حدیث نمبر: 4001
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَجْلِسٍ مَنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلَمَةَ ، مَا الرَّقُوبُ فِيكُمْ ؟ " قَالَ : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ . قَالَ : " بَلْ هُوَ الَّذِي لَا فَرَطَ لَهُ " . قَالَ : " مَا الْمُعْدَمُ فِيكُمْ ؟ " . قَالُوا : الَّذِي لَا مَالَ لَهُ . قَالَ : " بَلْ هُوَ الَّذِي يَقْدَمُ وَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنوسلمہ کی ایک محفل کے پاس آ کر ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے بنوسلمہ تمہارے درمیان رقوب کسے کہا: جاتا ہے ایک شخص نے بتایا اس کو جس کا بچہ زندہ نہ رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ رقوب وہ ہوتی ہے کہ جس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے درمیان معدم کسے کہا: جاتا ہے لوگوں نے کہا: اس شخص کو جس کا مال نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے ، جس نے آگے کچھ نہ بھیجا ہو ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے لئے کوئی بھلائی نہ ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح