کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: برکت والے مہینوں اور رمضان کے مہینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4789
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجِنَانِ كُلُّهَا ، فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ ، وَغْلِقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ إِلَى آخِرِ الشَّهْرِ ، وَسُلْسِلَتْ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ يُعْتِقُهُمْ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب رمضان کا مہینہ آتا ہے ، تو جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور مہینے کے آخر تک ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور مہینے کے آخر تک ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور سرکش شیاطین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے ، اور ہر افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد ہونے والے کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں وہ جہنم سے آزاد کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4790
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا اسْتَقْبَلَكُمْ ؟ وَمَاذَا تَسْتَقْبِلُونَ ؟ " ثَلَاثًا . قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَوَحْيٌ نَزَلَ أَمْ عَدُوٌ حَضَرَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ لِكُلِّ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ " . قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَهُوَ يَهُزُّ رَأْسَهُ : بَخٍ بَخٍ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنَّهُ ضَاقَ صَدْرُكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَلَكِنْ ذَكَرْتُ الْمُنَافِقَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُنَافِقُ كَافِرٌ ، وَلَيْسَ لِكَافِرٍ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ ; وَلَمْ أَجِدْ لَهُ رَاوٍ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ حَمْزَةَ كَمَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے کیا چیز تمہارے سامنے آ رہی ہے ، اور تم کس چیز کا استقبال کرنے لگے ہو ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا کوئی وحی نازل ہوئی ہے ، یا دشمن آنے والا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ رمضان کے مہینے کی پہلی رات میں اس قبلہ والے تمام افراد کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک صاحب جو آپ کے پاس موجود تھے انہوں نے سر کو ہلاتے ہوئے کہا: بہت خوب بہت خوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شاید تم کسی پریشانی کا شکار ہوئے ہو اس نے عرض کی : جی نہیں ، لیکن مجھے ایک منافق کا خیال آ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منافق کافر ہوتا ہے ، اور کافر کو اس میں سے کچھ نہیں ملتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلف ابوربیع ہے میں نے عمرو بن حمزہ کے علاوہ اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے جیسا کہ یہ بات ابن ابوحاتم نے ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلف ابوربیع ہے میں نے عمرو بن حمزہ کے علاوہ اور کسی کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں پایا ہے جیسا کہ یہ بات ابن ابوحاتم نے ذکر کی ہے ۔
حدیث نمبر: 4791
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكِرُ اللَّهِ فِي رَمَضَانَ مَغْفُورٌ لَهُ ، وَسَائِلُ اللَّهِ لَا يَخِيبُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رمضان میں اللہ کا ذکر کرنے والے شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے والا شخص رسوا نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4792
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي إِنْصَاتٍ وَسُكُونٍ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ، أَوْ زَبَرْجَدَةٍ خَضْرَاءَ " . ¤ وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص خاموشی اور سکون کے ساتھ رمضان کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت یا سبز زبرجد کا گھر بنا دیا جاتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید ہے ، جسے امام ابن ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 4793
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عُتَقَاءَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ - يَعْنِي فِي رَمَضَانَ - وَإِنَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص خاموشی اور سکون کے ساتھ رمضان کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت یا سبز زبرجد کا گھر بنا دیا جاتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید ہے ، جسے امام ابن ابوحاتم نے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر دن اور رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو آزاد کیا جاتا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ رمضان میں ایسا ہوتا ہے ، ” اور ہر دن اور ہر رات میں ہر مسلمان کی دعا مستجاب ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4794
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلَّهِ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ہر افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو ( جہنم سے ) آزاد کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔