عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ جُنُبٌ بِالْخِطْمِيِّ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلْيَغْسِلْ رَأْسَهُ إِنْ شَاءَ بِالْمَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کوئی شخص جنابت کی حالت میں غسل کرنے لگے ، تو اسے خطمی استعمال کرنی چاہیے پھر اس کے بعد غسل کرنا چاہیئے ، اگر وہ چاہے ، تو اپنے سر کو صرف پانی کے ذریعے دھو سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْخِطْمِيِّ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَيَغْتَسِلُ وَلَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : غسل جنابت میں ، وہ اپنے سر کو خطمی کے ذریعے دھوتے تھے ، وہ دھو لیتے تھے اور سر کو ( پانی کے ذریعے ) نہیں دھوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنْ غَسَلَ رَأَسَهُ وَهُوَ جُنُبٌ بِخِطْمِيٍّ فَقَدْ أَبْلَغَ ، وَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَصُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَيْسَ فِي رِجَالِهِ مَنْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص غسل جنابت میں اپنے سر کو خطمی کے ذریعے دھوتا ہے ، اور اچھی طرح دھو لیتا ہے ، اُسے کوئی نقصان نہیں ہو گا ، اگر وہ اس پر پانی نہیں بہاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں کوئی ایسا راوی نہیں ہے ، جسے ” ضعیف“ قرار دیا گیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں کوئی ایسا راوی نہیں ہے ، جسے ” ضعیف“ قرار دیا گیا ہو ۔