ رکھنے کا ارادہ کرتا ہے ، اور برتن اس کے ہاتھ میں موجود ہوتا ہے ، جس میں سے وہ پانی پینے لگتا ہے اسی دوران وہ اذان سن لیتا ہے ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ( اس طرح کی صورت حال میں اس شخص کو ) پی لینا چاہیے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4858
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (348/3)»
حدیث نمبر: 4859
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ ; فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بلال کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے کیونکہ اس کی بینائی میں کچھ ( کمزوری ) ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اور
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4859
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2917) اخرجه احمد فى المسند (140/3)»
حدیث نمبر: 4860
وَلِأَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ; فَكُلُوا ، وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک بلال رات میں ( یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی ) اذان دے دیتا ہے ، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا “ ۔
یہ روایت بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4861
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّتِي تَقُولُ - وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ " . أَوْ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا ، فَنَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی پھوپھی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : ابن ام مکتوم رات میں ( یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی ) اذان دے دیتا ہے ، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک بلال اذان نہیں دیتا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) بلال رات میں ہی اذان دے دیتا ہے ، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دے دیتا ۔ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : ( دونوں صاحبان کی اذان میں اتنا فرق ہوتا تھا ) کہ ایک چڑھ رہے ہوتے تھے ، اور دوسرے اتر رہے ہوتے تھے تو ہم ان سے کہتے تھے کہ ابھی آپ ٹھہر جائیں ہم سحری کر لیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (433/6)»
حدیث نمبر: 4862
وَفِي رِوَايَةٍ : " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ [ أُمِّ ] مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا " . مِنْ غَيْرِ شَكٍّ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب ابن ام مکتوم اذان دے تو تم کھاتے پیتے رہو “ یعنی اس روایت میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4862
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4863
وَعَنْ شَيْبَانَ أَنَّهُ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَجَلَسَ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَقَالَ : " أَبَا يَحْيَى ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ادْخُلْ " . فَدَخَلَ فَرَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَدَّى قَالَ : " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ . قَالَ : " وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ، إِنَّ مُؤَذِّنَنَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ ; أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ; وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ مسجد کی طرف گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرے کے پاس بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو فرمایا : ابویحیی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اندر آ جاؤ وہ اندر گئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ناشتہ کر رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ناشتے کی طرف آؤ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا بھی روزہ رکھنے کا ارادہ ہے ہمارے مؤذن کی بینائی میں کچھ کمزوری ہے وہ صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دے دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4863
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7228)»
حدیث نمبر: 4864
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ ; فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . وَكَانَ ابْنُ مَكْتُومٍ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ : أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بلال رات میں ہی ( یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی ) اذان دے دیتا ہے ، تو تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) سیدنا ابن ( اُم ) مکتوم رضی اللہ عنہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے ، جب تک ان سے یہ کہا: نہیں جاتا تھا : صبح صادق ہو گئی ہے صبح صادق ہو گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5773) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1902)»
حدیث نمبر: 4865
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : تَسَحَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ ، فَجَاءَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيُّ ، فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسٍ ، فَجَاءَ بِلَالٌ لِيُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ : " رُوَيْدَكَ يَا بِلَالُ ، يَتَسَحَّرُ عَلْقَمَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ; وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کی آپ کے پاس کچھ افراد موجود تھے علقمہ بن علاثہ عامری آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی بلوا لیا پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے بلانے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال ٹھہر جاؤ ! علقمہ سحری کر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4865
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4866
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ مَطَرٍ قَالَ : تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن مطر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی پھر ہم نماز کے لئے اٹھ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4866
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4867
وَعَنْ سَلْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمْنَعَنَّ بِلَالٌ أَحَدَكُمْ مِنْ سُحُورِهِ ; فَإِنَّمَا بِلَالٌ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمُ الَّذِي فِي صَلَاتِهِ ، وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بلال تم میں سے کسی ایک کو سحری کرنے سے نہ روکے کیونکہ بلال اس لئے اذان دیتا ہے تاکہ نوافل پڑھنے والا نماز ختم کر کے واپس چلا جائے اور سویا ہوا شخص بیدار ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن زیاد ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6135)»
حدیث نمبر: 4868
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ; فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک بلال رات میں ( یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ دیر پہلے ) اذان دے دیتا ہے ، تو تم لوگ کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4868
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4818... (4819)»
حدیث نمبر: 4869
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک بلال اذان نہیں دے دیتا “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4385)»
حدیث نمبر: 4870
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي - وَكَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ; فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " . وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا ، وَيَنْزِلُ هَذَا . فَكُنَّا نَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ : كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَرَوَى لَهَا النَّسَائِيُّ : " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا عَلَى الْغَلَسِ مِنْ هَذَا " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میری پھوپھی جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہے وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بلال رات میں اذان دے دیتا ہے ، تو تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن ام مکتوم اذان نہیں دیتا “ ۔ ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں ) ایک صاحب چڑھ رہے ہوتے تھے ، اور دوسرے اتر رہے ہوتے تھے تو ہم ان سے کہتے تھے : ٹھہر جائیں ! ہمیں سحری کر لینے دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس خاتون کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : ” جب ابن ام مکتوم اذان دے تو اس میں سے اندھیرے میں ( یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی ) کھا لو “ ۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4871
وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ عَلَى سَطْحٍ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَأَتَاهُ فَقَالَ : أَلَا تَطْعَمُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَشَارَ بِيَدِهِ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ : ائْتِنِي بِطَعَامِكَ . فَطَعِمَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ رمضان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھت پر موجود تھے وہ نماز ادا کر رہے تھے پھر وہ ان کے پاس آئے اور ان سے بولے : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! کیا آپ ( کچھ ) کھائیں گے نہیں ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا ایسا دو مرتبہ ہوا جب تیسری مرتبہ ہوا تو انہوں نے فرمایا : تم میرے پاس اپنا کھانا لے آؤ پھر انہوں نے کھانا کھایا پھر انہوں نے دو رکعات ادا کیں پھر وہ مسجد میں آئے ، تو نماز کھڑی ہو چکی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4871
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6378)»
حدیث نمبر: 4872
وَعَنْ مُطَيْرٍ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ : تَسَحَّرْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطیر شیبانی بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کی پھر ہم نکلے تو نماز کھڑی ہو چکی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9577)»
حدیث نمبر: 4873
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَ النَّاسِ إِفْطَارًا ، وَأَبْطَأَهُمْ سُحُورًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سب سے جلدی افطار کرتے تھے ، اور سب سے زیادہ تاخیر سے سحری کرتے تھے ( یعنی افطاری ابتدائی وقت میں کر لیتے تھے ، اور سحری آخری وقت میں کرتے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4873
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالہ
حدیث نمبر: 4874
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَ النَّاسِ إِفْطَارًا ، وَأَبْطَأَهُ سُحُورًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سب سے جلدی افطاری کرتے تھے ، اور سب سے زیادہ تاخیر سے سحری کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح