کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کس صورت میں نماز قصر کی جائے گی ، اور قصر کی مدت کا بیان
حدیث نمبر: 2954
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَهْلَ مَكَّةَ لَا تَقْصُرُوا الصَّلَاةَ فِي أَدْنَى مِنْ أَرْبَعَةِ بُرُدٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى عُسْفَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَطَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے اہل مکہ چار برید سے کم سفر میں نماز قصر نہ کرو جو مکہ سے لے کے عسفان تک کا فاصلہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن مجاہد کی اپنے والد اور عطاء کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن مجاہد کی اپنے والد اور عطاء کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2955
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ بِالْعَقِيقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عقیق کے مقام پر نماز قصر کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حمزہ زبیری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حمزہ زبیری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2956
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا تَقْصُرُ الصَّلَاةَ إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ جِهَادٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم حج یا جہاد کے علاوہ نماز قصر نہ کرو
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2957
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا تَنْتَقِصُنَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي مَبَادِيكُمْ وَلَا أَجْشَارِكُمْ وَلَا تَسِيرُوا فِي قُرَى السَّوَادِ فِي حَوَائِجِكُمْ فَتَقُولُوا : إِنَّا سُفْرٌ ، إِنَّمَا الْمُسَافِرُ مِنَ الْأُفُقِ إِلَى الْأُفُقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزِيَادٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ : لَا تَغْتَرُّوا تِجَارَتَكُمْ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین
زیاد بن ابومریم نے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے : تم لوگ اپنے اطراف کے علاقوں کے سفر میں میں نماز کو قصر نہ کرو ، اور اپنی حوائج کے لئے بستیوں میں سفر نہ کرو ، یوں کہ تم لوگ یہ کہو : کہ ہم تو مسافر ہیں ، ( کیونکہ ) مسافر وہ ہوتا ہے ، جو ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے زیاد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ان سے ایک روایت یہ منقول ہے ” تم اپنی تجارت کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار نہ ہو جاؤ “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے زیاد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ان سے ایک روایت یہ منقول ہے ” تم اپنی تجارت کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار نہ ہو جاؤ “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 2958
وَعَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَقُلْتُ : مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ ؟ قَالَ : رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ ؟ قَالَ : وَمَا ذُو الْمَجَازِ ؟ قُلْتُ : مَكَانٌ نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ وَنَمْكُثُ فِيهِ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ - لَا أَدْرِي قَالَ : أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ - فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ بَصَرَ عَيْنِي ، ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ ، ( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ) . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ثمامہ بن شرحبیل بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر کی خدمت میں میں حاضر ہوا میں نے دریافت کیا : مسافر کی نماز کیا ہے انہوں نے فرمایا : دو دو رکعات البتہ مغرب کی نماز کا معاملہ مختلف ہے میں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اگر ہم لوگ ذوالمجاز میں ہوں انہوں نے فرمایا : ذوالمجاز کیا ہے میں نے جواب دیا : ایک جگہ ہے جہاں ہم اکھٹے ہوتے ہیں ، اور خرید و فروخت کرتے ہیں ( یعنی وہاں میلہ لگتا ہے ) وہاں بیس دن تک یا پندرہ دن تک ٹھہرے رہتے ہیں تو سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا : اے لوگو میں آذربائیجان میں تھا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ کہا: کہ میں چار ماہ تک شاید دو ماہ تک وہاں ٹھہرا رہا تو میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ دو دو رکعات ادا کیا کرتے تھے ، اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کیا کرتے تھے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر کے حوالے سے منقول احادیث صحیح اور دیگر کتابوں میں اس سیاق کے بغیر منقول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حدیث نمبر: 2959
وَعَنِ الْحَسَنِ : أَنَّهُ أَقَامَ مَعَ أَنَسٍ بِنَيْسَابُورَ سَنَتَيْنِ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : وہ نیشا پور میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو سال مقیم رہے تھے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ اس دوران دو دو رکعات ادا کرتے رہے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2960
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَبُوكَ عِشْرِينَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں میں دن مقیم رہے تھے ، اور اس دوران قصر نماز ادا کرتے رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عثمان کلابی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔