کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس شخص کے وتر رہ جائیں
حدیث نمبر: 3488
عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ فَلَمْ يُوتِرْ فَلَا وِتْرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَغْدَادِيِّ شَيْخِهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کو صبح ہو جائے ، اور اس نے وتر ادا نہ کیے ہوں ، تو اب اُس کے وتر نہیں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے صالح بن معاذ بغدادی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو ان کے استاد ہیں ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3488
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3489
وَعَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا الْوِتْرُ بِاللَّيْلِ " ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ قَالَ : " فَأَوْتِرْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَإِنْ كَانَ فِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اغرمزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! صبح ہو گئی اور میں وتر ادا نہیں کر پایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وتر رات میں ادا کیے جاتے ہیں ، اُس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! صبح ہو گئی اور میں وتر ادا نہیں کر پایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم وتر ادا کر لو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، لیکن وہ نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3490
وَعَنْ أَبِي نَهِيكٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ : أَنْ لَا وِتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرُوهَا فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصْبِحُ فَيُوتِرُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابونہیک بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : جس شخص کو صبح ( صادق ) ہو جائے اس کے وتر نہیں ہوتے ہیں ، اہل ایمان میں سے کچھ افراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح ( صادق ) کے وقت بھی وتر ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند الانصار الملحق المستدرك من مسند الانصار حديث السيدة عائشة رضى الله عنها 25520 المعجم الاوسط للطبراني باب الالف من اسمه احمد 2171 مصنف عبد الرزاق الصنعانى كتاب الصلاة ، باب فوت الوتر 4450 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصلاة جماع ابواب صلاة التطوع باب من اصبح ولم يوتر فليوتر ما بينه وبين ان يصلى ، 4195»
حدیث نمبر: 3491
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الْوِتْرُ بَعْدَ أَذَانِ الصُّبْحِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْأَذَانِ " قَالَ : وَكَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَالُوا : الْوِتْرُ بَعْدَ الْأَذَانِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْتِرُوا قَبْلَ الْأَذَانِ " فَقَالُوا الثَّالِثَةَ : الْوِتْرُ بَعْدَ الْأَذَانِ ؟ فَقَالَ : " أَوْتِرُوا بَعْدَ الْأَذَانِ " رَخَّصَ لَهُمْ . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي قَضَاءِ الْوِتْرِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! صبح کی اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذان سے پہلے وتر ادا کر لو ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صبح صادق ہو جانے کے بعد اذان دی جاتی تھی ، لوگوں نے عرض کی : اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذان سے پہلے وتر ادا کر لو ، لوگوں نے تیسری مرتبہ عرض کی : اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اذان کے بعد وتر ادا کر لو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو رخصت عطا کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد نے وتر کی قضاء کے بارے میں روایت کیا ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3491
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3492
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ وَكَانَ أَبِي يُوتِرُ قَبْلَ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صبح صادق ہو جانے کے بعد وتر ادا کرتے تھے ، اور میرے والد ( سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ) صبح صادق ہونے سے پہلے وتر ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3493
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا أُبَالِي أَنْ يُثَوِّبَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَأَنَا فِي وَرْدِي لَمْ أُوتِرْ بَعْدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَقَدْ أَفْتَى غَيْرُهُ بِذَلِكَ أَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن مسعود فرماتے ہیں : میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ فجر کی نماز کے لئے تثویب کہی جا رہی ہو اور میں اپنا ورد پڑھ رہا ہوں ، اور میں نے ابھی وتر ادا نہ کیے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور ان کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی یہ فتوی دیا ہے ، میری مراد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح