عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَمَّا أَنَا فَأَسْجُدُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا أَكُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ نُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں سات ہڈیوں پر سجدہ کرتا ہوں ، اور بال اور کپڑے کو ( نماز کے دوران ) موڑتا نہیں ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ابراہیم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ابراہیم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا نَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور ہم ( نماز کے دوران ) بال یا کپڑے کو موڑیں نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے امام ابوحاتم اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے امام ابوحاتم اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : أُمِرَ الْعَبْدُ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ آرَابٍ مِنْهُ : وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَقَدَمَيْهِ أَيَّهَا لَمْ يَضَعْ فَقَدِ انْتَقَصَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَضَبَطَهُ الذَّهَبِيُّ بِالْجِيمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابووقاص فرماتے ہیں : بندے کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سات اعضاء پر سجدہ کرے اپنے چہرے پر دونوں ہتھیلیوں پر دونوں گھٹنوں پر اور دونوں قدموں پر جو بھی ان میں سے ( زمین پر ) نہیں رکھے گا ، تو اسی حساب سے کمی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حیان ہے ، جسے ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ذہبی نے اس کا نام ” ج“ کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن حیان ہے ، جسے ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ذہبی نے اس کا نام ” ج“ کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السُّجُودُ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سجدہ سات اعضاء پر کیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاجِدٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کی سفیدی دیکھی جب آپ سجدے میں تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تھے تو اپنے بازو پہلو سے اتنے دور رکھتے تھے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دے جاتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْجُدُ عَلَى أَلْيَتَيِ الْكَفِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلیوں پر سجدہ کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے ، جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھا جب آپ سجدے میں گئے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ عَدِيِّ ابْنِ عَمِيرَةَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ إِذَا سَلَّمَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ وَعَنْ يَسَارِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِطُولِهِ وَفِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ السَّلَامِ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن عمیرہ حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تھے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دے جاتی تھی جب آپ سلام پھیرتے تھے تو اپنا چہرہ مکمل طور پر دائیں طرف پھیرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی تھی اور پھر بائیں طرف بھی ( اسی طرح سلام پھیرتے تھے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں طویل روایت کے طور پر اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سلام پھیرنے کا ذکر ہے اوسط کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں طویل روایت کے طور پر اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سلام پھیرنے کا ذکر ہے اوسط کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَتِهِ مَعَ قُصَاصِ الشَّعْرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَلَى جَبْهَتِهِ عَلَى قُصَاصِ الشَّعْرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بالوں کے ہمراہ پیشانی پر سجدہ کرتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ کی پیشانی پر کچھ بال ہوتے تھے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ کی پیشانی پر کچھ بال ہوتے تھے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسَجَدُ عَلَى كَوْرِ الْعِمَامَةِ . ¤ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ فَإِنْ كَانَ الرَّازِيَّ فَهُوَ ضَعِيفٌ وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَا أَعْرِفُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمامہ کے بیچ پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عنبسہ ہے اگر تو راوی ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَهَا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ مَا تَحْتَ مَنْكِبَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاجِدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ أَقْرَمٍ كَمَا هُنَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ نَفْسِهِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عبداللہ بن اقرم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نمرہ کے میدان میں بکریاں چرا رہا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وہاں پڑاؤ کیا آپ نے نماز کے لئے اقامت کہلوائی اور اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کے نیچے کی سرخی کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے کی حالت میں تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا اقرم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اسی طرح نقل کی ہے ، جس طرح یہاں مذکور ہے ، جب کہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے سیدنا عبداللہ بن اقرم کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا اقرم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اسی طرح نقل کی ہے ، جس طرح یہاں مذکور ہے ، جب کہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے سیدنا عبداللہ بن اقرم کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ يَزِيَدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَجَافَى مِرْفَقَيْهِ حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَرَى بَيَاضَ إِبِطَيْهِ . ¤ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ - هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی ہے ، جس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے یہ فرمایا گویا کہ میں اس وقت بھی ان کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ جب وہ سجدے کی حالت میں تھے تو انہوں نے کہنیاں پہلو سے اتنی دور رکھی ہوئی تھیں کہ ان کی بغلوں کی سفیدی میں دیکھ سکتا تھا اس روایت کی سند میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے امام طبرانی نے۔
یہ روایت معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
یہ روایت معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ سَاجِدٍ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ فَجَلَّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : لَا تَعْقِصْ فَإِنَّ الشَّعْرَ يَسْجُدُ وَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ أَجْرًا قَالَ : إِنَّمَا عَقَصْتُهُ لِكَيْ لَا يَتَتَرَّبَ قَالَ : إِنْ يَتَتَرَّبْ خَيْرٌ لَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو سجدے کی حالت میں تھا اور اس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا جب اس شخص نے نماز مکمل کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم جوڑا نہ بنایا کرو کیونکہ بال بھی سجدہ کرتے ہیں ، اور تمہیں ہر ایک بال کے عوض میں اجر ملے گا اس شخص نے کہا: میں نے یہ جوڑا اس لئے بنایا تھا تاکہ یہ بال خاک آلود نہ ہو جائیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ خاک آلود ہو جائیں تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَسْجُدُ عَلَى عِمَامَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَكَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ضَعِيفٌ وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ : كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ رَوَى عَنْهُ : أَبُو تُمَيْلَةَ ، وَقَالَ فِي كِتَابِ الضُّعَفَاءِ : كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ هُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِي عَنْ أَنَسٍ مَا لَيْسَ مِنْ حَدِيثِهِ يَضَعُ عَلَيْهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ غَيْرُ ابْنِ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
کثیر بن سلیم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنے عمامے پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے کثیر بن سلیم نامی راوی ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے کتاب ” التقات “ میں یہ بات بیان کی ہے کثیر بن سلیم نے ضحاک بن مزاحم سے روایات نقل کی ہیں ، اور اس سے ابوتمیلہ نے روایات نقل کی ہیں انہوں نے کتاب ” الضعفاء “ میں یہ بات بیان کی ہے کثیر بن سلیم وہ شخص ہے ، جسے کثیر بن عبداللہ کہا: جاتا ہے اس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایسی روایات نقل کی ہیں جو ان سے منقول نہیں ہیں یہ ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان کے علاوہ اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے کثیر بن سلیم نامی راوی ” ضعیف“ ہے ۔ ابن حبان نے کتاب ” التقات “ میں یہ بات بیان کی ہے کثیر بن سلیم نے ضحاک بن مزاحم سے روایات نقل کی ہیں ، اور اس سے ابوتمیلہ نے روایات نقل کی ہیں انہوں نے کتاب ” الضعفاء “ میں یہ بات بیان کی ہے کثیر بن سلیم وہ شخص ہے ، جسے کثیر بن عبداللہ کہا: جاتا ہے اس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایسی روایات نقل کی ہیں جو ان سے منقول نہیں ہیں یہ ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان کے علاوہ اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ہے ۔
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَمْسَحُ الرَّجُلُ جَبْهَتَهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يَمْسَحَ الْعَرَقَ عَنْ صُدْغَيْهِ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ أَثَرُ السُّجُودِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی اپنی پیشانی کو اس وقت تک صاف نہ کرے جب تک وہ نماز سے فارغ نہیں ہو جاتا البتہ کنپٹیوں سے پسینہ پونچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے فرشتے آدمی کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک سجدے کا نشان ( یعنی خاک وغیرہ ) اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ( یعنی پیشانی پر ) دکھائی دیتا رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ لَمْ يَلْزَقْ أَنْفَهُ مَعَ جَبْهَتِهِ بِالْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَإِنْ كَانَ فِي بَعْضِهِمُ اخْتِلَافٌ مِنْ أَجْلِ التَّشَيُّعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جو شخص سجدے میں جاتے ہوئے اپنی ناک کو پیشانی کے ساتھ زمین پر نہیں رکھتا ہے ، اس کی نماز درست نہیں ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے کیونکہ وہ شیعہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے کیونکہ وہ شیعہ ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ مَنْ لَا يُصِيبُ أَنْفُهُ الْأَرْضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَافِلَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جس کی ناک ( سجدے میں ) زمین سے نہیں لگتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن محمد بن قافلانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن محمد بن قافلانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيُبَاشِرْ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَفُكَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قُلْتُ : وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کوئی شخص سجدے میں جائے تو وہ اپنی ہتھیلیاں زمین کے ساتھ ملائے تاکہ اللہ تعالی قیامت کے دن اسے نجات نصیب کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن محمد محاربی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں ۔ اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں جو اس نے ابوذئب سے نقل کی ہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن محمد محاربی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں ۔ اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں جو اس نے ابوذئب سے نقل کی ہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ ذَلِكَ فِي جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بارش والے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے یہاں تک کہ میں نے کیچڑ کا نشان آپ کی پیشانی اور ناک پر دیکھا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُمَكِّنُ أَنْفَهُ مِنَ الْأَرْضِ كَمَا يُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ( سجدہ کرتے ہوئے ) اپنی ناک کو زمین پر یوں جما کے رکھتے تھے جس طرح آپ اپنی پیشانی کو جما کے رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْسُطْ ذِرَاعَيْكَ بَسْطَ السَّبُعِ ، وَادْعَمَ عَلَى رَاحَتَيْكَ وَجَافِ مِرْفَقَيْكَ عَنْ ضَبْعَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم نماز ادا کرو تو اپنی کلائیاں یوں نہ بچھا لو جس طرح درندے بچھاتے ہیں تم اپنی سیرین کے بل بیٹھو اور اپنی کہنیاں پہلو سے دور رکھو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَعْتَدِلَ فِي السُّجُودِ وَلَا نَسْتَوْفِزَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم سجدے میں اعتدال سے کام لیں اور ( پاؤں کھڑا کر کے ) ایڑیوں کے بل نہ بیٹھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَسْجُدُ مُضْطَجِعًا وَلَا مُتَوَرِّكًا ، فَإِنَّهُ إِذَا أَحْسَنَ السُّجُودَ سَجَدَ كُلُّ عُضْوٍ فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کوئی شخص سجدے میں جائے تو وہ لیٹ کر ، یا تورک کے طور پر بیٹھ کر سجدہ نہ کرے کیونکہ جب وہ اچھے طریقے سے سجدہ کرے گا ، تو اس کا ہر عضو بھی وہ سجدہ کرے گا ( یا اس کا ہر عضو اس سجدے میں شریک ہو گا )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُصَلِّي بِمَكَّةَ فَلَمَّا سَجَدَ جَافَى حَتَّى رَأَيْتُ غُضُونَ إِبِطِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اعمش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو مکہ میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا جب وہ سجدے میں گئے تو انہوں نے بازؤں کو پہلو سے الگ رکھا یہاں تک کہ مجھے ان کے پیٹ کی سلوٹیں دکھائی دے گئیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔