حدیث نمبر: 4003
وَعَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَالَ : " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ ؟ " قَالُوا : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ . فَقَالَ : الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ ، الرَّقُوبُ كُلُّ الرُّقُوبِ ، الرَّقُوبُ كُلُّ الرُّقُوبِ الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا " ، قَالَ : " تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ ؟ " قَالُوا : الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ . قَالَ : " الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا الصُّرَعَةُ ؟ " قَالُوا : الصَّرِيعُ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ الرَّجُلُ الَّذِي يَغْضَبُ ; فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ ، وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ ، فَيَصْرَعُهُ غَضَبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو حِصْنَةَ - أَوِ ابْنُ حِصْنَةَ - قَالَ الْحُسَيْنِيُّ : مَجْهُولٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک صاحب ، جو اس وقت موجود تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ رقوب سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ شخص جس کی کوئی اولاد نہ ہو ( یا جس کی اولاد زندہ نہ رہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ رقوب جو مکمل رقوب ہو وہ رقوب جو مکمل رقوب ہو وہ رقوب جو مکمل رقوب ہو وہ ایسا شخص ہے کہ جس کی اولاد ہوئی ہو ، اور اس کا ایسی حالت میں انتقال ہو جائے کہ اس کی اولاد میں سے کوئی بھی فوت نہ ہوا ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو صعلوک ( یعنی کنگال ) سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا صعلوک جو مکمل صعلوک ہو ایسا صعلوک جو مکمل صعلوک ہو ایسا صعلوک جو مکمل صعلوک ہو اس سے مراد وہ شخص ہے ، جس کے پاس مال موجود ہو ، اور وہ ایسی حالت میں مر جائے کہ اس نے اس مال میں سے کچھ بھی آگے نہ بھیجا ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پچھاڑ دینا ( یا پہلوانی ) کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : پچھاڑ دینا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا پچھاڑ دینا جو مکمل پچھاڑ دینا ہو ایسا پچھاڑ دینا جو مکمل پچھاڑ دینا ہو ایسا پچھاڑ دینا جو مکمل پچھاڑ دینا ہو یہ اس شخص کا ہے ، جو غصہ کرے اور اس کا غصہ شدید ہو جائے اور اس کا چہرہ سرخ ہو جائے اور اس کی جلد پھڑک رہی ہو ، اور پھر وہ اپنے غصے کو پچھاڑ دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصنہ ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ابن حصنہ ہے حسینی فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4003
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف