وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَهَا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ مَا تَحْتَ مَنْكِبَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاجِدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ أَقْرَمٍ كَمَا هُنَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ نَفْسِهِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عبیداللہ بن عبداللہ بن اقرم اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نمرہ کے میدان میں بکریاں چرا رہا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وہاں پڑاؤ کیا آپ نے نماز کے لئے اقامت کہلوائی اور اپنے اصحاب کو نماز پڑھائی میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کے نیچے کی سرخی کا منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے کی حالت میں تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا اقرم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اسی طرح نقل کی ہے ، جس طرح یہاں مذکور ہے ، جب کہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اسے سیدنا عبداللہ بن اقرم کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔