کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اقامت کا بیان ، نیز اقامت کے وقت آدمی کیا پڑھے ؟
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور دعا قبول ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُثْمَانَ كَانَ إِذَا جَاءَهُ مَنْ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا ، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُثْمَانَ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی شخص نماز کے لئے بلانے کے لئے آتا تھا تو وہ یہ فرماتے تھے کہ ان لوگوں کو خوش آمدید ہے ، جو عدل کے مطابق بات کرتے ہیں ، اور نماز کو خوش آمدید ہے ، اور مرحبا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے قادہ نامی راوی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع