کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو سفر کے دوران مکمل نماز ادا کرتا ہے
عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ قَالَ : وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنًى وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنًى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ فَلَمَّا صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ : مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحَ مَا عِبْتَهُ بِهِ فَقَالَ لَهُمَا : وَيَحَكُمَا ! ! وَهَلْ كَانَ غَيْرُ مَا صَنَعْتُ ؟ قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ فَقَالَا : فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ عَيْبٌ لَهُ قَالَ : فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عباد بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ حج کرنے کے لئے ہمارے پاس آئے اور ہم لوگ مکہ آ گئے تو انہوں نے ظہر کی نماز میں دو رکعات پڑھائیں پھر وہ نماز ختم کرنے کے بعد دارالندوہ کی طرف گئے انہوں نے بتایا : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب مکہ آنے کے بعد مکمل نماز ادا کی تھی اور وہاں ظہر عصر اور عشاء کی نماز میں چار چار رکعات پڑھائی تھیں جب وہ منی اور عرفات کی طرف آئے تھے تو انہوں نے نماز مختصر ادا کی تھی جب وہ حج سے فارغ ہوئے اور منی میں مقیم ہوئے تو انہوں نے مکمل نماز ادا کی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو گئے اور سیدنا معاویہ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کی طرف گئے اور ان دونوں سے کہا: کسی نے بھی آپ کے چچازاد پر اس طرح اعتراض نہیں کیا جس طرح کا اعتراض آپ نے ان پر کیا ہے سیدنا معاویہ نے ان لوگوں سے دریافت کیا : تم دونوں کا ستیاناس ہو کیا میں نے جو کیا ہے ، اس کے علاوہ کرنا چاہیے تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں دو رکعات ہی ادا کی ہیں تو ان دونوں صاحبان نے کہا: ( یعنی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ) تو نماز مکمل کرتے تھے ، اور آپ نے ان کے برخلاف کر کے ان پر اعتراض کر دیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاویہ عصر کی نماز کے لئے نکلے ، تو انہوں نے عصر کی نماز میں ہمیں چار رکعات پڑھائیں
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ : اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلَدِ - وَهِيَ مِنًى - فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ : إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ : عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ تَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : الْخِلَافُ أَشَدُّ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، إِمَّا فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ أَوْ فِي الْخِلَافَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا ابوذر غفاری کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لائے ہمارا ارادہ یہ تھا کہ وہ چیز ہم انہیں دیں گے جب ہم ربذہ آئے اور ہم نے ان کے بارے میں دریافت کیا : تو ہم نے انہیں نہیں پایا یہ بات بتائی گئی کہ ان کا حج کے لئے جانے کا ارادہ ہے ، اور انہیں اجازت مل گئی ہے ، تو ہم ان کے پاس شہر میں آ گئے راوی کہتے ہیں اس سے مراد منی ہے ابھی ہم ان کے پاس موجود تھے کہ انہیں یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے چار رکعات نماز پڑھا دی ہے سیدنا ابوذر غفاری کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے اس بارے میں سخت غصے کا اظہار کیا اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے آپ نے دو رکعات پڑھائی تھیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے پھر سیدنا ابوذر غفاری اٹھے اور انہوں نے بھی چار رکعات ادا کر لیں ان سے کہا: گیا پہلے تو آپ نے امیرالمؤمنین پر اعتراض کیا تھا اور اب آپ خود یہی کام کر رہے تھے تو انہوں نے فرمایا : اختلاف کرنا زیادہ سخت ہے ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے
یہ روایت مکمل روایت کے طور پر آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا یہ یا تو باغیوں سے جنگ کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ، یا خلافت سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسَافِرُ فَيُتِمُّ الصَّلَاةَ وَيَقْصُرُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تھے تو کبھی مکمل نماز ادا کر لیتے تھے ، اور کبھی قصر کرتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُ أُمَّتَيِ الَّذِينَ إِذَا أَسَاؤُوا اسْتَغْفَرُوا ، وَإِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا ، وَإِذَا سَافَرُوا قَصَرُوا وَأَفْطَرُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو اگر کوئی برائی کریں گے ، تو استغفار کریں اور جب کوئی اچھائی کریں گے ، تو خوشخبری حاصل کریں گے جب سفر کریں گے ، تو نماز کو قصر کر دیں گے اور روزہ ترک کر دیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين ، باب الميم من اسمه محمد حديث 6677»