حدیث نمبر: 2951
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ : اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلَدِ - وَهِيَ مِنًى - فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ : إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ : عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ تَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : الْخِلَافُ أَشَدُّ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، إِمَّا فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ أَوْ فِي الْخِلَافَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا ابوذر غفاری کے لئے کوئی چیز اٹھا کر لائے ہمارا ارادہ یہ تھا کہ وہ چیز ہم انہیں دیں گے جب ہم ربذہ آئے اور ہم نے ان کے بارے میں دریافت کیا : تو ہم نے انہیں نہیں پایا یہ بات بتائی گئی کہ ان کا حج کے لئے جانے کا ارادہ ہے ، اور انہیں اجازت مل گئی ہے ، تو ہم ان کے پاس شہر میں آ گئے راوی کہتے ہیں اس سے مراد منی ہے ابھی ہم ان کے پاس موجود تھے کہ انہیں یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے چار رکعات نماز پڑھا دی ہے سیدنا ابوذر غفاری کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے اس بارے میں سخت غصے کا اظہار کیا اور انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے آپ نے دو رکعات پڑھائی تھیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے پھر سیدنا ابوذر غفاری اٹھے اور انہوں نے بھی چار رکعات ادا کر لیں ان سے کہا: گیا پہلے تو آپ نے امیرالمؤمنین پر اعتراض کیا تھا اور اب آپ خود یہی کام کر رہے تھے تو انہوں نے فرمایا : اختلاف کرنا زیادہ سخت ہے ، اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے
یہ روایت مکمل روایت کے طور پر آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا یہ یا تو باغیوں سے جنگ کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ، یا خلافت سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف