مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ . باب: عشاء کی نماز میں قرأت کرنا
وَعَنْ بُرَيْدَةَ ( أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ فِيهَا ( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ) فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَفْرُغَ فَصَلَّى وَذَهَبَ فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ قَوْلًا شَدِيدًا ، فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَعْمَلَ فِي نَخْلٍ وَخِفْتُ عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ بِـ ( وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ) وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ " ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ نے اپنے اصحاب کو عشاء کی نماز پڑھائی تو اس میں سورت القمر کی تلاوت کی ان کے فارغ ہونے سے پہلے ایک شخص اٹھا اس نے تنہا نماز ادا کی اور چلا گیا سیدنا معاذ نے اس کے بارے میں سخت کلمات کے وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے عذر پیش کیا اس نے عرض کی میں نے کھجور کے باغ میں کام کرنا تھا مجھے پانی کے بارے میں اندیشہ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا : تم سورت والشمس اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کر لیا کرو
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔