مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْبُصَاقِ فِي الْمَسْجِدِ . باب: مسجد میں تھوک دینا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَاسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ ثُمَّ مَشَى إِلَيْهَا فَحَكَّهَا فَفَعَلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ فِي مَقَامٍ عَظِيمٍ بَيْنَ يَدَيْ رَبٍّ عَظِيمٍ ، يَسْأَلُ أَمْرًا عَظِيمًا ؛ الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّجَاةَ مِنَ النَّارِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مُسْتَقْبِلَ رَبِّهِ ، وَمَلَكُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَقَرِينُهُ عَنْ يَسَارِهِ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ ثُمَّ لْيَعْرُكْ فَلْيَشْدُدْ عَرْكَهُ ، فَإِنَّمَا يَعْرُكُ أُذُنَ الشَّيْطَانِ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَوْ يَنْكَشِفُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ الْحُجُبُ أَوْ يُؤْذَنُ فِي الْكَلَامِ لَشَكَا مَا يَلْقَى مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے نماز شروع کی تو آپ کو قبلہ کی سمت میں تھوک لگا ہوا نظر آیا آپ نے اپنا جوتا اتارا پھر چلتے ہوئے اس کی طرف گئے اور اسے کھرچ دیا ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ اپنا چرہ پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے عظیم پروردگار کے سامنے ایک اہم جگہ پر کھڑا ہوتا ہے ، اور وہ عظیم چیز کے بارے میں مانگتا ہے ، جو جنت کے ذریعے کامیابی ہے ، اور جہنم سے نجات ہے ، تو جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، اس کا رخ اس کے پروردگار کے سامنے ہوتا ہے فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے ، اس کا قرین اس کے بائیں طرف ہوتا ہے ، تو کوئی بھی شخص اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف ہرگز نہ تھوکے اسے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور پھر کوئی شاخ لے کر اسے اچھی طرح سے صاف کر دینا چاہئے ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اگر تمہارے اور اس کے درمیان موجود حجابات کو ختم کر دیا جائے یا اسے کلام کرنے کی اجازت دی جائے تو وہ اس بات کی شکایت کرے گا کہ اسے اس صورت حال کا جو سامنا کرنا پڑا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عبیداللہ بن زحر کی علی بن یزید کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔