حدیث نمبر: 3581
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سوتے تھے ، تو مسواک آپ کے پاس موجود ہوتی تھی ، جب بھی آپ بیدار ہوتے تھے ، تو سب سے پہلے مسواک کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3582
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ اسْتَنْجَى وَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ ثُمَّ يَبْعَثُ يَطْلُبُ الطِّيبَ فِي رَبَاعِ نِسَائِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے ، تو استنجاء کرتے تھے ، پھر وضو کرتے تھے ، اور مسواک کرتے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے گھر میں خوشبو طلب کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3583
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : ذُكِرَ النَّوْمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نَامُوا فَإِذَا انْتَبَهْتُمْ فَاسْتَنُّوا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیند کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سو جاؤ ! اور جب تم بیدار ہو ، تو مسواک کرو ! “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3584
وَعَنْ رَبِيعَةَ الْجَرْشِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ وَبِمَا كَانَ يَسْتَفْتِحُ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا وَيُهَلِّلُ عَشْرًا وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي " عَشْرًا ، وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّيقِ يَوْمَ الْحِسَابِ " عَشْرًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ربیعہ جرشی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے ، تو آپ کیا پڑھتے تھے ؟ اور آپ کسی چیز کے ذریعے آغاز کرتے تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله اكبر» ، دس مرتبہ «الحمدلله» ، دس مرتبہ «لا اله الا الله» ، دس مرتبہ «استغفرالله» پڑھتے تھے ، پھر یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ، تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ ، اور تو مجھے رزق عطا فرما “ ۔ ( یہ مذکورہ بالا کلمہ ) دس مرتبہ پڑھتے تھے : اور یہ ( درج ذیل کلمہ ) پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! میں حساب کے دن تنگی سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں “ ۔ یہ بھی دس مرتبہ پڑھتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3585
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [حَنِيفًا]فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ فَاهُ ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِائَةَ مَرَّةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ إِلَّا الدِّمَاءَ وَالْأَمْوَالَ فَإِنَّهَا لَا تَبْطُلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ” حنیف “ میں موجود تھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص رات کے وقت اٹھ کر وضو کرے اور اپنے منہ میں کلی کرے اور پھر یہ پڑھے : «سبحان الله» ایک سو مرتبہ ، «الحمدلله» ایک سو مرتبہ ، اللہ اکبر ایک سو مرتبہ ، ل «ا اله الا الله» ایک سو مرتبہ ، تو اُس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ، البتہ قتل ، یا مال ہتھیانے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ یہ کالعدم نہیں ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن بن عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن بن عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3586
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَضَعْ عَنْ يَمِينِهِ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَإِذَا انْتَبَهَ فَلْيُحَصِّبْ عَنْ شِمَالِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ ، وَكَذَلِكَ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَاهُ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص رات کے وقت سونے لگے ، اور اُس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ رات کے وقت نماز ادا کرے گا ، تو اُسے اپنے دائیں طرف مٹھی بھر مٹی رکھنی چاہیے ، اگر وہ بیدار ہو جائے ، تو پھر اپنے بائیں طرف کنکریاں رکھنی چاہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے امام أحمد نے ، ایک روایت کے مطابق ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے ایسا ہی کیا ہے ، ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ ، امام مسلم اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ، جسے امام أحمد نے ، ایک روایت کے مطابق ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین نے ایسا ہی کیا ہے ، ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ ، امام مسلم اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 3587
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ فَإِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَيَقُولُ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - الَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری اُمت سے تعلق رکھنے والے دو قسم کے افراد ہیں ، اُن میں سے ایک رات کے وقت اٹھتا ہے ، اور اپنے آپ کو طہارت کے لئے تیار کرتا ہے ، اس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ، وہ وضو کرتا ہے ، جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وہ اپنے سر پر مسح کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وہ اپنے پاؤں پر وضو کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، تو حجاب کے پیچھے سے میرا پروردگار فرماتا ہے : میرے بندے کی طرف دیکھو ! جو اپنے آپ کو اس چیز کے لئے تیار کر رہا ہے ، میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا ، وہ اُس کو ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔