کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص سوئے ، یہاں تک کہ صبح تک سویا رہے
حدیث نمبر: 3574
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ فَإِنِ اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَذَكَرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : " وَأَصْبَحَ نَشِيطًا قَدْ أَصَابَ خَيْرًا فَإِنْ هُوَ نَامَ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ أَصْبَحَ عَلَيْهِ عُقَدُهُ ثَقِيلًا وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " وَإِنِ اسْتَيْقَظَ قَالَ لَهُ الشَّيْطَانُ : عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ ارْقُدْ فَيَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ الْجَرِيرَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو بھی مذکر یا مونث جب سوتا ہے ، تو اس کے سر پر ایک رسی باندھ دی جاتی ہے ، جس میں تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں ، اگر کوئی شخص بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، اگر وہ اُٹھ کر وضو کرے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے ، اور اگر وہ اُٹھ کر نماز کی طرف جائے ، تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور وہ چاق و چوبند حالت میں ہوتا ہے کہ اس نے بھلائی حاصل کر لی ہوتی ہے ، اور اگر وہ سویا رہے ، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے ، یہاں تک کہ صبح ہو جائے ، تو اُس کی گرہیں بوجھل ہو جاتی ہیں “ ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اگر وہ بیدار ہو جائے ، تو شیطان اس سے کہتا ہے : آرام کرو رات بہت لمبی ہے سوئے رہو پھر شیطان اس پر گرہ لگا دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3574
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3575
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ بِجَرِيرٍ فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتِ الثَّانِيَةُ فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتِ الثَّالِثَةُ فَإِنِ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ الصُّبْحَ أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ - يَعْنِي الْجَرِيرَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مَرْفُوعًا بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب کوئی شخص سو جاتا ہے ، تو اس کے سر پر رسی سے گرہ لگا دی جاتی ہے ، اگر وہ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، اگر وہ جا کر وضو کرتا ہے ، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ، اور اگر وہ جا کر نماز ادا کرتا ہے ، تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے ، اور اگر وہ ایسی حالت میں صبح کرے کہ وہ رات کو بیدار ہی نہ ہوا ہو ، اور اُس نے صبح کی نماز ادا نہ کی ہو ، تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ رسی اُس پر ہوتی ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد وہ رسی تھی ۔ میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں ” مرفوع “ حدیث کے طور پر اختصار کے ساتھ منقول ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3576
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا أَوْ إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَصْبَحَ قَالَ : " بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ قَالَ الْحَسَنُ : إِنَّ بَوْلَهُ وَاللَّهِ ثَقِيلٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص صبح ہونے تک سویا رہتا ہے ، وہ نماز ادا نہیں کرتا ، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے ۔ حسن بصری کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس کا پیشاب وزنی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3576
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند ابى هريرة رضى الله عنه 9333»
حدیث نمبر: 3577
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلشَّيْطَانِ كَحُولًا وَلَعُوقًا فَإِذَا كَحَلَ الْإِنْسَانُ مِنْ كُحْلِهِ نَامَتْ عَيْنَاهُ عَنِ الذِّكْرِ ، وَإِذَا لَعِقَهُ مِنْ لَعُوقِهِ ذَرَّبَ لِسَانَهُ بِالشَّرِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ زَادَ فِيهِ : " إِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، وَإِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ " وَغَيْرُ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” شیطان کا سرمہ لگانا اور چاٹنا ہوتا ہے ، جب انسان اُس کا سرمہ لگاتا ہے ، تو اُس کی آنکھیں ذکر کو چھوڑ کر سو جاتی ہیں ، اور جب وہ اس کے چاٹے ہوئے میں سے چاٹتا ہے ، تو اُس کی زبان برائی پھیلاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس سے پہلے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث طہارت سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہے ، جس میں یہ مذکور ہے ، جب وہ اپنے ہاتھ کو دھوتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، جب وہ دوسرے ہاتھ کو دھوتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، اور اس طرح دیگر امور کا بیان ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3577
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 3578
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " إِذَا أَرَادَ الْعَبْدُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَقَالَ لَهُ : قُمْ فَقَدْ أَصْبَحْتَ فَصَلِّ وَاذْكُرْ رَبَّكَ ، فَيَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ : عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ وَسَوْفَ تَقُومُ ، فَإِنْ قَامَ فَصَلَّى أَصْبَحَ نَشِيطًا خَفِيفَ الْجِسْمِ قَرِيرَ الْعَيْنِ ، وَإِنْ هُوَ أَطَاعَ الشَّيْطَانَ حَتَّى أَصْبَحَ بَالَ فِي أُذُنِهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ هُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ فِي الْعِشَارِ فِي الزَّكَاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب بندہ رات کے وقت نماز ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ، اور کہتا ہے : تم اُٹھ جاؤ صبح ہونے والی ہے ، تم نماز ادا کرو اور اپنے پروردگار کا ذکر کرو ، شیطان اُس کے پاس آتا ہے ، اور کہتا ہے : ابھی رات بہت لمبی ہے ، آرام کرو ، تم تھوڑی دیر بعد اُٹھ جانا اگر وہ اُٹھ کر نماز ادا کر لے ، تو ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ چاک و چوبند ہوتا ہے ، اور اس کا جسم ہلکا پھلکا ہوتا ہے ، اور اُس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں ، اور اگر وہ شیطان کی اطاعت کر لے ، تو صبح ہونے پر شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” زکوۃ میں عشر وصول کرنے “ والے سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔