کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بلی کے جوٹھے ( پانی ) سے وضو کرنا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَرْضٍ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا : بُطْحَانُ ، فَقَالَ : " يَا أَنَسُ ، اسْكُبْ لِي وُضُوءًا " ، فَسَكَبْتُ لَهُ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجَتَهُ أَقْبَلَ إِلَى الْإِنَاءِ وَقَدْ أَتَى هِرٌّ فَوَلَغَ فِي الْإِنَاءِ ، فَوَقَفَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقْفَةً حَتَّى شَرِبَ الْهِرُّ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرَ الْهِرِّ فَقَالَ : " يَا أَنَسُ ، إِنَّ الْهِرَّ مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ ، لَنْ يُقَذِّرَ شَيْئًا وَلَنْ يُنَجِّسَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الْمَكِّيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُدَرَى مَنْ هُوَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں موجود ایک جگہ کی طرف تشریف لے گئے ، جس کا نام ” بطحان “ تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے انس ! میرے لیے پانی تیار رکھنا ، میں نے آپ کے لیے پانی تیار رکھا ، قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن کی طرف تشریف لائے ، اسی دوران ایک بلی آئی اور اس نے برتن میں منہ ڈال دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے رک گئے ، یہاں تک کہ بلی نے پانی پی لیا ، تو اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، میں نے بلی کا معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے انس ! بلی گھر کے سامان کا حصہ ہے ، یہ کسی چیز کو گندا نہیں کرتی اور ناپاک نہیں کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حفص مکی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمُرُّ بِهِ الْهِرُّ فَيُصْغِي لَهُ الْإِنَاءَ فَيَشْرَبُ مِنْهُ ، فَيَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا " إِصْغَاءَ الْإِنَاءِ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے کوئی بلی گزرتی ، تو آپ برتن اُس کی طرف کر دیتے تھے ، وہ اس میں سے پی لیتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کر لیتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن اُس کی طرف کر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ وُضِعَ لَهُ وَضَوْءٌ فَوَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ ، فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا قَتَادَةَ ، قَدْ وَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ ! فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ، وَإِنَّهُ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَهُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا قَوْلَهُ : " السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ " - وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةُ مُدَلِّسٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي السِّنَّوْرِ وَالْكَلْبِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوقتادہ ، اپنے والد کے بارے میں یہ نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا ، اس میں بلی نے منہ ڈال لیا ، وہ اسی پانی سے وضو کرنے لگے ، تو لوگوں نے کہا: اے سیدنا ابوقتادہ ! اس میں بلی نے منہ ڈال لیا تھا ، تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بلی گھر کے سامان میں سے ایک ہے ، یہ تمہارے گھر میں آنے والے مذکر اور مؤنث ( جانوروں ) میں سے ایک ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ ” سنن “ میں بھی مذکور ہے ، تا ہم اُس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” بلی گھر کے سامان میں سے ایک ہے “
یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔ بلی اور کتے کے بارے میں حدیث آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1086
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند الانصار حديث أبى قتادة الانصاري 22057 صحيح ابن خزيمة كتاب الوضوء جماع ابواب ذكر الماء الذى لا ينجس باب الرخصة فى الوضوء بسور الهرة 105 صحيح ابن حبان كتاب الطهارة باب الاسار ذكر الخبر الدال على أن اسار السباع كلها طاهرة 1315 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب الطهارة واما حديث عائشة 518 موطا مالك كتاب الطهارة باب الطهور للوضوء 41 سنن الدارمي كتاب الطهارة باب الهرة إذا ولغت فى الإناء حديث 769 سنن ابي داود كتاب الطهارة باب سور الهرة 68 السنن الصغرى كتاب المياه باب سيور الهرة 340 مصنف عبد الرزاق الصنعاني باب سور الهر 338 مصنف ابن أبى شيبة كتاب الطهارات من رخص فى الوضوء بسور الهر 324 السنن الكبرى للنسائى كتاب الطهارة سور ا المهر 62»