کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رمضان کے مہینے کا احترام کرنا اور اس کے حق کی معرفت کا بیان
حدیث نمبر: 4795
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَعَرَفَ حُدُودَهُ ، وَتَحَفَّظَ فِيهِ مِمَّا كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ كَفَّرَ مَا قَبْلَـ [ ـهُ ] " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرَيْظٍ ; ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص رمضان کے روزے رکھے اس کی حدود کی معرفت حاصل کرے اور اس میں ان چیزوں کی حفاظت کرے جن کی اس مہینے میں حفاظت کرنا مناسب ہے ، تو یہ اس شخص کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قریظ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4795
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1058) اخرجه احمد فى المسند (55/3)»
حدیث نمبر: 4796
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَتُزَيَّنُ مِنَ السَّنَةِ إِلَى السَّنَةِ لِشَهْرَ رَمَضَانَ ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانُ قَالَتِ الْجَنَّةُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا فِي هَذَا الشَّهْرِ مِنْ عِبَادِكَ سُكَّانًا . وَيَقُلْنَ الْحُورُ الْعِينُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا " . قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَمَنْ صَانَ نَفْسَهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمْ يَشْرَبْ فِيهِ مُسْكِرًا ، وَلَمْ يَرْمِ فِيهِ مُؤْمِنًا بِالْبُهْتَانِ ، وَلَمْ يَعْمَلْ [ فِيهِ ] خَطِيئَةً ; زَوَّجَهُ اللَّهُ كُلَّ لَيْلَةٍ مِائَةً حَوْرَاءَ ، وَبَنَى لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ وَيَاقُوتٍ وَزَبَرْجَدٍ ، لَوْ أَنَّ الدُّنْيَا جُمِعَتْ فَجُعِلَتْ فِي ذَلِكَ الْقَصْرِ لَمْ تَكُنْ فِيهِ إِلَّا كَمَرْبِطِ عَنْزٍ فِي الدُّنْيَا ، وَمَنْ شَرِبَ فِيهِ مُسْكِرًا ، أَوْ رَمَى فِيهِ مُؤْمِنًا بِبُهْتَانٍ ، وَعَمِلَ فِيهِ خَطِيئَةً ، أَحْبَطَ اللَّهُ عَمَلَهُ سَنَةً ; فَاتَّقُوا شَهْرَ رَمَضَانَ فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ أَنْ تُفَرِّطُوا فِيهِ ، فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ أَحَدَ عَشَرَ شَهْرًا تَنْعَمُونَ فِيهَا وَتَلَذُّونَ ، وَجَعَلَ لِنَفْسِهِ شَهْرَ رَمَضَانَ ; فَاحْذَرُوا شَهْرَ رَمَضَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا أَحْمَدُ بْنُ أَبْيَضَ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک جنت ایک سال سے اگلے سال تک رمضان کے مہینے کے لئے آراستہ ہوتی ہے ، جب رمضان آ جاتا ہے ، تو جنت یہ کہتی ہے : اے اللہ ! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے میرے رہائشی مقرر کر دے اور حورعین یہ کہتی ہیں : اے اللہ ! اس مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے شوہر مقرر کر دے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو شخص رمضان کے مہینے میں اپنی ذات کو محفوظ رکھتا ہے ، اور اس مہینے میں کوئی نشہ آور چیز نہیں پیتا ہے ، اور اس مہینے میں کسی مؤمن پر کوئی بہتان نہیں لگاتا ہے ، اور اس مہینے میں کوئی خطا نہیں کرتا ہے ، تو اللہ تعالی ہر ایک رات میں اس کی شادی ایک سو حوروں کے ساتھ کرتا ہے ، اور اس کے لئے جنت میں سونے چاندی یاقوت اور زبرجد کا بنا ہوا محل بنا دیتا ہے ، اگر تمام دنیا کو اکھٹا کر کے اس محل میں رکھا جائے ، تو وہ اس میں یوں ہوں گے ، جس طرح دنیا میں ایک بکری کے باندھنے کی جگہ ہوتی ہے اور جو شخص اس مہینے میں کوئی نشہ آور چیز پی لے یا اس میں کسی مؤمن پر بہتان لگا دے یا اس میں کوئی گناہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے عمل کو ضائع کر دیتا ہے ، تو تم رمضان کے مہینے میں بچ کے رہو کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے تم اس میں کوئی کوتاہی نہ کرو ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گیارہ مہینے مقرر کیے ہیں جن میں تم نعمتیں حاصل کرو اور لذتیں حاصل کرو اور رمضان کے مہینے کو اپنی ذات کے لئے مخصوص کیا ہے ، تو رمضان کے مہینے کے معاملے میں تم احتیاط سے کام لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل ہے وہ یہ فرماتے ہیں : امام اوزاعی کے حوالے سے اس روایت کو صرف أحمد بن ابیض نے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4796
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4797
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أُمَّتِي لَمْ يُخْزَوْا مَا أَقَامُوا شَهْرَ رَمَضَانَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا خِزْيُهُمْ فِي إِضَاعَةِ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : " انْتِهَاكُ الْمَحَارِمِ فِيهِ ; مَنْ زَنَا فِيهِ ، أَوْ شَرِبَ فِيهِ خَمْرًا لَعَنَهُ اللَّهُ وَمَنْ فِي السَّمَاوَاتِ إِلَى مِثْلِهِ مِنَ الْحَوْلِ ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ فَلَيْسَتْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنَةٌ يَتَّقِي بِهَا النَّارَ ، فَاتَّقُوا شَهْرَ رَمَضَانَ ; فَإِنَّ الْحَسَنَاتِ تُضَاعَفُ فِيهِ مَا لَا تُضَاعَفُ فِيمَا سِوَاهُ ، وَكَذَلِكَ السَّيِّئَاتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو طَيْبَةَ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَلَمْ يَكُنْ مِمَّنْ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ ، وَلَكِنَّهُ نُسِبَ إِلَى الْوَهْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت اس وقت تک رسوائی کا شکار نہیں ہو گی جب تک وہ رمضان کے مہینے کو قائم رکھیں گے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! رمضان کے مہینے کو ضائع کرنے کی صورت میں ان کی رسوائی کیا ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ اس میں وہ حرمتوں کو پامال کریں جو شخص اس مہینے میں زنا کرے گا یا اس میں شراب پیے گا اللہ تعالیٰ آسمانوں میں موجود تمام مخلوق اگلے سال اس وقت تک اس پر لعنت کرتے رہیں گے اور اگر وہ اگلا رمضان پانے سے پہلے انتقال کر جائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی صورت نصیب نہیں ہو گی جس کے ذریعے سے وہ جہنم سے بچ سکے تو تم رمضان کے مہینے کے بارے میں احتیاط کرو کیونکہ اس میں نیکیاں دگنی کر دی جاتی ہیں جو اس کے علاوہ کسی اور مہینے میں نہیں کی جاتی ہیں اور برائیوں کا معاملہ بھی اسی طرح ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سلیمان ابوطیبہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا ہے ، تاہم اس کی نسبت وہم کی طرف کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4797
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (697)»