حدیث نمبر: 2759
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ سَاجِدٍ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ فَجَلَّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : لَا تَعْقِصْ فَإِنَّ الشَّعْرَ يَسْجُدُ وَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ أَجْرًا قَالَ : إِنَّمَا عَقَصْتُهُ لِكَيْ لَا يَتَتَرَّبَ قَالَ : إِنْ يَتَتَرَّبْ خَيْرٌ لَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو سجدے کی حالت میں تھا اور اس نے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا جب اس شخص نے نماز مکمل کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم جوڑا نہ بنایا کرو کیونکہ بال بھی سجدہ کرتے ہیں ، اور تمہیں ہر ایک بال کے عوض میں اجر ملے گا اس شخص نے کہا: میں نے یہ جوڑا اس لئے بنایا تھا تاکہ یہ بال خاک آلود نہ ہو جائیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر یہ خاک آلود ہو جائیں تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2759
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔