حدیث نمبر: 4823
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُتَقَدَّمَ رَمَضَانُ بِصَوْمِ يَوْمٍ حَتَّى يَرَوُا الْهِلَالَ أَوْ تَفِيَ الْعِدَّةُ ، ثُمَّ لَا يُفْطِرُوا حَتَّى يَرَوْهُ أَوْ تَفِيَ الْعِدَّةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھ لیا جائے جب تک آدمی پہلی کا چاند نہیں دیکھتا یا تعداد مکمل نہیں ہو جاتی ہے ، اور پھر لوگ روزہ رکھنا اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک اس ( پہلی کے چاند ) کو نہیں دیکھ لیتے یا تعداد مکمل نہیں ہو جاتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 4824
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ : تَعْجِيلُ يَوْمٍ قَبْلَ الرُّؤْيَةِ ، وَالْفِطْرِ ، وَالْأَضْحَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ; وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ( رمضان کے پہلی کے چاند ) کو دیکھنے سے پہلے ہی ، یا عیدالفطر یا عیدالاضحی ( کے چاند کو دیکھنے سے پہلے ہی ایک دن روزہ رکھ لینا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ ہے اسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ ہے اسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 4825
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصِلَ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم رمضان کے ساتھ ایک روزہ ملا دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4826
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَرْسَلَنِي مُدْرِكٌ - أَوِ ابْنُ مُدْرِكٍ - إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ ، فَأَتَيْتُهَا وَسَأَلْتُهَا عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يُخْتَلَفُ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : لَأَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ . فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَالَ : أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْلَمُ بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوموسی بیان کرتے ہیں : مدرک نے یا شاید ابن مدرک نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کروں میں ان کے پاس آیا میں نے ان سے اس دن کے بارے میں دریافت کیا : جس کے بارے میں اختلاف ہوتا ہے کہ وہ رمضان کا حصہ ہے ، یا نہیں ہے ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں شعبان کا ایک روزہ رکھ لوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں نے رمضان کے ایک دن کا روزہ نہ رکھا ہو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج زیادہ بہتر جانتی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4827
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ . فَقَالَتْ : يَا جَارِيَةُ ، خَوِّضِي لَهُ سَوِيقًا . فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ! فَقَالَتْ : تَقَدَّمْتَ الشَّهْرَ ؟ فَقُلْتُ : لَا ، وَلَكِنِّي صُمْتُ شَعْبَانَ كُلَّهُ فَوَافَقَ ذَلِكَ هَذَا الْيَوْمَ . فَقَالَتْ : إِنْ نَاسًا كَانُوا يَتَقَدَّمُونَ الشَّهْرَ فَيَصُومُونَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ) . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ رُقَيْدَةَ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک ایسے دن میں حاضر ہوا جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ وہ رمضان کا حصہ ہے ( یا نہیں ہے ؟ ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے کنیز ! اس کے لئے جو گھول دو میں نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم نے مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی رکھ لیا ہے میں نے عرض کی : جی نہیں میں نے شعبان کے پورے روزے رکھے تھے تو اس دن بھی رکھ لیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کچھ لوگوں نے ( رمضان کے ) مہینے سے پہلے ہی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے روزہ رکھ لیا تو یہ آیت نازل ہوئی : ” اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن رقیدہ ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبان بن رقیدہ ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 4828
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عِنْدَ الْعَصْرِ يَوْمًا نَشُكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَكَلَ ، فَقُلْتُ : هَذَا الَّذِي تَصْنَعُ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ . . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا فِي الْفِطْرِ إِذَا أَرَادَ السَّفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن کعب بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسے دن میں ، جس کے بارے میں ہمیں یہ شک تھا کہ یہ رمضان کا حصہ ہے ( یا نہیں ہے ؟ ) عصر کے وقت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ انہیں سلام کرنے کا تھا انہوں نے کھانا منگوا کر کھایا میں نے کہا: آپ نے جو یہ کیا ہے یہ سنت ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس بارے میں ہے کہ جب آدمی کا سفر کا ارادہ ہو ، تو روزہ نہ رکھا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس بارے میں ہے کہ جب آدمی کا سفر کا ارادہ ہو ، تو روزہ نہ رکھا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4829
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنَ عَمَّارِ [ عَنِ ] ابْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ : صَامَ نَاسٌ مِنَ الْحَيِّ وَنَاسٌ مِنْ جِيرَانِنَا الْيَوْمَ ؟ فَقَالَ : عَنْ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : لَأَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ أَقْضِيهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعُتْبَةُ وَأَبُوهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
عتبہ بن عمار نے ابن عیاش کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: کے لوگوں میں سے کچھ افراد نے اور ہمارے پڑوسیوں میں سے کچھ لوگوں نے آج روزہ رکھا ہوا ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا پہلی کا چاند دیکھنے کے بعد ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں تو انہوں نے فرمایا : میں رمضان کے ایک دن میں روزہ نہ رکھوں اور پھر اس کی قضاء کر لوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں نے شعبان کے ایک دن میں روزہ رکھا ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عتبہ اور اس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عتبہ اور اس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔