حدیث نمبر: 948
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ التَّارِيخُ فِي السَّنَةِ الَّتِي قَدِمَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَفِيهَا وُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تاریخ ( یعنی ہجری تقویم ) کا آغاز اس سال سے ہوا ، جس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کر کے ) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ، اُسی سال میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عباد مکی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عباد مکی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
حدیث نمبر: 949
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وُلِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَتُوُفِّيَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ فِيهِ : وَفَتَحَ بَدْرًا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ( الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ) . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن پیدا ہوئے ، پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی ، پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرنے کے لیے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ، پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، پیر کے دن آپ کا وصال ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود پیر کے دن اٹھایا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں پیر کے دن کامیابی حاصل کی ، سورہ مائدہ کی یہ آیت پیر کے دن نازل ہوئی : ” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے جبکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور وہ صحیح کے راویوں میں سے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں پیر کے دن کامیابی حاصل کی ، سورہ مائدہ کی یہ آیت پیر کے دن نازل ہوئی : ” آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے جبکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور وہ صحیح کے راویوں میں سے ہیں ۔
حدیث نمبر: 950
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ برس کی عمر میں ہوا تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال بھی تریسٹھ برس کی عمر میں ہوا ، اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اُس وقت وہ بھی تریسٹھ برس کے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن بحر ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن بحر ہے امام ذہبی فرماتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 951
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 952
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفِيلِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش عام الفیل میں ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 953
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : كَمْ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ ؟ قَالَ : " ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس نے دریافت کیا : سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دس صدیوں کا ، اُس نے دریافت کیا : سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : دس صدیوں کا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین سو پندرہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 954
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ ، فَقَعَدَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ : " هَلْ تَعَوَّذْتَ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنِسِ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ ؟ قَالَ : " آدَمُ " . قُلْتُ : نَبِيٌّ كَانَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مُكَلَّمٌ " . قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " نُوحٌ ، وَبَيْنَهُمَا عَشَرَةُ آبَاءٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " خَيْرٌ مَفْرُوضٌ ، مَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ مِنْهُ " . قُلْتُ : فَالصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ " . قُلْتُ : وَالصِّيَامُ ؟ قَالَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ . قَالَ اللَّهُ : الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَخَلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ، وَسِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . قُلْتُ : وَتَقَدَّمَ أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ وَالْبَزَّارَ فِي بَابِ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، وہ بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم نے جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے شیاطین کے شر سے پناہ مانگ لی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ، میں نے دریافت کیا : کیا وہ نبی تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُن کے ساتھ کلام کیا گیا تھا ، میں نے دریافت کیا : پھر کون ( نبی ) تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا نوح علیہ السلام ، ان دونوں کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے نماز کے بارے میں بتائیے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک بھلائی ہے ، جو لازم قرار دی گئی ہے ، جو شخص چاہے وہ اسے زیادہ حاصل کر سکتا ہے ، میں نے عرض کی : صدقہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اس کا اجر و ثواب ) کئی گنا ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : اور روزہ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روزہ ڈھال ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے ( سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تنگدست شخص کا محنت کر کے ( صدقہ کرنا ) یا کسی غریب کو پوشیدہ طور پر ( صدقہ دینا ) میں نے عرض کی : ( آزاد کرنے کے لئے ) کون سا غلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفع حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ امام أحمد اور امام بزار نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفع حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ امام أحمد اور امام بزار نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 955
وَعَنْ سَعِيدِ - يَعْنِي ابْنَ يَرْبُوعٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " أَنَا أَكْبَرُ أَوْ أَنْتَ ؟ " فَقُلْتُ : أَنْتَ أَكْبَرُ وَأَخْيَرُ مِنِّي ، وَأَنَا أَقْدَمُ سِنًّا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
حضرت سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : میں بڑا ہوں یا تم ؟ تو میں نے عرض کی : آپ ﷺ مجھ سے بڑے ہیں اور مجھ سے بہتر ہیں ، لیکن عمر میری زیادہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 956
وَعَنْ دَغْفَلٍ قَالَ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
دغفل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال 65 سال کی عمر میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 957
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ساٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ( اپنی مسند میں ) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ( اپنی مسند میں ) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 958
وَعَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوحمزہ نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 63 برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 959
وَعَنْ وَاثِلَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُنْزِلَتْ صُحُفُ إِبْرَاهِيمَ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ لَسِتٍّ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، وَالْإِنْجِيلُ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ لِأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : أَرْجُو أَنْ يَكُونَ صَالِحَ الْحَدِيثِ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوئے تھے ، تورات رمضان کے چھ دن گزرنے کے بعد نازل ہوئی تھی ، انجیل رمضان کے تیرہ دن گزرنے کے بعد نازل ہوئی تھی ، قرآن رمضان کے چوبیس دن گزرنے کے بعد نازل ہوا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن داؤد القطان ہے ، جس کو یحیی نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد فرماتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ یہ صالح الحدیث ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عمران بن داؤد القطان ہے ، جس کو یحیی نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد فرماتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ یہ صالح الحدیث ہو گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 960
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَنْزَلَ اللَّهُ صُحُفَ إِبْرَاهِيمَ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ عَلَى مُوسَى لِسِتٍّ خَلَوْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأُنْزِلَ الزَّبُورُ عَلَى دَاوُدَ فِي إِحْدَى عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے رمضان کی پہلی رات گزرنے کے بعد نازل کئے ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر تورات رمضان کی چھ راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوئی ، سیدنا داؤد علیہ السلام پر زبور رمضان کی گیارہ راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوئی اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن رمضان کی چوبیس راتیں گزرنے کے بعد نازل ہوا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 961
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ مِنَ الْهِجْرَةِ وَمِنْكُمْ عَيْنٌ تَطْرِفُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ہمیں یہ بات بتائی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہجرت کے بعد 100 سال گزرنے پر تم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 962
وَعَنْ نُعَيْمُ بْنُ دَجَاجَةَ قَالَ : دَخَلَ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ : لَا يَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ ؟ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ حَيٌّ الْيَوْمَ ، وَاللَّهِ إِنَّ رَخَاءَ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ مِائَةِ عَامٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نعیم بن دجاجہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا : آپ ہی نے یہ بات بیان کی ہے کہ 100 سال گزرنے پر روئے زمین پر موجود کوئی آنکھ جھپکے گی نہیں ( یعنی کوئی زندہ نہیں رہے گا ) حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایک سو سال گزرنے پر ، لوگوں میں سے آج جو زندہ ہے ، اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا “ ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! ایک سو سال گزرنے کے بعد اس اُمت میں سہولت ( یا فراخی ) آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے ( اپنی ، اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے ( اپنی ، اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 963
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ إِذْ جَاءَ أَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : قَدْ جَاءَ فَرُّوخُ فَجَلَسَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : إِنَّكَ تُفْتِي النَّاسَ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، وَأُخْبِرُهُمُ [ السَّاعَةَ ] أَنَّ الْآخَرَ شَرٌّ . قَالَ : فَأَخْبِرْنِي ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ " ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَخْطَأَتِ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ ، وَأَخْطَأْتَ فِي أَوَّلِ فُتْيَاكَ ، إِنَّمَا قَالَ ذَاكَ لِمَنْ حَضَرَهُ يَوْمَئِذٍ ، هَلِ الرَّخَاءُ إِلَّا بَعْدَ الْمِائَةِ ؟ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
نعیم بن دجاجہ بیان کرتے ہیں : میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فروخ آ گیا ہے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگوں کو حکم بیان کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں انہیں وقت کے بارے میں بتاتا ہوں ، کہ بعد والا وقت زیادہ برا ہو گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم مجھے بتاؤ ! کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک سو سال گزرنے کے بعد روئے زمین پر کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ( مفہوم سمجھنے میں ) غلطی کی ہے اور تم نے اپنے پہلے فتوی میں غلطی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جو لوگ اُس وقت وہاں موجود تھے ( ایک سو سال گزرنے کے بعد اُن میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے ) سہولت ، تو ایک سو سال کے بعد ہی آئے گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال بھی ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 964
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَجْرَأُ النَّاسِ عَلَى مَسْأَلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْرَابُ ، وَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ بِشَيْءٍ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى فَأَخَفَّ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْأَعْرَابِيُّ ، وَقَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ وَمَرَّ بِهِ سَعْدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا عُمِّرَ حَتَّى يَأْكُلَ عُمْرَهُ ، لَمْ يَبْقَ مِنْكُمْ عَيْنٌ تَطْرِفُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ فِي الصَّحِيحِ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا حَتَّى يَسْتَكْمِلَ عُمْرَهُ لَمْ يَمُتْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَبْيَنُ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ جرات کا مظاہرہ دیہاتی لوگ کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر نماز ادا کی ، پھر آپ دیہاتی کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ آپ کے پاس سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ گزرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس شخص کی طبعی عمر ہوئی ، تو تم لوگوں میں سے کوئی بھی ( اُس وقت تک ) زندہ نہیں رہے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ” اگر یہ زندہ رہا ، یہاں تک کہ اس کی طبعی عمر مکمل ہوئی ، تو اس کے مرنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت زیادہ واضح ہے ، اگرچہ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت زیادہ واضح ہے ، اگرچہ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 965
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَأْتِي الْمِائَةُ وَعَلَى ظَهْرِهَا أَحَدٌ بَاقٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَتَابِعَيْهِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي شِمْرٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ : عَنْ أَبِيهِ ، رَوَى عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ بْنُ سَوَادٍ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفیان بن وہب خولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک سو سال گزرنے تک روئے زمین پر کوئی بھی باقی نہیں رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کے راوی سعید بن ابوشمر کا ذکر این ابوحاتم نے کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : انہوں نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے ، اور ان سے ابوبکر بن سواد نے روایت نقل کی ہے ، حالانکہ ان سے عبدالرحمن بن شریح نے روایت نقل کی ہے ، اور کسی نے ان کو ضعیف قرار نہیں دیا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کے راوی سعید بن ابوشمر کا ذکر این ابوحاتم نے کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : انہوں نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے ، اور ان سے ابوبکر بن سواد نے روایت نقل کی ہے ، حالانکہ ان سے عبدالرحمن بن شریح نے روایت نقل کی ہے ، اور کسی نے ان کو ضعیف قرار نہیں دیا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 966
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ - رَفَعَهُ مُعَاوِيَةُ مَرَّةً ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ أُخْرَى - : " أَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَا يُعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ ، وَإِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ ; فَعِنْدَ ذَلِكَ تُفْتَحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ عَزَاهُ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى أَبِي دَاوُدَ فِي الْمَلَاحِمِ ، وَلَمْ أَجِدْهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے : معاویہ نامی راوی نے ایک مرتبہ اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ایک مرتبہ اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ( بلکہ موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کو نصف دن ( یعنی پانچ سو سال ) سے عاجز نہیں کرے گا اور جب تم شام کو دیکھو کہ وہ آدمی اور اُس کے اہل بیت کا دستر خوان ہو ، تو اس وقت قسطنطنیہ فتح ہو گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ” اطراف “ کے مصنف نے اس کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے اور یہ کہا: ہے : یہ روایت جنگوں سے متعلق باب میں ہے ، لیکن مجھے اس کتاب میں یہ روایت نہیں ملی ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ” اطراف “ کے مصنف نے اس کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے اور یہ کہا: ہے : یہ روایت جنگوں سے متعلق باب میں ہے ، لیکن مجھے اس کتاب میں یہ روایت نہیں ملی ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 967
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَكْثَرُ النَّاسِ يَقُولُونَ : الْقَضَاءُ فِي مِائَةٍ - يَعْنُونَ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ تَكُونُ الْقِيَامَةُ - فَقَالَ الْمِقْدَامُ : قَدْ أَكْثَرْتُمْ ، لَنْ يُعْجِزَ اللَّهُ أَنْ يُؤَخِّرَ هَذِهِ الْأُمَّةَ نِصْفَ يَوْمٍ ؛ يَعْنِي خَمْسَمِائَةِ سَنَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن راشد بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کو سنا : اکثر لوگوں کا یہ کہنا تھا : سو سال میں فیصلہ آ جائے گا ، یعنی 100 ہجری میں قیامت آ جائے گی ، تو سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے زیادہ ہی کر دیا ہے ، ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو نصف دن کا وقت بھی نہ دے ، اُن کی مراد 500 سال تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 968
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَنْقَضِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَيْنٌ تَطْرِفُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک سو سال گزرنے پر کوئی آنکھ نہیں جھپکے گی ( یعنی کوئی شخص زندہ نہیں رہے گا ) “ ۔
حدیث نمبر: 969
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - رِيحًا يَبْعَثُهَا عِنْدَ رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ ، فَيَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سو سال گزرنے پر ، اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا اور اُس کے ذریعے ) ہر مؤمن کی روح قبض کر لے گا “ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 970
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، انَّهُ لَيْسَ الْيَوْمَ نَفْسٌ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ فَيَعْبَأُ اللَّهُ بِهَا شَيْئًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا . وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ - وَهُوَ ضَعِيفٌ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ صَخْرٍ ، وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آج جو لوگ زندہ ہیں ، اُن میں سے کسی پر بھی ایک سو سال گزرنے کا وقت نہیں آئے گا ، اللہ تعالیٰ کو اس کے حوالے سے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہو گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہی روایت امام بزار نے ، اس سے زیادہ طویل روایت کے درمیان میں بیان کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس نے اسے عبداللہ بن قدامہ بن صخر سے روایت کیا ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون ہے ؟
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہی روایت امام بزار نے ، اس سے زیادہ طویل روایت کے درمیان میں بیان کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس نے اسے عبداللہ بن قدامہ بن صخر سے روایت کیا ہے ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون ہے ؟
حدیث نمبر: 971
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : أَدْرَكْتُ ثَمَانِيَ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ بِكَلِمَةٍ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ ، وَشُيُوخُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں ، میں غزوہ احد کے سال پیدا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن ولید بن عبداللہ بن جمیع ہے ، ابن عدی نے اس کا ذکر ” کتاب الکامل “ میں کیا ہے ، لیکن اُس کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، امام أحمد نے اس سے روایت نقل کی ہے اور اس کے شیوخ ، ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن ولید بن عبداللہ بن جمیع ہے ، ابن عدی نے اس کا ذکر ” کتاب الکامل “ میں کیا ہے ، لیکن اُس کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، امام أحمد نے اس سے روایت نقل کی ہے اور اس کے شیوخ ، ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 972
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا غُلَامٌ أَحْمِلُ اللَّحْمَ مِنَ السَّهْلِ إِلَى الْجَبَلِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرَوَاهُ مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَذَكَرَ لَهُ حَدِيثًا فِي : أَنَّ الدَّجَّالَ هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَلَا أَدْرِي أَرَادَ لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ هَذَا وَحْدَهُ أَوْ جَمِيعِ حَدِيثِهِ ، وَالْآخَرُ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے ، میں اُس وقت لڑکا تھا ، اور نیچے سے گوشت اُٹھا کر پہاڑ پر لے جایا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے مہدی بن عمران نے روایت کیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو نقل کرنے میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی ہے انہوں نے اس کے حوالے سے وہ حدیث نقل کی ہے ، جن میں یہ مذکور ہے : دجال ، ابن صیاد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : مجھے نہیں معلوم کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد کیا ہے ؟ کیا یہ کہ صرف اُس ایک حدیث کے حوالے سے اس کی سماعت نہیں کی گئی ہے ، یا ان کی مراد اس راوی کی نقل کردہ تمام حدیث ہیں ، دوسرا راوی خالد بن ابویحیی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے مہدی بن عمران نے روایت کیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو نقل کرنے میں اس راوی کی متابعت نہیں کی گئی ہے انہوں نے اس کے حوالے سے وہ حدیث نقل کی ہے ، جن میں یہ مذکور ہے : دجال ، ابن صیاد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : مجھے نہیں معلوم کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی مراد کیا ہے ؟ کیا یہ کہ صرف اُس ایک حدیث کے حوالے سے اس کی سماعت نہیں کی گئی ہے ، یا ان کی مراد اس راوی کی نقل کردہ تمام حدیث ہیں ، دوسرا راوی خالد بن ابویحیی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 973
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : أَدْرَكْتُ ثَمَانِيَ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ وُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ : قَالَ أَبِي : قَدِمَ عَلَيْنَا ثَابِتٌ الْكُوفَةَ ، فَنَزَلَ مَدِينَةَ أَبِي جَعْفَرٍ ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَسَمِعْنَا مِنْهُ أَحَادِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں ، میں غزوہ اُحد کے سال پیدا ہوا تھا ۔ امام أحمد کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں : میرے والد فرماتے ہیں : ثابت ہمارے پاس کوفہ آئے تھے ، وہ ( عباسی خلیفہ ) ابوجعفر ( منصور ) کے آباد کیے ہوئے شہر میں ٹھہرے تھے ، میں اور یحیی بن معین گئے تھے ، اور ہم نے اُن سے احادیث کا سماع کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 974
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ خَيْرٍ : كَمْ أَتَى عَلَيْكَ ؟ قَالَ : عِشْرُونَ وَمِائَةُ سَنَةٍ . قُلْتُ : هَلْ تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كُنَّا بِبِلَادِ الْيَمَنِ ، فَجَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى خَيْرٍ وَاسِعٍ ، فَكَانَ أَبِي مِمَّنْ خَرَجَ وَأَنَا غُلَامٌ ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبِي قَالَ لِأُمِّي : مُرِي بِهَذِهِ الْقِدْرِ فَلْتُرَاقَ لِلْكِلَابِ ; فَإِنَّا قَدْ أَسْلَمْنَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي كَثِيرٌ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالتَّارِيخِ وَغَيْرِهِ فِي أَوَاخِرِ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن سلع بیان کرتے ہیں : میں نے عبدخیر سے دریافت کیا : آپ کی عمر کتنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : 120 سال ، میں نے دریافت کیا : کیا آپ کو زمانہ جاہلیت کی کوئی چیز یاد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ہم یمن میں اپنے علاقے میں تھے ، ہمارے پاس اللہ کے رسول کا مکتوب آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک کشادہ بھلائی کی طرف دعوت دی تھی ، میرے والد بھی جانے والوں میں شامل تھے ، میں ان دنوں لڑکا تھا ، جب میرے والد واپس آئے ، تو انہوں نے میری والدہ سے کہا : تم ہنڈیا کے بارے میں ہدایت کرو ، کہ اُس کا کھانا کتوں کے آگے ڈال دیا جائے ، کیونکہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ایسی بہت سی روایات ، جو تاریخ اور دیگر امور سے متعلق ہیں ، وہ صحابہ کرام کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ایسی بہت سی روایات ، جو تاریخ اور دیگر امور سے متعلق ہیں ، وہ صحابہ کرام کے مناقب سے متعلق باب کے آخر میں آئیں گی ۔