مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ بِفَضْلِ الْهِرِّ . باب: بلی کے جوٹھے ( پانی ) سے وضو کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ وُضِعَ لَهُ وَضَوْءٌ فَوَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ ، فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا قَتَادَةَ ، قَدْ وَلَغَ فِيهِ السِّنَّوْرُ ! فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ، وَإِنَّهُ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَهُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا قَوْلَهُ : " السِّنَّوْرُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ " - وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، غَيْرَ أَنَّ فِيهِ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةُ مُدَلِّسٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي السِّنَّوْرِ وَالْكَلْبِ . ¤عبداللہ بن ابوقتادہ ، اپنے والد کے بارے میں یہ نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ ان کے لیے وضو کا پانی رکھا گیا ، اس میں بلی نے منہ ڈال لیا ، وہ اسی پانی سے وضو کرنے لگے ، تو لوگوں نے کہا: اے سیدنا ابوقتادہ ! اس میں بلی نے منہ ڈال لیا تھا ، تو انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بلی گھر کے سامان میں سے ایک ہے ، یہ تمہارے گھر میں آنے والے مذکر اور مؤنث ( جانوروں ) میں سے ایک ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ ” سنن “ میں بھی مذکور ہے ، تا ہم اُس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” بلی گھر کے سامان میں سے ایک ہے “
یہ روایت عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، جو ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔ بلی اور کتے کے بارے میں حدیث آگے آئے گی ۔