کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: برکت والے مہینوں اور رمضان کے مہینے کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رجب کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے ” اے اللہ ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت رکھ دے اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورقاد ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابورقاد ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيِّدُ الشُّهُورِ شَهْرُ رَمَضَانَ ، وَأَعْظَمُهَا حُرْمَةً ذُو الْحِجَّةِ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے ، اور تمام مہینوں میں سب سے زیادہ حرمت والا ذوالج ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ الْمَلَائِكَةِ ؟ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ . وَأَفْضَلُ النَّبِيِّينَ ؟ آدَمُ . وَأَفْضَلُ الْأَيَّامِ ؟ يَوْمُ الْجُمُعَةِ . وَأَفْضَلُ الشُّهُورِ ؟ شَهْرُ رَمَضَانَ . وَأَفْضَلُ اللَّيَالِي ؟ لَيْلَةُ الْقَدْرِ . وَأَفْضَلُ النِّسَاءِ ؟ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں فرشتوں میں سے افضل کے بارے میں نہ بتاؤں وہ جبرائیل ہیں ، انبیاء میں افضل سیدنا آدم علیہ السلام ہیں دنوں میں افضل جمعہ کا دن ہے مہینوں میں افضل رمضان کا مہینہ ہے راتوں میں افضل شب قدر ہے ، اور خواتین میں افضل مریم بنت عمران ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَيِّدُ الشُّهُورِ شَهْرُ رَمَضَانَ ، وَسَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے ، اور تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ : خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمُ الْحِيتَانُ حَتَّى يُفْطِرُوا ، وَيُزَيِّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّتَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يُوشِكُ عِبَادِي الصَّالِحُونَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمُ الْمُؤْنَةَ [ وَالْأَذَى ] وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ فَلَا يَخْلُصُونَ فِيهِ إِلَى مَا كَانُوا يَخْلُصُونَ إِلَيْهِ فِي غَيْرِهِ ، وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؟ قَالَ : " لَا " ، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رمضان میں میری امت کو پانچ خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئی ہیں روزے دار کی منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے ، اور مچھلیاں ان لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کرتی ہیں جب تک وہ افطار نہیں کر لیتے اور اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کو آراستہ کرتا ہے ، اور پھر یہ فرماتا ہے عنقریب میرے نیک بندے ان سے پریشانی اور تکلیف ختم ہو جائے گی ، اور وہ تمہاری طرف آ جائیں گے اور رمضان میں شیاطین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے ، اور اس مہینے میں کھلا نہیں چھوڑا جاتا جس طرح دوسرے مہینے میں چھوڑا جاتا ہے ، اور رمضان کی آخری رات میں لوگوں کی مغفرت ہو جاتی ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا وہ شب قدر ہوتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ، لیکن جب عمل کرنے والا اپنا کام مکمل کر لے تو اسے اس کا معاوضہ دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ لَمَحْلُوفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] مَا أَتَى عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ ، وَلَا أَتَى عَلَى الْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ ، وَذَلِكَ لِمَا يُعِدُّ الْمُؤْمِنُونَ فِيهِ مِنَ الْقُوَّةِ لِلْعِبَادَةِ ، وَمَا يُعِدُّ الْمُنَافِقُونَ فِيهِ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِهِمْ ، هُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغْتَبِنُهُ الْفَاجِرُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر قسم اٹھائی تھی ) کہ مسلمانوں پر ایسا کوئی زمانہ نہیں آیا جو ان کے لئے رمضان سے زیادہ بہتر ہو ، اور منافقین کے لئے کوئی مہینہ نہیں آتا جو رمضان کے مہینے سے زیادہ برا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے میں مؤمن عبادت کے لئے قوت تیار کرتا ہے ، اور منافق اس مہینے میں غفلت اور لوگوں کے پوشیدہ معاملات کے حوالے سے تیاری کرتا ہے ، تو یہ مہینہ مومنین کے لئے غنیمت والا ہے ، اور فاجر شخص اس کے حوالے سے دھوکے کا شکار ہوتا ہے “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ ، وَيَكْتُبَ أَجْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قِبَلِ أَنْ يُدْخِلَهُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى ابْنِ رُمَّانَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى ابْنِ رُمَّانَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس ( مومن ) کے اجر اور اس کے نوافل کو اس مہینے میں داخل ہونے سے پہلے ہی نوٹ کر لیتا ہے ، اور اس ( منافق ) کے اجر اور اس کی بدنصیبی کو اس مہینے کے داخل ہونے سے پہلے ہی نوٹ کر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابن رمانہ کے غلام تمیم کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابن رمانہ کے غلام تمیم کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنِ [ ابْنِ ] مَسْعُودٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يَقُولُ - وَقَدْ أَهَلَّ رَمَضَانُ - : " لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِي رَمَضَانَ لَتَمَنَّتْ أُمَّتِي أَنْ تَكُونَ السَّنَةُ كُلُّهَا رَمَضَانَ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ : حَدِّثْنَا بِهِ ! قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَيَّنُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى الْحَوْلِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمِ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقُ الْجَنَّةِ ، فَنَظَرَ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَقُلْنَ : يَا رَبِّ ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ وَتَقَرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا ، فَمَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ رَمَضَانَ إِلَّا زُوِّجَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ مِمَّا نَعَتَ اللَّهُ : ( حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ) عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ حُلَّةً لَيْسَ فِيهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى ، وَتُعْطَى سَبْعِينَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ لَيْسَ مِنْهَا لَوْنٌ عَلَى رِيحِ الْآخَرِ ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ سَرِيرًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ مُوَشَّحَةٍ بِالدُّرِّ ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، وَفَوْقَ السَّبْعِينَ فِرَاشًا سَبْعُونَ أَرِيكَةً ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ أَلْفَ وَصِيفَةٍ لِحَاجَاتِهَا ، وَسَبْعُونَ أَلْفَ وَصَيْفٍ مَعَ كُلِّ وَصَيْفٍ صَحْفَةٌ مَنْ ذَهَبٍ فِيهَا لَوْنُ طَعَامٍ يَجِدُ لِآخَرِ لُقْمَةٍ مِنْهُ لَذَّةً لَا يَجِدُ لِأَوَّلِهِ ، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٍ بِيَاقُوتٍ أَحْمَرَ ، هَذَا لِكُلِّ يَوْمٍ صَامَ رَمَضَانَ سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اس وقت رمضان کا چاند نظر آ گیا تھا آپ نے فرمایا : ” اگر بندوں کو یہ پتہ چل جائے کہ رمضان میں ( کیا اجر و ثواب اور فضیلت ) ہوتی ہے ، تو میری امت یہ آرزو کرے کہ پورا سال رمضان رہے خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : آپ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رمضان کے لئے جنت سال کے آغاز سے لے کے اگلے سال تک آراستہ ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب رمضان کا پہلا دن آتا ہے ، تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے ، جس کی وجہ سے جنت کے پتے ملتے ہیں حورعین ان کی طرف دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اس مہینے میں تو اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے شوہر مقرر کر دے جن کے ذریعے آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمارے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو جو بھی بندہ رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کی شادی حورعین سے تعلق رکھنے والی ایک بیوی کے ساتھ کر دی جاتی ہے ، جو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے خیمے کے اندر موجود ہوتی ہے ، جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کی ہے : ” وہ حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں“ ۔ ان میں سے ہر ایک نے ستر حلے پہنے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے کسی ایک حلے کا رنگ دوسرے سے ملتا نہیں ہے ، اور اسے ستر مختلف قسم کی خوشبو دی گئی ہوتی ہے کہ ایک خوشبو کسی دوسری سے نہیں ملتی ہے ، ان میں سے ہر ایک عورت کے لئے ستر پلنگ ہوتے ہیں جو سرخ یاقوت سے بنے ہوتے ہیں اور قیمتی پتھروں سے آراستہ ہوتے ہیں ہر پلنگ پر ستر پچھونے ہوتے ہیں جن کا استر ، استبرق کا ہوتا ہے ، اور ستر بچھونوں کے اوپر ستر تکیے ہوتے ہیں ان میں سے ہر عورت کے ستر ہزار ملازمین ہوتے ہیں جو اس کے کام کاج کے لئے مخصوص ہوتے ہیں اور ستر ہزار ملازمین میں سے ہر ایک ملازم کے پاس سونے کا بنا ہوا پیالہ ہوتا ہے ، جن میں سے ہر ایک میں مختلف قسم کا کھانا ہوتا ہے ، اور وہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اس کے آخری ( یا دوسرے ) لقے میں وہ لذت پاتا ہے ، جو اس سے پہلے میں نہیں ملی ہوتی اور اس کے شوہر کو بھی سرخ یاقوت کے پلنگ دیے جاتے ہیں اور اس کے شوہر کو سونے کے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے جو سرخ یاقوت سے سجے ہوئے ہوں گے اور ایسا اس شخص کے لئے رمضان کے ہر اس دن کے بدلے میں ہوتا ہے ، جس میں اس نے روزہ رکھا ہو ، اس کے علاوہ جو اس نے نیکیاں کی ہوں گی وہ اس کے علاوہ ہیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ - وَقَدْ أَهَلَّ شَهْرُ رَمَضَانَ - : " لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَتَمَنَّى الْعِبَادُ أَنْ يَكُونَ شَهْرُ رَمَضَانَ سَنَةً " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنَا ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَتُزَيَّنُ لِشَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقُ الْجَنَّةِ فَنَظَرَتِ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَقُلْنَ : يَا رَبِّ ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ وَتَقَرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ صَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِلَّا زَوَّجَهُ اللَّهُ زَوْجَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ مِمَّا نَعَتَ اللَّهَ بِهِ الْحُورَ الْعِينَ الْمَقْصُورَاتِ فِي الْخِيَامِ ، عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ حُلَّةً لَيْسَ مِنْهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى ، وَتُعْطَى سَبْعِينَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ لَيْسَ مِنْهُنَّ لَوْنٌ يُشْبِهُ الْآخَرَ ، وَكُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتٍ مُوَشَّحٍ بِالدُّرِّ ، عَلَى سَبْعِينَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، وَفَوْقَ السَّبْعِينَ فِرَاشًا سَبْعُونَ أَرِيكَةً ، وَلِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ وَصِيفًا لِخِدْمَتِهَا ، وَسَبْعُونَ لِلُقْيِهَا زَوْجَهَا ، مَعَ كُلِّ وَصَيْفٍ صَحْفَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا لَوْنٌ مِنَ الطَّعَامِ يَجِدُ لِآخِرِهِ مِنَ اللَّذَّةِ مِثْلَ الَّذِي لِأَوَّلِهِ ، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٍ بِالْيَاقُوتِ الْأَحْمَرِ ، هَذَا لِكُلِّ يَوْمٍ صَامَهُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اس وقت رمضان کا چاند نظر آ گیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اگر بندوں کو پتہ چل جائے کہ رمضان کے مہینے میں ( کیا اجر و ثواب اور نعمتیں ) حاصل ہوتے ہیں تو بندے یہ آرزوں کریں کہ پورا سال رمضان رہے خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بیان کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک جنت رمضان کے لئے مہینے کے لئے سال کے آغاز سے لے کر اگلے سال کے آغاز تک آراستہ ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب ( رمضان کی ) پہلی رات آتی ہے ، تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے ، جس سے جنت کے پتے ہلنے لگتے ہیں حورعین ان کی طرف دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں : اے ہمارے پروردگار اس مہینے میں تو اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے ایسے شوہر مقرر کر دے کہ ان کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمارے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جو بھی بندہ رمضان کے مہینے کے روزے رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ ہر دن کے بدلے میں اس کی شادی ایک زوجہ کے ساتھ کروا دیتا ہے ، جس کا تعلق حورعین کے ساتھ ہوتا ہے ، اور وہ کھوکھلے موتی کے بنے ہوئے خیمے میں رہتی ہے ، جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کی ہے : ” وہ حورعین ہیں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں“ ۔ ان میں سے ہر ایک عورت نے ستر حلے پہنے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے ہر حلے کا رنگ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ، اور اس عورت کو ستر مختلف قسم کی خوشبوئیں دی گئی ہوتی ہیں جن میں سے ہر ایک کی خوشبو دوسری سے مختلف ہوتی ہے ، ان میں سے ہر ایک عورت یاقوت کے بنے ہوئے پلنگ پر موجود ہوتی ہے ، جو قیمتی پتھروں سے آراستہ ہوتا ہے ، اور اس پر ستر بچھونے ہوتے ہیں جن کا استر ، استبرق کا ہوتا ہے ، اور ان ستر بچھونوں پر ستر تکیہ ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک عورت کے ستر ملازمین ہوتے ہیں جو اس کی خدمت کے لئے مخصوص ہیں اور ستر اس کے شوہر کی خدمت کے لئے مخصوص ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک ملازم کے پاس سونے کا پیالہ ہوتا ہے ، جس میں مختلف قسم کے کھانے موجود ہوتے ہیں اس کے آخری لقمے میں بھی وہی لذت آتی ہے جو پہلے لقمے میں آتی ہے اس کے شوہر کو بھی اس کی مانند سرخ یاقوت سے بنا ہوا پلنگ دیا جائے گا ، اور اسے سونے کے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے جو سرخ یاقوت سے آراستہ ہوں گے ایسا ہر اس دن میں ہوتا ہے کہ رمضان کے مہینے کے جس دن میں آدمی نے روزہ رکھا ہو اس نے اس کے علاوہ جو نیکیاں کی ہوں ان کا اجر مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیاج بن بسطام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمًا وَحَضَرَ رَمَضَانَ : " أَتَاكُمْ رَمَضَانُ ، شَهْرُ بَرَكَةٍ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ فِيهِ ، فَيُنْزِلُ الرَّحْمَةَ وَيَحُطُّ الْخَطَايَا ، وَيَسْتَجِيبُ فِيهِ الدُّعَاءَ ، يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى تَنَافُسِكُمْ ، وَيُبَاهِي بِكُمْ مَلَائِكَتَهُ ، فَأَرُوا اللَّهَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خَيْرًا ، فَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ حُرِمَ فِيهِ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس دن رمضان آ چکا تھا : ” تمہارے پاس رمضان آ چکا ہے جو برکت والا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں بے نیاز کر دے گا وہ رحمت کو نازل کرتا ہے ، اور خطائیں مٹا دیتا ہے ، اور اس مہینے میں دعا کو قبول کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہاری رغبت کی طرف دیکھتا ہے ، اور فرشتوں کے سامنے تم لوگوں کے حوالے سے فخر کا اظہار کرتا ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کے حوالے سے بھلائی دکھاؤ کیونکہ وہ شخص بدنصیب ہے ، جو اس میں اللہ کی رحمت سے محروم رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوقیس ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوقیس ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَتُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأَسِ الْحَوْلِ إِلَى الْحَوْلِ الْمُقْبِلِ ، فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقُ الْجَنَّةِ ، وَيَجِيءُ الْحُورُ الْعِينُ يَقُلْنَ : يَا رَبِّ ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرُّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا ، وَتَقَرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقَلَانِسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقَلَانِسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت رمضان کے لئے سال کے آغاز سے لے کر اگلے سال تک آراستہ ہوتی رہتی ہے ، جب رمضان کے مہینے کا پہلا دن آتا ہے ، تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے ، جو جنت کے پتوں کو ہلاتی ہے پھر حورعین آتی ہیں اور یہ کہتی ہیں : اے ہمارے پروردگار ! تو اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے شوہر مقرر کر دے جن کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمارے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید قلانسی ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید قلانسی ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مُحْتَسِبًا كَانَ لَهُ بِصَوْمِهِ مَا لَوْ أَنَّ أَهْلَ الدُّنْيَا اجْتَمَعُوا مُنْذُ كَانَتِ الدُّنْيَا إِلَى أَنْ تَنْقَضِيَ لَأَوْسَعَهُمْ طَعَامًا وَشَرَابًا لَا يَطْلُبُ إِلَى أَهْلِ [ الْجَنَّةِ ] شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقَلَانِسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقَلَانِسِيُّ ; وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے مہینے میں ایک روزہ رکھتا ہے ، تو اس کے عوض میں وہ کچھ ملتا ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے لے کر اس دنیا کے ختم ہونے تک اگر تمام اہل دنیا اکٹھے ہو جائیں تو وہ ان سب کے کھانے پینے کا بندوبست کر سکتا ہے وہ اس سلسلے میں اہل جنت میں سے کسی سے کوئی چیز نہیں مانگے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید قلانسی ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن ولید قلانسی ہے ، جسے ابوحاتم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صِيَامُ رَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرَيْظٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ : يَرْوِي عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرَيْظٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ : يَرْوِي عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رمضان کے روزے اگلے رمضان تک کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قریظ ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے وہ فرماتے ہیں یحیی بن ایوب نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قریظ ہے جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے وہ فرماتے ہیں یحیی بن ایوب نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ : " إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَا تُغْلَقُ إِلَى آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا : ” رمضان کے مہینے کی پہلی رات میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس کی آخری رات تک انہیں بند نہیں کیا جاتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَ ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ ، بُعْدًا لِمَرْءٍ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، إِذَا لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فِيهِ فَمَتَى ؟ ! " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ رمضان آ گیا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور اس میں شیاطین کو بند کر دیا جاتا ہے ، تو وہ شخص دور ہو جائے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی مغفرت نہ ہو اگر اس کی مغفرت اس مہینے میں نہیں ہو گی تو پھر کب ہو گی ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔