کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جس کا جمعہ رہ جائے
حدیث نمبر: 3172
عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَصَّدَّقَ بِدِينَارٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ قُلْتُ : وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ اُن کا جمعہ رہ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ایک دینار صدقہ کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : یہ روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے ، اور مشہور یہ ہے کہ یہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث میں ایک راوی سعید بن محمد بن ایوب ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں سعید بن محمد بن ایوب راوی ضعیف ہے اور اس کے مقابلے میں مشہور روایت حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3173
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی ضرورت کے بغیر ، تین مرتبہ جمعہ ترک کر دیتا ہے ، اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3173
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3174
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَتَّخِذُ أَحَدُكُمُ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكَلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَمْلَأُ مِنْ هَذَا فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ : "حَتَّى لَا يَشْهَدَ جُمُعَةً وَلَا يَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ " وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى غُفْرَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ
محمد محی الدین
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے کوئی ایک شخص چرنے والے جانور لیتا ہے ، اور پھر اگر وہ باجماعت نماز میں شریک ہوتا ہے ، تو ان جانورں کو سنبھالنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے ، تو وہ یہ سوچتا ہے مجھے اپنے ان جانوروں کے لئے کسی ایسی جگہ کو تلاش کرنا چاہیے ، جہاں زیادہ گھاس پھوس ہو ، پھر وہ وہاں منتقل ہو جاتا ہے ، اور صرف جمعہ کی نماز میں شریک ہوتا ہے ، پھر اس کے لئے جانوروں کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے ، تو وہ کہتا ہے : مجھے اپنے ان جانوروں کے لئے ایسی جگہ تلاش کرنی چاہیے ، جو اس سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہو ، تو پھر وہ وہاں منتقل ہو جاتا ہے ، پھر وہ نہ جمعہ میں شریک ہوتا ہے ، اور نہ جماعت ( یعنی با جماعت نماز ) میں شریک ہوتا ہے ، اور اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس مفہوم کی روایت کی نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” یہاں تک کہ وہ جمعہ میں شریک نہیں ہوتا ، اور اسے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ جمعہ کا دن کون سا ہے ؟ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ ہے ، جو غفرہ کا غلام ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3174
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3175
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطِيبًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ : "عَسَى رَجُلٌ تَحْضُرُهُ الْجُمُعَةُ وَهُوَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَا يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ"، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّانِيَةِ : " عَسَى رَجُلٌ تَحْضُرُهُ الْجُمُعَةُ وَهُوَ عَلَى قَدْرِ مِيلَيْنِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَا يَحْضُرُهَا " ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " عَسَى يَكُونُ عَلَى قَدْرِ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَا يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ وَيَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ " رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایک شخص کے سامنے جمعہ آئے گا ، اور وہ مدینہ سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا ، لیکن وہ جمعہ میں شریک نہیں ہو گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا : عنقریب ایسا ہو گا کہ کسی شخص کے سامنے جمعہ آئے گا ، اور وہ مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر ہو گا ، اور وہ اس میں شریک نہیں ہو گا ، اور تیسری مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر ہو گا ، اور وہ جمعہ میں شریک نہیں ہو گا ، تو اللہ تعالٰی اس کے دل پر مہر لگا دے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3175
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3176
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَمْ يَأْتِ - أَوْ لَمْ يُجِبْ - ، ثُمَّ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِ - أَوْ لَمْ يُجِبْ - ، ثُمَّ سَمِعَ النِّدَاءَ وَلَمْ يَأْتِ - أَوْ لَمْ يُجِبْ - طَبَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى قَلْبِهِ ، فَجُعِلَ قَلْبَ مُنَافِقٍ " رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ وَالرَّاوِي لَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ شُعْبَةُ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ ، فَرَوَاهُ عَنْهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمِّهِ ، وَرَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى كَمَا سَيَأْتِي ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے چچا کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، یہ حدیث روایت کرتے ہوئے سنا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن ( جمعہ کی نماز کے لئے ) اذان سنے اور نہ آئے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا جواب نہ دے ( یعنی جمعہ میں شریک نہ ہو ) پھر وہ ( اگلے جمعہ ) اذان سنے اور نہ آئے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا جواب نہ دے ، پھر وہ ( اگلے جمعہ میں ) اذان سنے اور نہ آئے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) جواب نہ دے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ، اور اس کے دل کو منافق کا دل بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، محمد بن عبدالرحمن نامی راوی ، محمد بن عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ ہیں ، اور محمد بن عبدالرحمن کے حوالے سے اس روایت کو نقل کرنے والے راوی شعبہ ہیں ، ابواسحاق فزاری نے اسے شعبہ کے حوالے سے محمد بن عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا ابن ابواوفی سے نقل کیا ہے ، جس طرح یہ حدیث آگے آ رہی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3176
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، ولکن الحدیث صحیح لغیرہ، ولہ شاہد فی صحیح مسلم
حدیث نمبر: 3177
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ جُمَعٍ مُتَوَالِيَاتٍ فَقَدْ نَبَذَ الْإِسْلَامَ وَرَاءَ ظَهْرِهِ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جو شخص مسلسل تین جمعے ترک کر دیتا ہے ، وہ اسلام کو پس پشت ڈال دیتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3177
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3178
وَعَنْ أَسَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جَمُعَاتٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ كُتِبَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی عذر کے بغیر ، تین جمعے ترک کر دیتا ہے ، اسے منافقین میں نوٹ کر لیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور اکثر حضرات کے نزدیک وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ بشواہدہ
حدیث نمبر: 3179
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَمْ يَأْتِهَا ثُمَّ سَمِعَ النِّدَاءَ وَلَمْ يَأْتِهَا ثَلَاثًا طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ فَجُعِلَ قَلْبَ مُنَافِقٍ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُعْرَفْ
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جمعہ کے دن اذان سنتا ہے ، اور جمعہ میں شریک نہیں ہوتا ، پھر ( اگلے جمعہ کے دن ) اذان سنتا ہے ، اور اس میں شریک نہیں ہوتا ہے ، ایسا تین مرتبہ ہوتا ہے ، تو اس شخص کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے ، اور اس کے دل کو منافق کا دل بنا دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کی شناخت نہیں ہو سکی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3179
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3180
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا هَلْ عَسَى أَحَدٌ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّخِذَ الصُّبَّةَ مِنَ الْغَنَمِ عَلَى رَأْسِ مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ تَأْتِي الْجُمُعَةُ فَلَا يَشْهَدُهَا - ثَلَاثًا - فَيَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” خبردار ! عنقریب ایسا ہو گا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص بکریوں کا ریوڑ لے کر دو یا تین میل کے فاصلے پر چلا جائے گا ، جب جمعہ کا دن آئے گا ، تو وہ اس میں شریک نہیں ہو گا ، ایسا تین مرتبہ ہو گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3180
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3181
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ لَا يَأْتُونَهَا أَوْ لَيَطْبَعَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” یا تو لوگ اس چیز سے باز آ جائیں گے کہ وہ جمعہ کے دن اذان سننے کے بعد جمعہ میں شریک نہ ہوں ، یا پھر اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ، اور وہ لوگ غافلوں میں سے ہو جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3181
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الفاء ما اسند كعب بن مالك محمد بن عمرو بن عطاء ، 15954»
حدیث نمبر: 3182
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتَيِ الْكِتَابَ وَاللَّبَنِ " قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْكِتَابِ ؟ قَالَ : " يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا " قَالَ : فَقِيلَ : فَمَا بَالِ اللَّبَنِ ؟ قَالَ : " أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں کتاب اور دودھ کا اندیشہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کتاب کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منافقین اس کا علم حاصل کریں گے اور پھر اس کے ذریعے اہل ایمان کے ساتھ بحث کریں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : دریافت کیا گیا : دودھ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ دودھ کو پسند کریں گے اور پھر جماعت ( یعنی با جماعت نمازوں ) سے نکل جائیں گے اور جمعہ ترک کر دیں گئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3182
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3183
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ " قَالُوا : وَمَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ ؟ قَالَ : " يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ تَأْوِيلِهِ ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ " رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَقَالَ أَبُو قُبَيْلٍ : لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میری امت کی ہلاکت کتاب اور دودھ کی وجہ سے ہو گی ، لوگوں نے عرض کی : کتاب اور دودھ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ کتاب کا علم حاصل کریں گے ، پھر اس کی غلط تاویل کریں گے اور لوگ دودھ کو پسند کریں گے ، تو با جماعت نماز کو اور جمعہ کو ترک کریں گے اور بادیہ نشینی اختیار کریں گے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، ابوقبیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے صرف یہ حدیث سنی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3183
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن