کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: مردار کی کھال کی جب دباغت کر لی گئی ہو (تو اس سے بنے ہوئے مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے ) وضو کرنا یا اُس کھال سے نفع حاصل کرنا
حدیث نمبر: 1087
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ ، فَأَتَيْتُ خِبَاءً فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ . قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مَاءٌ ؟ قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ ، وَلَا أَعَزَّ ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ ، وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُحْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهَا فَهِيَ طَهُورُهَا " . قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ : أَيْ وَاللَّهِ لَقَدْ دَبَغْتُهَا . فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پانی منگوایا ، میں ایک خیمے کے پاس آیا ، جس میں ایک دیہاتی عورت موجود تھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول ، وضو کے لیے پانی طلب کر رہے ہیں ، کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ اس عورت نے کہا: میرے ماں باپ ، اللہ کے رسول پر قربان ہوں ، اللہ کی قسم ! آسمان نے ایسی کسی روح پر سایہ نہیں کیا ، اور زمین نے اُسے اپنے اوپر نہیں اٹھایا ، جو میرے نزدیک آپ کی روح سے زیادہ پسندیدہ اور زیادہ معزز ہو ، یہ ایک مشکیزہ موجود ہے ، جو مردار کی کھال کا بنا ہوا ہے لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس کے ذریعے اللہ کے رسول کو نجس کر دوں ( سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس عورت کے پاس واپس جاؤ ، اگر اس عورت نے اس چمڑے کی دباغت کر لی تھی ، تو پھر وہ ( دباغت ) اس ( چمڑے ) کو پاک کر دے گی ، راوی بیان کرتے ہیں : میں اس عورت کے پاس گیا ، میں نے اس کے سامنے یہ بات ذکر کی ، اُس نے کہا: جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے اس کی دباغت کی ہے ( سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) تو میں اُس میں سے ( نبی اکرم ) کے لیے پانی لے آیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید نے قاسم سے نقل کیا ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور ان دونوں کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید نے قاسم سے نقل کیا ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور ان دونوں کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1088
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَوْهَبَ وَضُوءًا ، فَقِيلَ لَهُ : لَمْ نَجِدْ ذَلِكَ إِلَّا فِي مَسْكِ مَيْتَةٍ . قَالَ : " أَدَبَغْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَهَلُمَّ ، فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے لیے پانی طلب کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : ہمیں پانی صرف ایک مردہ ( جانور کی کھال سے بنے ہوئے ) مشکیزے میں مل رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے اس کی دباغت کر لی تھی ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر لے آؤ ! کیونکہ یہ ( دباغت ) اُس ( مردار کے چمڑے ) کے لیے طہارت کا باعث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1089
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَمَرَّ بِأَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْعَرَبِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ : هَلْ مِنْ مَاءٍ لِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالُوا : مَا عِنْدَنَا مَاءٌ إِلَّا فِي إِهَابِ مَيْتَةِ دَبَغْنَاهَا بِلَبَنٍ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَنَّ دِبَاغَهُ طَهُورَهُ ، فَأُتِيَ بِهِ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنگ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے ، آپ کا گزر عربوں کے کچھ گھروں کے پاس سے ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا ، کیا اللہ کے رسول کے وضو کرنے کے لیے پانی ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : ہمارے پاس تو جو پانی موجود ہے ، وہ صرف مردہ جانور کے چمڑے ( سے بنے ہوئے مشکیزے ) میں ہے ، جس کی ہم نے دودھ کے ذریعے دباغت کر لی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا کہ اس کی دباغت ہی ، اُسے پاک کرنے کا ذریعہ ہے ، پھر وہ پانی لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے ذریعے وضو کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1090
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا بُنَيَّ ادْعُ لِي مِنْ هَذِهِ الدَّارِ بِوَضُوءٍ " فَقُلْتُ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُ وَضُوءًا ، فَقَالَ : أَخْبِرْهُ أَنَّ دَلْوَنَا جِلْدُ مَيْتَةٍ ، فَقَالَ : " سَلْهُمْ : هَلْ دَبَغْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ دِبَاغَهُ طَهُورَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، وَكِلَاهُمَا مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے میرے بیٹے ! میرے لیے اس گھر سے وضو کا پانی لے کر آؤ ! میں نے ( ان گھر والوں سے ) کہا: اللہ کے رسول وضو کا پانی طلب کر رہے ہیں ، اس شخص نے کہا: تم انہیں بتا دو ! کہ ہمارا ( چمڑے سے بنا ہوا ) ڈول مردار کی کھال سے بنا ہوا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان سے دریافت کرو ، کیا تم لوگوں نے اس کی دباغت کی تھی ، اُن لوگوں نے ( دریافت کرنے پر ) جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی دباغت اس کی طہارت کا ذریعہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو درست بن زیاد نے یزید رقاشی سے نقل کیا ہے اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اس کو درست بن زیاد نے یزید رقاشی سے نقل کیا ہے اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1091
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَرَّاءُ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ . وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ نَحْوَهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردہ بکری کے پاس سے ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے مالکان کو کوئی نقصان نہ ہوتا ، اگر وہ اس کی کھال کے ذریعے نفع حاصل کر لیتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن سعید براء ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن سعید براء ہے ، جس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1092
وَعَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى عَلَى جَذَعَةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِمَسْكِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سنان بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس تشریف لائے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس کے مالکان کو کوئی نقصان نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال کے ذریعے نفع حاصل کر لیتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس کے مالکان کو کوئی نقصان نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال کے ذریعے نفع حاصل کر لیتے ۔
حدیث نمبر: 1093
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَأَتَى رَجُلٌ ضَخْمٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عِيسَى ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ . قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ ؟ قَالَ : " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، تُكُلِّمَ فِيهِ لِسُوءٍ حَفِظَهُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
ثابت بیان کرتے ہیں : میں عبدالرحمن بن ابولیلی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، ایک بھاری بھرکم شخص آیا اور بولا: آپ ابوعیسی ہیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، اس شخص نے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کریں ، جو آپ نے چمڑے کے بارے میں سنی ہے ، انہوں نے بتایا : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص آیا ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں چمڑے میں نماز ادا کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو دباغت کہاں جائے گی ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ہے ، جس کے حافظے کی خرابی کے حوالے سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ہے ، جس کے حافظے کی خرابی کے حوالے سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1094
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ ، فَنُقَسِّمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ حَدِيثٌ فِي آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ الْمَيْتَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ، ہمیں ( جنگ میں ) مشرکین کی طرف سے مال غنیمت میں مشکیزے اور برتن ملا کرتے تھے ، تو ہم انہیں تقسیم کر لیتے تھے ، وہ سب مردار ( جانور کی کھال ) کے بنے ہوتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو مشرکین کے برتنوں کے بارے میں ہے ، اس میں مردار ( جانور کی کھال ) کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو مشرکین کے برتنوں کے بارے میں ہے ، اس میں مردار ( جانور کی کھال ) کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 1095
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ نَحْلِبُهَا ، فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ ؟ " قَالُوا : مَاتَتْ . قَالَ : " مَا فَعَلْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلْقَيْنَاهُ . قَالَ : " أَفَلَا اسْتَنْفَعْتُمْ بِهِ ؟ فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا ، تَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : ہماری ایک بکری تھی ، جس کا ہم دودھ دوہا کرتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہاری بکری کا کیا بنا ؟ لوگوں نے بتایا : وہ مر گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی کھال کا تم نے کیا کیا ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے پھینک دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اس کے ذریعہ نفع حاصل نہیں کیا ، اس کی دباغت ہی اس کی پاکیزگی کا باعث بن جانی تھی ، اور وہ اسی طرح حلال ہو جانی تھی ، جس طرح سرکہ ، شراب کو حلال کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، فرج بن فضالہ نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے اور جمہور نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، فرج بن فضالہ نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے اور جمہور نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1096
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا بَأْسَ بِمَسْكِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” مردار کی کھال میں کوئی حرج نہیں ہے ، جب اس کی دباغت کر لی گئی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 1097
وَعَنْ أُمِّ مُسْلِمٍ الْأَشْجَعِيَّةِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهَا وَهِيَ فِي قُبَّةٍ ، فَقَالَ : " مَا أَحْسَنَهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا مَيْتَةٌ " . قَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، وَقَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَشُقُّهَا بَدَلَ : أَتَتَبَّعُهَا . وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام مسلم اشجعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ، وہ خاتون اس وقت خیمے میں موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کتنا عمدہ ہے ، اگر اس میں مردار نہ ہو ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : تو میں نے ان چیزوں کو تلاش کرنا شروع کر دیا ( یعنی ان چیزوں کو جو مردار سے بنی ہوئی ہوں ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ، وہ خاتون کمرے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھی ، اور یہ الفاظ ہیں : وہ خاتون فرماتی ہیں : میں نے ان چیزوں کو چیزوں کو چیرنا شروع کر دیا ، یہ لفظ اس لفظ کی جگہ ہے : جس میں یہ ذکر ہے : ” میں نے انہیں تلاش کرنا شروع کر دیا “ اس روایت میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں ، وہ خاتون کمرے کے بنے ہوئے خیمے میں موجود تھی ، اور یہ الفاظ ہیں : وہ خاتون فرماتی ہیں : میں نے ان چیزوں کو چیزوں کو چیرنا شروع کر دیا ، یہ لفظ اس لفظ کی جگہ ہے : جس میں یہ ذکر ہے : ” میں نے انہیں تلاش کرنا شروع کر دیا “ اس روایت میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1098
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمِيتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ حَدِيثٌ فِي السُّنَنِ عَنْ كِتَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مردار کے چمڑے یا پٹھے کو استعمال نہ کرو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” سنن “ میں ایک حدیث منقول ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب کے بارے میں ہے ، پچھلی روایت کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” سنن “ میں ایک حدیث منقول ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب کے بارے میں ہے ، پچھلی روایت کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔