حدیث نمبر: 3186
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ الْحَبْرَانِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ خَرَجَ فَدَارَ فِي السُّوقِ سَاعَةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهُ : لِمَ تَفْعَلُ هَذَا ؟ فَقَالَ : رَأَيْتُ سَيِّدَ الْمُسْلِمِينَ يَفْعَلُهُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَعَبْدُ اللَّهِ الْحِبْرَانِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن بسر حبرانی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا بسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب انہوں نے نماز ادا کی ، تو وہ نکلے انہوں نے بازار کا ایک چکر لگایا ، پھر وہ واپس مسجد کی طرف آ گئے ، اُن سے دریافت کیا گیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے مسلمانوں کے سردار کو ایسے کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور عبداللہ حبرانی نامی راوی کو یحیی القطان نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور عبداللہ حبرانی نامی راوی کو یحیی القطان نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 3187
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمُ فِطْرٍ وَجُمُعَةٌ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِيدَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ : "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَأَجْرًا وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُجَمِّعَ مَعَنَا فَلْيُجَمِّعْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيَرْجِعْ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّرْكِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ السَّمَّاكِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئیں ، عیدالفطر کا دن جمعہ کے دن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف رُخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم لوگوں نے بھلائی اور اجر حاصل کر لیا ہے ، ہم جمعہ بھی ادا کریں گے ، جو شخص ہمارے ساتھ جمعہ ادا کرنا چاہے ، وہ جمعہ ادا کر لے اور جو شخص اپنے گھر واپس جانا چاہے ، وہ واپس چلا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اسماعیل بن ابراہیم ترکی کی ، زیاد بن راشد ابومحمد سماک کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، اسماعیل بن ابراہیم ترکی کی ، زیاد بن راشد ابومحمد سماک کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3188
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سِفْرٍ وَلَا حَضَرٍ ؛ نَوْمٍ عَلَى وَتْرٍ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ جَعَلَ بَعْدَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتِي الضُّحَى قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی تھی : میں سفر یا حضر کے دوران میں انہیں کبھی ترک نہیں کروں گا ، وتر ادا کرنے کے بعد سونا ، ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا ، اور جمعہ کے بعد دو رکعات ادا کرنا ۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے بعد کی دو رکعات کے بعد چاشت کی دو رکعات بھی شامل کر لیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جمعہ کے بعد کی دو رکعات“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3189
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلَا يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَخْرُجَ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص جمعہ ادا کرے ، تو وہ اس کے بعد کچھ ادا نہ کرے جب تک وہ کوئی کلام نہیں کر لیتا ، یا ( مسجد سے ) نکل نہیں جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3190
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارِ الْأَرْبَعِ بَعْدَهَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَعَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَكِلَاهُمَا فِيهِ كَلَامٌ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے ، اور اس کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے ، آپ ان کے درمیان ( سلام پھیر کر ) فصل نہیں کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس میں صرف بعد والی چار رکعات کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ اور ایک راوی عطیہ عوفی ہیں ، اور ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ اور ایک راوی عطیہ عوفی ہیں ، اور ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3191
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ صَلَّى يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَمَا سَلَّمَ الْإِمَامُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن امام کے سلام پھیرنے کے بعد چار رکعات ادا کی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3192
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ سِتَّ رَكَعَاتٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چھ رکعات ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3193
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُعَلِّمُنَا أَنْ نُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى سَمِعْنَا قَوْلَ عَلِيٍّ : صَلُّوا سِتًّا ، وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : فَنَحْنُ نُصَلِّي سِتًّا قَالَ عَطَاءٌ : أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَرْبَعًا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں یہ تعلیم دیتے تھے ، ہم جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کریں ، یہاں تک کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ بیان سنا : کہ تم لوگ چھ رکعات ادا کرو ! ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں : تو ہم لوگ چھ رکعات ادا کرتے ہیں ۔ عطاء بیان کرتے ہیں : ابوعبدالرحمن پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے ، پھر اس کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عطاء بن سائب نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عطاء بن سائب نامی راوی ” ثقہ “ ہے ، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 3194
عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّ مَرَّاتٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَكَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ فِي السَّنَةِ السَّابِعَةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف سے پہلے چھ مرتبہ غزوات میں شرکت کی تھی ، اور نماز خوف کا حکم ساتویں سال میں آیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3195
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلَاةُ الْمُسَايَفَةِ رَكْعَةٌ ، أَيَّ وَجْهٍ كَانَ الرَّجُلُ يُجْزِئُ عَنْهُ " - أَحْسَبُهُ قَالَ : فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَعْدُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لڑائی کی نماز ( یعنی نماز خوف ) ایک رکعت ہو گی ، خواہ آدمی کا رخ کسی بھی سمت میں ہو ، یہ اُس کے لئے کفایت کر جائے گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: تھا : آپ نے ایسا کیا تھا اور اس کو دہرایا نہیں تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3196
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ : أُمِرَ النَّاسُ فَأَخَذُوا السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مِنْ وَرَائِهِمْ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ ، وَجَاءَتْ طَائِفَةٌ فَصَلَّوْا مَعَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامُوا إِلَى الطَائِفَةِ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ مَعَهُ فَقَامُوا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ الَّذِينَ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا وَرَكَعُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نماز خوف سے متعلق یہ منقول ہے : لوگوں کو حکم دیا گیا انہوں نے ہتھیار پہن لئے ، پھر ایک گروہ ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، جس کا رخ دشمن کی طرف تھا اور ایک گروہ آیا ، اور نہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی ، پھر وہ لوگ اُٹھ کر اس گروہ کی طرف چلے گئے ، ، جنہوں نے نماز ادا نہیں کی تھی اور وہ گروہ آ گیا ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی تھی ، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی ، پھر آپ نے ان سب سمیت سلام پھیر دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، تو وہ لوگ اُٹھ کر دشمن کی طرف چلے گئے اور ان سب نے تکبیر کہی اور ایک رکوع کیا ، اور دو سجدے کیے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے بعد کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حدیث نمبر: 3197
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ لَهُ فَلَقِيَ الْمُشْرِكِينَ بِعُسَفَانَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظُّهْرَ فَرَأَوْهُ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : لَوْ حَمَلْتُمْ عَلَيْهِمْ مَا عَلِمُوا بِكُمْ حَتَّى تُوَاقِعُوهُمْ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً أُخْرَى هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ فَاصْبِرُوا حَتَّى تَحْضُرَ فَنَحْمِلَ عَلَيْهِمْ حَمْلَةً، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ ثُمَّ قَامَ الَّذِينَ خَلْفَهُ مُقْبِلُونَ عَلَى الْعَدُوِّ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سُجُودِهِ وَقَامَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ قَامُوا وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونُهُ وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَكَانُوا يَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَكَعَ رَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا مَعَهُ ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ يَلُونَهُ ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي مُقْبِلُونَ عَلَى الْعَدُوِّ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ سُجُودِهِ وَقَعَدَ قَعَدَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَسَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ ثُمَّ قَعَدُوا فَسَجَدُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِمُ الْمُشْرِكُونَ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ وَيَقُومُ بَعْضٌ قَالُوا : لَقَدْ أُخْبِرُوا بِمَا أَرَدْنَا قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزہ میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے ، عسفان کے مقام پر آپ کا سامنا مشرکین سے ہوا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے اصحاب کو رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ، تو انہوں نے ایک دوسرے سے یہ کہا: اگر تم لوگ ان پر حملہ کر دو تو انہیں تم لوگوں کے بارے پتہ نہیں چلے گا ، یہاں تک کہ تم ان لوگوں تک پہنچ جاؤ گے ، اُن میں سے کسی نے کہا: ان لوگوں کی ایک اور نماز ہے ، جو ان کے نزدیک ان کے اہل خانہ اور اموال سے زیادہ محبوب ہے ، تو تم اس وقت تک صبر کرو ، جب تک اس نماز کا وقت نہیں ہو جاتا ، اس وقت ہم ان پر یکبارگی حملہ کر دیں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جب تم اُن کے درمیان موجود ہو ، تو ان کے لئے نماز قائم کرو “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تو ان سب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر کہی ، پھر آپ رکوع میں گئے تو وہ سب لوگ آپ کے ساتھ رکوع میں گئے ، جب آپ سجدے میں گئے تو آپ کے ساتھ وہ والی صف کے لوگ سجدے میں گئے جو آپ کے قریب تھی اور جو لوگ اس کے پیچھے تھے ، وہ دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑے رہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے فارغ ہوئے اور کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا ، پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود صف پیچھے ہٹ گئی اور پیچھے والے آگے آ گئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا ، تو ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا ، پھر آپ نے سر اٹھایا تو سب لوگوں نے آپ کے ساتھ سر اٹھایا ، پھر آپ سجدے میں گئے تو جو لوگ آپ کے قریب تھے ، وہ آپ کے ساتھ سجدے میں گئے اور دوسری صف والے لوگ دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑے رہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے فارغ ہو کر بیٹھ گئے ، تو آپ کے ساتھ والے لوگ بھی بیٹھے گئے اور پیچھے والی صف کے لوگوں نے سجدہ کیا پھر وہ لوگ بھی بیٹھ گئے ، پھر اُن سب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، تو ان سب لوگوں نے سلام پھیرا ، جب مشرکین نے ان کی طرف دیکھا کہ کچھ لوگ سجدہ کر رہے ہیں اور کچھ لوگ کھڑے ہوئے ہیں ، تو انہوں نے یہ کہا: انہیں ہمارے ارادے کا پتہ چل گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں یہ روایت اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبدالرحمن ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبدالرحمن ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 3198
وَعَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ بِالدَّارِ مِنْ أَصْبَهَانَ وَمَا بِهِمْ يَوْمَئِذٍ كَبِيرُ خَوْفٍ ، وَلَكِنْ أَحَبَّ أَنْ يُعَلِّمَهُمْ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهُمْ صَفَّيْنِ ؛ طَائِفَةً مَعَهَا السِّلَاحُ مُقْبِلَةً عَلَى عَدُوِّهَا ، وَطَائِفَةً مِنْ وَرَائِهَا فَصَلَّى ، بِالَّذِينِ يَلُونَهُ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصُوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ الْآخَرِينَ يَتَخَلَّلُونَهُمْ حَتَّى قَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ فَصَلُّوا رَكْعَةً رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَتَمَّتْ لِلْإِمَامِ رَكْعَتَيْنِ وَلِلنَّاسِ رَكْعَةً رَكْعَةً رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
ابوالعالیہ ریاحی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ” اصبہان “ میں ایک محلے میں موجود تھے ، اور وہاں لوگوں کو زیادہ خوف بھی نہیں تھا ، لیکن انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ ان لوگوں کو ان کے دین اور ان کے نبی کی سنت کی تعلیم دیں ، تو انہوں نے دو صفیں بنوا لیں ، ایک گروہ ان کے ساتھ ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑا ہو گیا ، اور ایک گروہ اس کے پیچھے تھا ، انہوں نے اپنے پاس والوں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر وہ لوگ الٹے قدموں پیچھے چلے گئے ، یہاں تک کہ دوسرے لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے وہ ان کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے ، پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے دوسرے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر انہوں نے سلام پھیر دیا ، پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے ، جو ان کے پیچھے تھے ، اور دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے ، انہوں نے ایک ایک رکعت ادا کی پھر انہوں نے یکے بعد دیگرے سلام پھیر دیا ، یوں امام کی دو رکعات ہوئیں ، اور لوگوں کی ایک ، ایک رکعت ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3199
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْخَوْفِ مَرَّةً لَمْ يُصَلِّ بِنَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي كَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الْخَوْفِ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مرتبہ نماز خوف پڑھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے ، یا اس کے بعد کبھی یہ نماز نہیں پڑھائی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو نماز خوف کی کیفیت کے بارے میں ہے ، وہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی الحمانی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی الحمانی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے امام أحمد نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔