کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بھانجے ، حلیف اور آزاد شدہ غلام کا بیان
حدیث نمبر: 942
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَلِيفٌ مِنْهُمْ ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حلیف بھی ( قوم کے ) لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے ، آزاد کردہ غلام بھی اُن میں سے ایک ہوتا ہے ، قوم کا بھانجا بھی ان کا ایک فرد ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” واقدی“ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 942
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 219»
حدیث نمبر: 943
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ غِيَاثُ بْنُ حَرْبٍ ، ضَعَّفَهُ الْفَلَّاسُ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” قوم کا بھانجا ، ان کا ایک فرد ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی غیاث بن حرب ہے ، جسے فلاس نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 220»
حدیث نمبر: 944
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَوَالِينَا مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ ، وَيُقَالُ : مَسْلَمَةُ بْنُ سَالِمٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہمارے آزاد کردہ غلام بھی ہمارے فرد ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن سالم ہے ، ایک قول کے مطابق اس کا نام مسلمہ بن سالم ہے ، امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 944
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الأوسط 4549»
حدیث نمبر: 945
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلَيَانِ : حَبَشِيٌّ وَقِبْطِيٌّ ، فَاسْتَبَّا يَوْمًا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا حَبَشِيُّ ، وَقَالَ الْآخَرُ : يَا قِبْطِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُولَا هَكَذَا ، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو غلام تھے ، ایک حبشی تھا اور ایک قبطی تھا ، ایک مرتبہ دونوں میں تکرار ہو گئی ، تو اُن میں سے ایک نے کہا: اے حبشی ! اور دوسرے نے کہا: اے قبطی ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس طرح نہ کہو ! تم دونوں ایسے افراد ہو ، جو ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خاندان سے تعلق رکھتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 945
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8210 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 207/1 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4146»
حدیث نمبر: 946
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمًا لِقُرَيْشٍ : " هَلْ فِيكُمْ مَنْ لَيْسَ مِنْكُمْ ؟ " قَالُوا : ابْنُ أُخْتِنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ . قَالَ : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ [ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عُتْبَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُتْبَةَ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ عُتْبَةَ وَلَا إِبْرَاهِيمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد موجود ہے جو تم میں سے نہ ہو ؟ اُنہوں نے عرض کی : ہمارا ایک بھانجا عتبہ بن غزوان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قوم کا بھانجا ، ان کا ایک فرد ہوتا ہے ( اور قوم کا حلیف ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت عتبہ بن ابراہیم بن عتبہ بن غزوان نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو عتبہ ( بن ابراہیم ) یا ابراہیم ( بن عتبہ بن غزوان ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الأمام الطبراني فى معجم الكبير 118/17»
حدیث نمبر: 947
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قوم کا بھانجا اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 947
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح