حدیث نمبر: 2011
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ فَتَفَلَ فِي الْقِبْلَةِ وَهُوَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ فَلَمَّا كَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَرْسَلَ إِلَى آخَرَ فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَزَلَ فِيَّ ؟ قَالَ : " لَا، وَلَكِنَّكَ تَفِلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ وَأَنْتَ تَؤُمُّ النَّاسَ فَآذَيْتَ اللَّهَ وَالْمَلَائِكَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائے اس شخص نے لوگوں کو نماز پڑھانے کے دوران قبلہ کی طرف تھوک دیا جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص کو پیغام بھیجا ( کہ وہ نماز پڑھائے ) پہلے والا شخص خوف زدہ ہو گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! لیکن تم نے اپنے سامنے کی طرف تھوک دیا تھا جب کہ تم لوگوں کی امامت کر رہے تھے تو تم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو اذیت پہنچائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2011
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔