حدیث نمبر: 1500
عَنْ أَبِي مُوسَى - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ فَرَأَى أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَسَحَ وَجْهَهُ وَدَعَا لَهُ . قَالَ : فَخَرَجَ يَوْمًا فَلَقِيَ حُذَيْفَةَ ، فَخَنَسَ عَنْهُ حُذَيْفَةُ ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا حُذَيْفَةُ ، رَأَيْتُكَ ثُمَّ انْصَرَفْتَ ؟ " قَالَ : لِأَنِّي كُنْتُ جُنُبًا . قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَيْسَ يَنْجُسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر تشریف لاتے تھے ، تو آپ اپنے اصحاب میں سے جسے بھی دیکھتے تھے اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اسے دعا دیتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ کو سامنے نظر آئے ، لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے ملے بغیر ایک طرف ہو گئے ، پھر جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے حذیفہ ! میں نے تمہیں دیکھا تھا ؟ لیکن پھر تم مڑ گئے ، انہوں نے عرض کی : اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جنابت کی حالت میں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان نجس نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔