کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: علم نسب کا بیان
حدیث نمبر: 929
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْبَاطِ ، بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ اپنے نسب کا علم حاصل کرو ، تاکہ اس کے ذریعے تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابواسباط بشر بن رافع ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 8308»
حدیث نمبر: 930
وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ خَارِجَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علاء بن خارجہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ اپنے انساب کا علم حاصل کرو ، تاکہ اس کے ذریعے اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ پوری روایت صلہ رحمی کرنے سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 931
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ : أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْأَمْرِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ ، مَنْ أَبُونَا ؟ قَالَ : " آدَمُ " . قَالَ : مَنْ أُمُّنَا ؟ قَالَ : " حَوَّاءُ " . قَالَ : مَنْ أَبُو الْجِنِّ ؟ قَالَ : " إِبْلِيسُ " . قَالَ : فَمَنْ أُمُّهُمْ ؟ قَالَ : " امْرَأَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ ، وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں کسی سے اس بارے میں سوال نہیں کروں گا ، ہمارے باپ ( یعنی بنی نوع انسان کے جدامجد ) کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ، انہوں نے دریافت کیا : ہماری ماں کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدہ حواء رضی اللہ عنہا ، انہوں نے دریافت کیا : جنات کا جدامجد کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابلیس ، انہوں نے دریافت کیا : اُن کی ماں کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی بیوی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 931
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 6174»
حدیث نمبر: 932
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَلَدُ نُوحٍ : سَامُ وَحَامُ وَيَافِثُ ، فَوَلَدَ سَامُ الْعَرَبَ وَفَارِسَ وَالرُّومَ وَالْخَيْرُ فِيهِمْ ، وَوَلَدَ يَافِثُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالتُّرْكَ وَالصَّقَالِبَةَ وَلَا خَيْرَ فِيهِمْ ، وَوَلَدَ حَامُ الْقِبْطَ وَالْبَرْبَرَ وَالسُّودَانَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ عَنْ أَبِيهِ . فَمُحَمَّدٌ : وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ : صَدُوقٌ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، فَقَالَ : مَحَلُّهُ الصِّدْقُ . وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : مُقَارَبُ الْحَدِيثِ ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سیدنا نوح علیہ السلام کی اولاد یہ ہے : سام ، حام اور یافث ، سام کی اولاد اہل عرب ، اہل فارس اور اہل روم ہیں ، اور بھلائی ان میں ہے ، یافث کی اولاد یاجوج ماجوج ، ترک اور صقالبہ ہیں ، ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جبکہ حام کی اولاد قبطی ، بربر اور سیاہ فام لوگ ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے ، جس نے اپنے باپ سے یہ روایت نقل کی ہے ، محمد نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں یہ صدوق ہے ، یحیی بن معین اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، یزید بن سنان نامی راوی کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس کا محل صدق ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ، یحیی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 932
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 218»
حدیث نمبر: 933
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَلَدَ نُوحٌ ثَلَاثَةً : فَسَامُ أَبُو الْعَرَبِ ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشَةِ ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے ، سام ، عربوں کے جدامجد ہیں ، حام ، حبشیوں کے جدامجد ہیں اور یافث ، رومیوں کے جدامجد ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 933
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 145/18146»
حدیث نمبر: 934
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَعَدُّ بْنُ عَدْنَانَ بْنِ [ أُدِّ بْنِ ] أُدَدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ بَراءِ بْنِ أَعْرَاقِ الثَّرَى " . قَالَتْ : ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَهْلَكَ عَادًا وَثَمُودًا وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ " ، فَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ : مَعَدٌّ مَعَدٌّ ، وَعَدْنَانُ عَدْنَانُ ، وَأُدَدٌ أُدَدٌ ، وَزَيْدُ بْنُ هُمَيْسَعِ ، وَبَرَاءٌ : تِبْتٌ ، وَأَعْرَاقُ الثَّرَى ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ : عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ مِنْ ذُرِّيَّةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” معد بن عدنان بن ادّ بن اُد بن زید بن براء بن اعراق الثرى ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ، قوم ثمود کو ، اصحاب رس کو اور اُن کے درمیان اور بھی بہت سے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کیا ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : معد ، معد اور عدنان ، عدنان اور اُدد ، ادد اور زید بن ہمیسع اور براء ، تبت اور اعراق الثریٰ ، اسماعیل بن ابراہیم ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی اولاد میں سے ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 934
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، راوی عبد العزیز بن عمران کے جمہور کے نزدیک ضعیف ہونے کی وجہ سے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 62/2»
حدیث نمبر: 935
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : اسْتَقَامَ نَسَبُ النَّاسِ إِلَى مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : لوگوں کا نسب معد بن عدنان تک ٹھیک رہتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8249»
حدیث نمبر: 936
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ ؟ أَرْجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ . قَالَ : " بَلْ هُوَ رَجُلٌ ، وُلِدَ لَهُ عَشَرَةٌ ، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَسَكَنَ الشَّامَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارُ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلُّهَا ، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي سُورَةِ سَبَأٍ ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سبا کے بارے میں دریافت کیا : کہ وہ کیا ہے ؟ کیا وہ مرد ہے ؟ یا عورت ہے ؟ یا کوئی جگہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ مرد ہے ، جس کے دس بچے ہوئے تھے ، جن میں سے چھ یمن میں رہائش پذیر ہوئے اور ان میں سے چار شام میں رہائش پذیر ہوئے ، یمن میں رہنے والوں کے نام یہ ہیں : مذحج ، کندہ ، ازد ، اشعریون ، انمار اور حمیر عرب سبھی لوگ ، شامیوں کے نام یہ ہیں ، لخم ، جذام ، عاملہ اور غسان ۔
یہ روایت امام أحمد نے ( اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یزید بن حصین کی نقل کردہ روایت آگے آئے گی ، جو سورہ سہا سے متعلق باب کے ضمن میں آئے گی ، اور وہ اس روایت سے زیادہ مستند ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 936
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 316/1 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12992 اورده المؤلف فى زوائد المسند 264»
حدیث نمبر: 937
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقُمْتُ فَقَالَ : " اقْعُدْ " ، فَصَنَعَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ أَقُومُ فَيَقُولُ : " اقْعُدْ " ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قُلْتُ : " مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ " قَالَ : " أَنْتُمْ - مَعْشَرَ قُضَاعَةَ - مِنْ حِمْيَرَ " . قَالَ عَمْرٌو : فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ عِنْدُهُ طُرُقٌ ، فَفِي بَعْضِهَا : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّنْ نَحْنُ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ مِنَ الْيَدِ الطَّلِيقَةِ وَاللُّقْمَةِ الْهَنِيَّةِ ؛ مِنْ حِمْيَرَ " . وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہاں جو شخص ” معد“ سے تعلق رکھتا ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ میں ہی کھڑا ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما دیتے : تم بیٹھ جاؤ ! جب تیسری مرتبہ ایسا ہوا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ( نسبی ) تعلق کس سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے قضاعہ قبیلے کے افراد ! تم لوگ ” حمیر “ سے تعلق رکھتے ہو ۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ میں نے بیس سال تک یہ حدیث چھپا کے رکھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے ( اپنی اپنی مسند میں ) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کے مختلف طرق نقل کئے ہیں ، جن میں سے ایک میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ( نسبی ) تعلق کس سے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا تعلق پھیلے ہوئے ہاتھ اور سیر کرنے والے لقمے ( شاید اس سے مراد مہمان نواز اور سخی ہونا ہے ) ” حمیر “ سے ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 937
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 231/4 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1554 اورده المؤلف فى زوائد المسند 265 اورده المؤلف فى كشف الاستار 221 اورده المؤلف فى المقصد العلى 92»
حدیث نمبر: 938
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ أَيْضًا قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " . فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " ، فَجَلَسَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " اجْلِسْ " ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِمَّنْ نَحْنُ ؟ قَالَ : " أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ ، النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ " . فَقَالَ عَمْرٌو : فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى كَانَ أَيَّامُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَبَعَثَ إِلَيَّ فَقَالَ : هَلْ لَكَ أَنْ تَرْقَى الْمِنْبَرَ ، فَتَذْكُرَ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ ، عَلَى أَنْ أُطْعِمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتِي ؟ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ : نَعَمْ . فَنَادَى بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، وَجَاءَ عَمْرٌو يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ ، حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ النَّاسِ ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ ، أَلَا إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ دَعَانِي عَلَى أَنْ أَرْقَى الْمِنْبَرَ ، فَأَذْكُرَ أَنَّ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ ، أَلَا : ¤ إِنَّا بَنُو الشَّيْخِ الْهَجَّانِ الْأَزْهَرِ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرِ النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ ¤ ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : إِيهِ عَنْكَ يَا غُدَرُ ، ثَلَاثًا ، قَالَ : هُوَ مَا رَأَيْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَاتَّبَعَهُ ابْنُهُ زُهَيْرٌ فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَةِ ، مَا كَانَ عَلَيْكَ إِذَا أَطَعْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَطْعَمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتَهُ ؟ فَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ لَوْ قَدْ أَطَعْتُكَ يَا زُهَيْرُ كَسَوْتَنِي فِي النَّاسِ ضَاحِيَةً رِدَاءَ شَنَارِ ¤ قَحْطَانُ وَالِدُنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ وَأَبُو خُزَيْمَةَ خِنْدَفُ بْنُ نِزَارِ ¤ أَضَلَالُ لَيْلٍ سَاقِطٍ أَوْرَاقُهُ فِي النَّاسِ أَعْذَرُ أَمْ ضَلَالُ نَهَارِ ¤ أَنَبِيعُ وَالِدَنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ بِأَبِي مَعَاشِرَ غَائِبٍ مُتَوَارِ ¤ تِلْكَ التِّجَارَةُ لَا نَبُوءُ بِمِثْلِهَا ذَهَبٌ يُبَاعُ بِآنِكٍ وَإِبَارِ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَلْهَاثُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : حَدِيثُهُ عَنْ آبَائِهِ لَا يَصِحُّ . وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ آبَائِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں جو شخص ” معد “ سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں ” معد“ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! اُس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہاں ” معد “ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے ، وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا تعلق کس سے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ قضاعہ بن مالک بن حمیر ( کی اولاد ) سے تعلق رکھتے ہو ، جو ایک معروف نسب ہے ، منکر نہیں ہے ۔ سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ روایت چھپا کے رکھی ، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلایا اور بولے : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ تم منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا تذکرہ کرو ! اس کے بدلے میں ، میں تمہیں زندگی بھر عراقین ( دو عراق ، یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج ادا کرتا رہوں گا ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے تو یہ اعلان کیا گیا : لوگ جمع ہو جائیں ، لوگ جمع ہو گئے ، سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آئے اور منبر پر چڑھ گئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگوں کے گروہ ! جو شخص مجھے جانتا ہے ، وہ تو مجھے جانتا ہی ہے ، اور جو مجھے نہیں جانتا ، تو میں عمرو بن مرہ جہنی ہوں ، معاویہ بن ابوسفیان نے مجھے بلوایا ، تاکہ میں منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا ذکر کروں : بے شک ہم چمکدار اور روشن بزرگ کی اولاد ہیں ، جو قضاعہ بن مالک بن حمیر ہے ، جو ایک معروف نسب ہے اور منکر نہیں ہے ۔ پھر وہ منبر سے نیچے آ گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے وعدہ خلاف ! یہ کیا کیا ہے ؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ۔ تو سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہی چیز ہے جو آپ نے ملاحظہ فرمائی ہے ، اے امیرالمؤمنین ! تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے زہیر ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا: اے ابا جان ! آپ پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، اگر آپ امیر المؤمنین کی بات مان لیں ، وہ آپ کو دونوں عراقوں ( یعنی کوفہ اور بصرہ ) اور مصر کا خراج زندگی بھر دیتے رہیں گے ، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : اے زہیر ! اگر میں تمہاری بات مان لوں تو تم نے لوگوں کے درمیان دن دیہاڑے مجھے عار کی چادر اوڑھا دی ہے ۔ ہمارا جدامجد قحطان ہے جس کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور ابوخزیمہ خندف بن نزار ہے ۔ کیا تاریک رات میں لوگوں کے درمیان اپنے پتے گرانے والا زیادہ معذور شمار ہو گا ، یا دن میں ایسا کرنے والا ( زیادہ معذور شمار ہو گا ) ۔ جس باپ کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے ، کیا ہم اسے مختلف گروہوں کے جدامجد کے عوض میں فروخت کر دیں جو پوشیدہ اور چھپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا سودا ہو گا ، جیسے سونے کو ڈھیلوں اور پتھروں کے عوض میں فروخت کر دیا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دلہاث بن داؤد ہے ، ازدی فرماتے ہیں : اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ مستند نہیں ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) یہ حدیث بھی اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 938
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 939
وَعَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : حَضَرْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " ، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُضَاعَةُ مِنْ حِمْيَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ وَالِدَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَإِنِّي لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
ربیع بن سبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں ” معد “ ( کی اولاد ) سے تعلق رکھنے والا جو فرد موجود ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قضاعہ کا تعلق حمیر سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ابوعبید دراور دی کا معاملہ مختلف ہے ، جو عبدالعزیز کے والد ہیں ، میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 939
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف لجہالۃ أحد رواتہ
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير ! 6554»
حدیث نمبر: 940
وَعَنْ أَبِي عُشَّانَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَأَنَا فِي غَنَمٍ لِي أَرْعَاهَا ، فَتَرَكْتُهَا ثُمَّ ذَهَبْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : تُبَايِعُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ : أَبَيْعَةُ هِجْرَةٍ أَوْ بَيْعَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ ؟ " فَقُلْتُ : بَيْعَةُ هِجْرَةٍ ، فَبَايَعَنِي . ثُمَّ قَالَ يَوْمًا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " فَقُمْتُ فَقَالَ : " اقْعُدْ " ثُمَّ قَالَ : " مَنْ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ " فَقُمْتُ فَقَالَ : " اقْعُدْ " ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةُ فَقُمْتُ ، فَقَالَ : " اقْعُدْ " فَقُلْتُ : مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَشَيْخُهُ مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوعشانہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، میں اُس وقت اپنی بکریاں چرا رہا تھا ، میں نے بکریوں کو چھوڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بیعت لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کون سے خاندان سے ہے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سی چیز تمہارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ کیا ہجرت کی بیعت ؟ یا دیہاتی رہنے کی بیعت ؟ میں نے عرض کی : ہجرت کی بیعت ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیعت لے لی ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے ارشاد فرمایا : یہاں معد ( کی اولاد ) سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے وہ کھڑا ہو جائے ، تو میں کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں جو شخص معد سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے ، میں کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات ارشاد فرمائی ، تو میں کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم قضاعه بن مالک بن حمیر سے تعلق رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُن کا استاد معروف بن سوید ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 304/17»
حدیث نمبر: 941
وَعَنِ الْجَفْشِيشِ الْكِنْدِيِّ قَالَ : جَاءَ قَوْمٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَنْتَ مِنَّا وَادَّعَوْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا ، نَحْنُ مِنْ وَلَدِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَالدَّارَقُطْنِيُّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي كَثِيرٌ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالْأَنْسَابِ وَالْوَفَيَاتِ وَالْأَسْمَاءِ وَالْكُنَى فِي أَوَاخِرِ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جفشیش کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کندہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُنہوں نے کہا: آپ ہمارے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، انہوں نے یہ دعویٰ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم اپنی ماں کی طرف نسب کی نسبت نہیں کرتے اور اپنے باپ کی نفی نہیں کرتے ہیں ، ہم نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابوحاتم اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نسب ، وفات ، اسماء اور کنیت سے متعلق بہت کی روایات ” مناقب صحابہ “ سے متعلق باب کے آخر میں آگے آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 941
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 81/1»