عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى فَاطِمَةَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوْنًا مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا وَقَالَ : " قُومَا فَصَلِّيَا " قَالَ : فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرِكُ عَيْنِي وَأَنَا أَقُولُ : إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا قَالَ : فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخْذِهِ : " مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا ، وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا " .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عُبَادَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
ٌ .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عُبَادَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
ٌ .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر چلے گئے ، آپ رات کا کچھ حصہ نماز ادا کرتے رہے ، لیکن آپ کو ہماری طرف سے کوئی آہٹ سنائی نہیں دی ، تو آپ ہمارے پاس واپس آئے اور آپ نے ہمیں بیدار کیا اور ارشاد فرمایا : تم دونوں اٹھ کر نماز ادا کر لو ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آنکھیں مل کر بیٹھ گیا ، اور میں یہ کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم ! بے شک ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نصیب میں لکھی ہے ، کیونکہ ہماری جانیں ، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، جب وہ ہمیں دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے ، ہمیں زندہ ( یعنی بیدار ) کر دیتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مڑ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے : ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے ، جو ہمارے نصیب میں لکھی ہے ، ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے ، جو ہمارے نصیب میں لکھی ہے ” بے شک انسان بہت زیادہ بحث کرنے والا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حکیم بن عبادہ ہے ، جسے ابن سعد نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حکیم بن عبادہ ہے ، جسے ابن سعد نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْتَيْقِظُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُوقِظُ امْرَأَتَهُ فَإِنْ غَلَبَهَا النَّوْمُ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا مِنَ الْمَاءِ فَيَقُومَانِ فِي بَيْتِهِمَا فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيف
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيف
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رات کے وقت بیدار ہوتا ہے ، اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے ، اور اگر اُس عورت پر نیند غالب ہو ، تو اُس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتا ہے ، پھر وہ دونوں اُٹھ کر اپنے گھر میں نماز ادا کرتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کا رات کی گھڑی میں ذکر کرتے ہیں ، تو ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔