حدیث نمبر: 3744
وَعَنْ مُسْلِمٍ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ الضَّمْرِيِّ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " مَنْ يُحِبُّ أَنْ يَصِحَّ فَلَا يَسْقَمُ ؟ " فَابْتَدَرْنَا فَقُلْنَا : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَرَفْنَاهَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا كَالْحَمِيرِ الضَّالَّةِ ؟ " قَالُوا : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا أَصْحَابَ كَفَّارَاتٍ ؟ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ إِنَّ اللَّهَ يَبْتَلِي الْمُؤْمِنَ بِالْبَلَاءِ وَمَا يَبْتَلِيهِ بِهِ إِلَّا لِكَرَامَتِهِ عَلَيْهِ ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَنْزَلَهُ مَنْزِلَةً لَمْ يَبْلُغْهَا بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ فَيَبْتَلِيهِ مِنَ الْبَلَاءِ مَا يُبَلِّغُهُ تِلْكَ الدَّرَجَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ : وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

مسلم ، جو زبیر کے آزاد کردہ غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں عبداللہ بن ایاس بن ابوفاطمہ ضمری کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے منقول یہ حدیث بیان کی وہ ( یعنی ان کے دادا ) بیان کرتے ہیں : ” میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے دریافت کیا : کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ تندرست رہے بیمار نہ ہو ؟ تو ہم نے جلدی کی ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسا چاہتے ہیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کا احساس ہوا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم گمشدہ گدھے کی مانند ہو جاؤ ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے ہو کہ تم ایسے ہو جاؤ کہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے اللہ تعالیٰ مؤمن کو آزمائش کا شکار کرتا ہے ، اور وہ اسے اس آزمائش کا شکار اس لئے کرتا ہے تاکہ اس پر اپنا کرم کرے اور اللہ تعالیٰ اسے ایک مخصوص مقام پر فائز کرنا چاہتا ہے اس مقام تک وہ شخص اپنے کسی عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ، اور وہ آزمائش اس شخص کو اس درجہ تک پہنچا دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، البتہ ابن عدی یہ کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3744
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف