کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کھڑے ہو کر خطبہ دینا اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں : کہ آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے پھر آپ بیٹھ جاتے تھے پھر کھڑے ہو کر ( دوسرا ) خطبہ ارشاد فرماتے تھے
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَفِي الْبَزَّارِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجِلْسَةٍ . ¤ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
امام بزار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے ارشاد فرماتے تھے جن کے درمیان بیٹھ کر آپ فصل کرتے تھے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ لِلْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے لئے دو خطبے دیتے تھے ، اور ان دونوں کے درمیان بیٹھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمًا وَشَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَجْهَلِ السُّنَّةَ وَلَكِنِّي كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ حَوَائِجُكُمْ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقْضِيَ بَعْضَ حَوَائِجِكُمْ قَاعِدًا ثُمَّ أَقُومُ فَآخُذُ نَصِيبِي مِنَ السُّنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا وہ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے میں سیدنا معاویہ کے پاس بھی موجود تھا وہ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے انہوں نے ارشاد فرمایا : میں سنت سے ناواقف نہیں ہوں لیکن میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، اور میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، اور تم لوگوں کے معاملات بہت زیادہ ہیں ، اور میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں بیٹھ کر تم لوگوں کے کچھ معاملات نمٹا لوں پھر کھڑا ہو جاؤں گا ، اور سنت میں سے اپنا حصہ حاصل کر لوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔