مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصَّلَاةِ بَيْنَ الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِهَا مَسَاجِدَ وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا . باب: قبروں کے درمیان نماز ادا کرنا یا انہیں مساجد بنا لینا یا ان کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنا
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَقُلْتُ : مَا أَعْمَلَنِي إِلَى الشَّامِ غَيْرُكَ ، فَحَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْنَا وَاغْفِرْ لَنَا " وَنَهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ إِلَى الْقُبُورِ أَوْ نَجْلِسَ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا واثلہ بن اسقع سے ہوئی میں نے کہا: میری شام آمد کا مقصد صرف آپ سے ملاقات ہے ، آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! تو ہم پر رحم فرما اور ہماری مغفرت کر دے “ ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم قبروں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کریں یا ہم ان پر بیٹھ جائیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔