مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِقَامَةِ وَمَا يَقُولُ عِنْدَهَا . باب: اقامت کا بیان ، نیز اقامت کے وقت آدمی کیا پڑھے ؟
حدیث نمبر: 1919
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ عُثْمَانَ كَانَ إِذَا جَاءَهُ مَنْ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ قَالَ : مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا ، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُثْمَانَ . ¤محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی شخص نماز کے لئے بلانے کے لئے آتا تھا تو وہ یہ فرماتے تھے کہ ان لوگوں کو خوش آمدید ہے ، جو عدل کے مطابق بات کرتے ہیں ، اور نماز کو خوش آمدید ہے ، اور مرحبا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے قادہ نامی راوی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔