کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنبی شخص کی طہارت
عَنْ أَبِي مُوسَى - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ فَرَأَى أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَسَحَ وَجْهَهُ وَدَعَا لَهُ . قَالَ : فَخَرَجَ يَوْمًا فَلَقِيَ حُذَيْفَةَ ، فَخَنَسَ عَنْهُ حُذَيْفَةُ ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا حُذَيْفَةُ ، رَأَيْتُكَ ثُمَّ انْصَرَفْتَ ؟ " قَالَ : لِأَنِّي كُنْتُ جُنُبًا . قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ يَنْجُسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر تشریف لاتے تھے ، تو آپ اپنے اصحاب میں سے جسے بھی دیکھتے تھے اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اسے دعا دیتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ کو سامنے نظر آئے ، لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے ملے بغیر ایک طرف ہو گئے ، پھر جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے حذیفہ ! میں نے تمہیں دیکھا تھا ؟ لیکن پھر تم مڑ گئے ، انہوں نے عرض کی : اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جنابت کی حالت میں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان نجس نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : صَافَحَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا جُنُبٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى ، وَوَثَّقَهُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ مصافحہ کر لیا ، حالانکہ میں جنابت کی حالت میں تھا ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، جس کو امام أحمد نے ، اور ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، معاذ بن معاذ نے بھی اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَسْتَدْفِئُ بِامْرَأَتِهِ فِي الشِّتَاءِ وَهِيَ جُنُبٌ وَقَدِ اغْتَسَلَ هُوَ ، وَيَتَبَرَّدُ بِهَا فِي الصَّيْفِ وَهُمَا كَذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سردیوں میں ، اپنی اہلیہ کو ساتھ لگا کر ، گرمائش حاصل کرتے تھے ، حالانکہ وہ خاتون جنابت کی حالت میں ہوتی تھیں ، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ غسل کر چکے ہوتے تھے ، اسی طرح گرمی میں وہ اس خاتون کے ذریعے ٹھنڈک حاصل کرتے تھے ، حالانکہ وہ دونوں اسی حالت میں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔