کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سحری کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 4839
عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو اسے کسی چیز کے ذریعے سحری کر لینی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4839
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1930) اخرجه احمد فى المسند (399، 367/3). اخرجه البزار فى المسند (979)»
حدیث نمبر: 4840
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّحُورُ أَكْلُهُ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ ، وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو رِفَاعَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سحری کا کھانا برکت ہے تم اسے نہ چھوڑو خواہ تم میں سے کوئی ایک شخص پانی کا ایک گھونٹ پی لے ، بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابورفاعہ ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4840
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (442/2)»
حدیث نمبر: 4841
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَحَّرُوا وَلَوْ بِجَرْعَةٍ مِنْ مَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ ثَابِتٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سحری کرو ! خواہ پانی کے ایک گھونٹ کے ذریعے کرو“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن ثابت باہلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4841
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3340)»
حدیث نمبر: 4842
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ الْخَوْلَانِيُّ ، قُلْتُ : ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : یحیی بن یزید خولانی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4842
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4843
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ; وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کرنے والوں کے لئے دعائے رحمت کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جسے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4843
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (337/22) اخرجه البزار فى المسند (974)»
حدیث نمبر: 4844
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ السَّحُورُ التَّمْرُ " . وَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُتَسَحِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بہترین سحری کھجور ہے “ ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ سحری کرنے والوں پر رحم کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4844
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6689)»
حدیث نمبر: 4845
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ فِيمَا طَعِمُوا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا كَانَ حَلَالًا : الصَّائِمُ ، وَالْمُتَسَحِّرُ ، وَالْمُرَابِطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ ، عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ وَهُمَا مَجْهُولَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین افراد جو کچھ کھائیں گے اس کے حوالے سے انہیں حساب نہیں دینا ہو گا اگر اللہ نے چاہا جبکہ وہ کھانا حلال ہو روزہ رکھنے والا ، سحری کرنے والا اور اللہ کی راہ میں پہرا دینے والا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ جس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عصمہ ہے اس نے ابوصباح سے روایت نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی مجہول ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4845
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12012). اخرجه البزار فى المسند (957)»
حدیث نمبر: 4846
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَحَّرُوا ; فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَعَطِيَّةُ ، وَكِلَاهُمَا فِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سحری کرو ! کیونکہ سحری میں برکت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور ایک راوی عطیہ ہے ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور ان دونوں کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4846
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 4847
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدْعُونِي إِلَى السَّحُورِ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ : " الْغَدَاءَ الْمُبَارَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو أَبِي مَعْمَرٍ ، وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ الْحَسَنِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْحَمَّالُ : صَدُوقٌ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَسُئِلَ ابْنُ مَعِينٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ فَقَالَ : مِثْلُ أَبِي مَعْمَرٍ لَا يُسْأَلُ عَنْهُ ، هُوَ وَأَخُوهُ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیج کر مجھے بلوایا انہوں نے مجھے سحری کی دعوت دی انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام مبارک ناشتہ رکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم ہے ، جو ابومعمر کا بھائی ہے وہ محمد بن ابراہیم بن معمر بن حسن ابوبکر ہذلی ہے موسیٰ بن ہارون حمال کہتے ہیں : یہ صدوق ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے یحیی بن معین سے ابومعمر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : ابومعمر جیسے شخص کے بارے میں دریافت نہیں کیا جا سکتا وہ اور اس کے بھائی علم حدیث کے ماہرین میں سے ایک ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4847
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (505)»
حدیث نمبر: 4848
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَرِّبِي إِلَيْنَا الْغَدَاءَ الْمُبَارَكَ " . - يَعْنِي : السَّحُورَ ، وَرُبَّمَا لَمْ يَكُنْ إِلَّا تَمْرَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مبارک ناشتہ ہمارے سامنے پیش کرو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سحری تھی حالانکہ بعض اوقات اس میں صرف دو کھجوریں ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4848
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4679)»
حدیث نمبر: 4849
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا فِي آخِرِ اللَّيْلِ " . وَكَانَ يَقُولُ : " هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جُبَارَةُ بْنُ مُغَلِّسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات کے آخری حصے میں ( یعنی صبح صادق سے کچھ پہلے ) سحری کر لو “ ( راوی بیان کرتے ہیں ) آپ یہ فرمایا کرتے تھے : ” یہ مبارک ناشتہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جبارہ بن مفلس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4849
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (131/17)»
حدیث نمبر: 4850
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَرَكَةُ فِي ثَلَاثَةٍ : فِي الْجَمَاعَةِ ، وَالثَّرِيدِ ، وَالسَّحُورِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْأَطْعِمَةِ فِي الثَّرِيدِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” برکت تین چیزوں میں ہے جماعت میں ، ثرید میں اور سحری میں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ بصری ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کھانوں سے متعلق باب میں ثرید سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4850
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6127)»
حدیث نمبر: 4851
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نِعْمَ السَّحُورُ التَّمْرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بہترین سحری کھجور ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (978)»