کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرے یا شعر سنائے یا کوئی چیز فروخت کرے یا کوئی چیز خریدے یا اس کی مانند کوئی اور کام کرے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَنْشُدُ ضَالَّةً فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا وَجَدْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ ، وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي اللُّقَطَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تاکہ گمشدہ چیز کا اعلان کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تمہیں نہ ملے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ، اس بارے میں دیگر احادیث گمشدہ چیز سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ، اس بارے میں دیگر احادیث گمشدہ چیز سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُنْشِدُ شِعْرًا فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا : فَضَّ اللَّهُ فَاكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا : لَا وَجَدْتَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يَبِيعُ وَيَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا : لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ " كَذَلِكَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کو تم دیکھو کہ وہ مسجد میں شعر سنا رہا ہو تو تم یہ کہو اللہ تعالیٰ تمہارا منہ بند کر دے یہ بات تین مرتبہ کہو اور جس شخص کو تم دیکھو کہ وہ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کر رہا ہو تو تم تین مرتبہ یہ کہو تم اس چیز کو نہ پاؤ اور جس شخص کو تم دیکھو کہ وہ مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو تم یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں فائدہ نہ دے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح ارشاد فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عبدالرحمن بن ثوبان کی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان کا ( یعنی عبدالرحمن بن ثوبان کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عبدالرحمن بن ثوبان کی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں نے کسی کو ان کا ( یعنی عبدالرحمن بن ثوبان کا ) ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ : سَمِعَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فَأَسْكَتَهُ وَانْتَهَرَهُ وَقَالَ : قَدْ نُهِينَا عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَابْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین ، یا شاید کسی اور کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے پایا تو اسے خاموش کروا دیا اور اسے ڈانٹا اور بولے : ہمیں اس چیز سے منع کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابن سیرین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابن سیرین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔