مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطْبَةِ قَائِمًا وَالْجُلُوسِ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ . باب: کھڑے ہو کر خطبہ دینا اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمًا وَشَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَجْهَلِ السُّنَّةَ وَلَكِنِّي كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ حَوَائِجُكُمْ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقْضِيَ بَعْضَ حَوَائِجِكُمْ قَاعِدًا ثُمَّ أَقُومُ فَآخُذُ نَصِيبِي مِنَ السُّنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . ¤موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا وہ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے میں سیدنا معاویہ کے پاس بھی موجود تھا وہ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے انہوں نے ارشاد فرمایا : میں سنت سے ناواقف نہیں ہوں لیکن میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، اور میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، اور تم لوگوں کے معاملات بہت زیادہ ہیں ، اور میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں بیٹھ کر تم لوگوں کے کچھ معاملات نمٹا لوں پھر کھڑا ہو جاؤں گا ، اور سنت میں سے اپنا حصہ حاصل کر لوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔