عنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَهُوَ عَلَى نَهَرِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُسِيلُ الْمَاءَ عَلَى غِلْمَتِهِ وَمَوَالِيهِ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : يَا أَبَا سَعِيدٍ الْجُمُعَةُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِذَا كَانَ مَطَرٌ وَابِلٌ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ " رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِيِ وِجَادَةَ ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ : لَيْسَ عِنْدَهُ غَيْرُهُ وَهُوَ ثِقَةٌ وَوَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ .
محمد محی الدین
عمار بن ابوعمار ، جو بنوہاشم کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ اُن کا گزر سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو ” نہر ام عبداللہ “ کے پاس موجود تھے ، وہ اپنے لڑکوں اور غلاموں پر پانی بہا رہے تھے ، عمار نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوسعید ! آج جمعہ ہے ، تو سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تیز بارش ہو رہی ہو ، تو آدمی کو اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لینی چاہیے “ ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد ( امام أحمد ) کے حوالے سے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن العلاء ہے ، جسے یحیی بن معین نے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک روایت کے مطابق اسے ضعیف قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ اور کوئی حدیث منقول نہیں ہے ، یہ شخص ” ثقہ “ ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد ( امام أحمد ) کے حوالے سے ” وجادہ “ کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن العلاء ہے ، جسے یحیی بن معین نے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک روایت کے مطابق اسے ضعیف قرار دیا ہے ، انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس کے حوالے سے اس روایت کے علاوہ اور کوئی حدیث منقول نہیں ہے ، یہ شخص ” ثقہ “ ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَا كَانَ لَنَا عِيدٌ إِلَّا فِي صَدْرِ النَّهَارِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ظِلِّ الْحَطِيمِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہماری عید صرف دن کے ابتدائی حصے میں ہوتی تھی ، مجھے اپنے بارے میں صرف یہ بات یاد ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ، حطیم کے سائے میں جمعہ ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔