کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مردار کی کھال کی جب دباغت کر لی گئی ہو (تو اس سے بنے ہوئے مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے ) وضو کرنا یا اُس کھال سے نفع حاصل کرنا
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ ، فَأَتَيْتُ خِبَاءً فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ . قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مَاءٌ ؟ قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ ، وَلَا أَعَزَّ ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ ، وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُحْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهَا فَهِيَ طَهُورُهَا " . قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ : أَيْ وَاللَّهِ لَقَدْ دَبَغْتُهَا . فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا .
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پانی منگوایا ، میں ایک خیمے کے پاس آیا ، جس میں ایک دیہاتی عورت موجود تھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول ، وضو کے لیے پانی طلب کر رہے ہیں ، کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ اس عورت نے کہا: میرے ماں باپ ، اللہ کے رسول پر قربان ہوں ، اللہ کی قسم ! آسمان نے ایسی کسی روح پر سایہ نہیں کیا ، اور زمین نے اُسے اپنے اوپر نہیں اٹھایا ، جو میرے نزدیک آپ کی روح سے زیادہ پسندیدہ اور زیادہ معزز ہو ، یہ ایک مشکیزہ موجود ہے ، جو مردار کی کھال کا بنا ہوا ہے لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس کے ذریعے اللہ کے رسول کو نجس کر دوں ( سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس عورت کے پاس واپس جاؤ ، اگر اس عورت نے اس چمڑے کی دباغت کر لی تھی ، تو پھر وہ ( دباغت ) اس ( چمڑے ) کو پاک کر دے گی ، راوی بیان کرتے ہیں : میں اس عورت کے پاس گیا ، میں نے اس کے سامنے یہ بات ذکر کی ، اُس نے کہا: جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے اس کی دباغت کی ہے ( سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) تو میں اُس میں سے ( نبی اکرم ) کے لیے پانی لے آیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید نے قاسم سے نقل کیا ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور ان دونوں کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید نے قاسم سے نقل کیا ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور ان دونوں کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَوْهَبَ وَضُوءًا ، فَقِيلَ لَهُ : لَمْ نَجِدْ ذَلِكَ إِلَّا فِي مَسْكِ مَيْتَةٍ . قَالَ : " أَدَبَغْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَهَلُمَّ ، فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورُهُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے لیے پانی طلب کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : ہمیں پانی صرف ایک مردہ ( جانور کی کھال سے بنے ہوئے ) مشکیزے میں مل رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے اس کی دباغت کر لی تھی ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر لے آؤ ! کیونکہ یہ ( دباغت ) اُس ( مردار کے چمڑے ) کے لیے طہارت کا باعث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَمَرَّ بِأَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْعَرَبِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ : هَلْ مِنْ مَاءٍ لِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : مَا عِنْدَنَا مَاءٌ إِلَّا فِي إِهَابِ مَيْتَةِ دَبَغْنَاهَا بِلَبَنٍ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَنَّ دِبَاغَهُ طَهُورَهُ ، فَأُتِيَ بِهِ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے ، آپ کا گزر عربوں کے کچھ گھروں کے پاس سے ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا ، کیا اللہ کے رسول کے وضو کرنے کے لیے پانی ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : ہمارے پاس تو جو پانی موجود ہے ، وہ صرف مردہ جانور کے چمڑے ( سے بنے ہوئے مشکیزے ) میں ہے ، جس کی ہم نے دودھ کے ذریعے دباغت کر لی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا کہ اس کی دباغت ہی ، اُسے پاک کرنے کا ذریعہ ہے ، پھر وہ پانی لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے ذریعے وضو کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا بُنَيَّ ادْعُ لِي مِنْ هَذِهِ الدَّارِ بِوَضُوءٍ " فَقُلْتُ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُ وَضُوءًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْهُ أَنَّ دَلْوَنَا جِلْدُ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " سَلْهُمْ : هَلْ دَبَغْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ دِبَاغَهُ طَهُورَهُ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! میرے لیے اس گھر سے وضو کا پانی لے کر آؤ ! میں نے ( ان گھر والوں سے ) کہا: اللہ کے رسول وضو کا پانی طلب کر رہے ہیں ، اس شخص نے کہا: تم انہیں بتا دو ! کہ ہمارا ( چمڑے سے بنا ہوا ) ڈول مردار کی کھال سے بنا ہوا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان سے دریافت کرو ، کیا تم لوگوں نے اس کی دباغت کی تھی ، اُن لوگوں نے ( دریافت کرنے پر ) جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی دباغت اس کی طہارت کا ذریعہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو درست بن زیاد نے یزید رقاشی سے نقل کیا ہے اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو درست بن زیاد نے یزید رقاشی سے نقل کیا ہے اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَرَّاءُ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ . وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ نَحْوَهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَرَّاءُ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ . وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ نَحْوَهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردہ بکری کے پاس سے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے مالکان کو کوئی نقصان نہ ہوتا ، اگر وہ اس کی کھال کے ذریعے نفع حاصل کر لیتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن سعید براء ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن سعید براء ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى عَلَى جَذَعَةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِمَسْكِهَا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا سنان بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اس کے مالکان کو کوئی نقصان نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال کے ذریعے نفع حاصل کر لیتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَأَتَى رَجُلٌ ضَخْمٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عِيسَى ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ . قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ ؟ قَالَ : " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ ؟ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، تُكُلِّمَ فِيهِ لِسُوءٍ حَفِظَهُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، تُكُلِّمَ فِيهِ لِسُوءٍ حَفِظَهُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ .
محمد محی الدین
ثابت بیان کرتے ہیں : میں عبدالرحمن بن ابولیلی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، ایک بھاری بھرکم شخص آیا اور بولا: آپ ابوعیسی ہیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، اس شخص نے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کریں ، جو آپ نے چمڑے کے بارے میں سنی ہے ، انہوں نے بتایا : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص آیا ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں چمڑے میں نماز ادا کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو دباغت کہاں جائے گی ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ہے ، جس کے حافظے کی خرابی کے حوالے سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ہے ، جس کے حافظے کی خرابی کے حوالے سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ ، فَنُقَسِّمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ .
قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ حَدِيثٌ فِي آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ الْمَيْتَةِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ .
قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ حَدِيثٌ فِي آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ الْمَيْتَةِ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، ہمیں ( جنگ میں ) مشرکین کی طرف سے مال غنیمت میں مشکیزے اور برتن ملا کرتے تھے ، تو ہم انہیں تقسیم کر لیتے تھے ، وہ سب مردار ( جانور کی کھال ) کے بنے ہوتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو مشرکین کے برتنوں کے بارے میں ہے ، اس میں مردار ( جانور کی کھال ) کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو مشرکین کے برتنوں کے بارے میں ہے ، اس میں مردار ( جانور کی کھال ) کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ نَحْلِبُهَا ، فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ ؟ " قَالُوا : مَاتَتْ . قَالَ : " مَا فَعَلْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلْقَيْنَاهُ . قَالَ : " أَفَلَا اسْتَنْفَعْتُمْ بِهِ ؟ فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا ، تَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہماری ایک بکری تھی ، جس کا ہم دودھ دوہا کرتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہاری بکری کا کیا بنا ؟ لوگوں نے بتایا : وہ مر گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی کھال کا تم نے کیا کیا ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے پھینک دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اس کے ذریعہ نفع حاصل نہیں کیا ، اس کی دباغت ہی اس کی پاکیزگی کا باعث بن جانی تھی ، اور وہ اسی طرح حلال ہو جانی تھی ، جس طرح شراب سے بنا ہوا سرکہ حلال ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، فرج بن فضالہ نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے اور جمہور نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، فرج بن فضالہ نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے اور جمہور نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا بَأْسَ بِمَسْكِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ .
محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” مردار کی کھال میں کوئی حرج نہیں ہے ، جب اس کی دباغت کر لی گئی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ مُسْلِمٍ الْأَشْجَعِيَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهَا وَهِيَ فِي قُبَّةٍ ، فَقَالَ : " مَا أَحْسَنَهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا مَيْتَةٌ " . قَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهَا .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، وَقَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَشُقُّهَا بَدَلَ : أَتَتَبَّعُهَا . وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، وَقَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَشُقُّهَا بَدَلَ : أَتَتَبَّعُهَا . وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ .
محمد محی الدین
سیده ام مسلم اشجعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ، وہ خاتون اس وقت خیمے میں موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کتنا عمدہ ہے ، اگر اس میں مردار نہ ہو ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : تو میں نے ان چیزوں کو تلاش کرنا شروع کر دیا ( یعنی ان چیزوں کو جو مردار سے بنی ہوئی ہوں ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ، وہ خاتون چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھی ، اور یہ الفاظ ہیں : وہ خاتون فرماتی ہیں : میں نے ان چیزوں کو چیرنا شروع کر دیا ، یہ لفظ اس لفظ کی جگہ ہے : جس میں یہ ذکر ہے : ” میں نے انہیں تلاش کرنا شروع کر دیا “ اس روایت میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ، وہ خاتون چمڑے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھی ، اور یہ الفاظ ہیں : وہ خاتون فرماتی ہیں : میں نے ان چیزوں کو چیرنا شروع کر دیا ، یہ لفظ اس لفظ کی جگہ ہے : جس میں یہ ذکر ہے : ” میں نے انہیں تلاش کرنا شروع کر دیا “ اس روایت میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمِيتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ حَدِيثٌ فِي السُّنَنِ عَنْ كِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ حَدِيثٌ فِي السُّنَنِ عَنْ كِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مردار کے چمڑے یا پٹھے کو استعمال نہ کرو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” سنن “ میں ایک حدیث منقول ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب کے بارے میں ہے ، پچھلی روایت کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” سنن “ میں ایک حدیث منقول ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب کے بارے میں ہے ، پچھلی روایت کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔