کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص مسجد میں نماز کے علاوہ یا اس طرح کسی اور صورت حال کے سلسلے میں داخل ہو
حدیث نمبر: 2038
عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَعِسُّ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يَجِدُ سَوَادًا إِلَّا أَخْرَجَهُ إِلَّا رَجُلًا مُصَلِّيًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لاتے تھے تو جس شخص کو پاتے تھے اسے باہر نکال دیتے تھے البتہ نماز پڑھنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2039
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَمُرَّ الرَّجُلُ فِي طُولِ الْمَسْجِدِ وَعَرْضِهِ لَا يُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ وَإِنْ كَانَ سَمِعَ مِنَ الصَّحَابَةِ لَمْ أَجِدْ لَهُ رِوَايَةً عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کی نشانیوں میں یہ بات شامل ہے کہ ایک شخص بڑی سی مسجد کے پاس سے گزرے گا ، اور اس میں دو رکعات نماز ادا نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ سلمہ بن کہیل کا معاملہ مختلف ہے ، اس نے اگرچہ صحابہ کرام سے سماع کیا ہے ، لیکن میں نے اس کے حوالے سے منقول کوئی ایسی حدیث نہیں پائی جو اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ سلمہ بن کہیل کا معاملہ مختلف ہے ، اس نے اگرچہ صحابہ کرام سے سماع کیا ہے ، لیکن میں نے اس کے حوالے سے منقول کوئی ایسی حدیث نہیں پائی جو اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہو ۔
حدیث نمبر: 2040
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَجْلِسُونَ فِي الْمَسَاجِدِ حِلَقًا حِلَقًا ، أَمَامَهُمُ الدُّنْيَا فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَزِيعٌ أَبُو الْخَلِيلِ وَنُسِبَ إِلَى الْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو مساجد میں حلقے بنا کر بیٹھیں گے ان کا مقصد دنیا ہو گی تم ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کی کوئی حاجت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بزیع ابوخلیل ہے ، جس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بزیع ابوخلیل ہے ، جس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 2041
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قُمَامَةً ، وَقُمَامَةُ الْمَسْجِدِ : لَا وَاللَّهِ وَبَلَى وَاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَوَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہر چیز کی ایک گندگی ( یا کوڑا کرکٹ ) ہوتی ہے ، اور مسجد کی گندگی یہ ہے کہ یہ کہا: جائے : جی نہیں اللہ کی قسم جی ہاں ! اللہ کی قسم “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2042
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَتَّخِذُوا الْمَسَاجِدَ طُرُقًا إِلَّا لِذِكْرٍ أَوْ صَلَاةٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : " إِلَّا لِذِكْرٍ أَوْ صَلَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مساجد کو راستے نہ بناؤ صرف ذکر ، یا نماز کے لئے ( مساجد میں آؤ ) “ ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” صرف ، ذکر ، یا نماز کے لئے ( مساجد میں آؤ ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔