کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: لکیر لگانے کا علم ( یعنی علم رمل کا بیان )
حدیث نمبر: 925
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ ، فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ ذَلِكَ الْخَطَّ عَلِمَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَبِي الصَّبَاحِ : مُحَمَّدِ بْنِ اللَّيْثِ ، وَأَبُو الصَّبَاحِ مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” انبیاء میں سے ایک نبی لکیر لگایا کرتے تھے ( یعنی علم رمل کے ذریعے حساب لگاتے تھے ، اب کے زمانے میں ) اگر کسی کی لکیر ( یعنی حساب لگانے کا طریقہ ) اُن کی لکیر کے مطابق ہو ، تو اسے علم ہو جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزاز نے اپنے استاد ابوصباح محمد بن لیث سے روایت کی ہے اور ابوصباح محمد بن لیث کا تذکرہ ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں یہ غلطی بھی کرتا ہے ( اور یہ دوسرے راویوں سے ) مختلف بھی نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 184»
حدیث نمبر: 926
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - قَالَ سُفْيَانُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ قَالَ : " الْخَطُّ " ) . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہو گی ( قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” یا علم کا بقیہ حصہ ۔ “ اس سے مراد لکیر لگانا ( یعنی علم رمل ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 226/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 3313»
حدیث نمبر: 927
قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْخَطِّ ، فَقَالَ : " هُوَ أَثَارَةٌ مِنْ عِلْمٍ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ بات نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے لکیر لگانے ( یعنی علم رمل ) کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ علم کے بقیہ حصے میں شامل ہے ( جس کا ذکر قرآن میں ہے ) ۔
امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10725 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 269»
حدیث نمبر: 928
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا قَالَ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ( أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ ) قَالَ : جَوْدَةُ الْخَطِّ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں : ” یا علم کا بقیہ حصہ ۔ “ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد عمدہ خط ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 472»