کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اسلاف کی پیروی کرنا
حدیث نمبر: 853
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : اتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا ، فَقَدْ كُفِيتُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( اسلاف کی ) پیروی کرو اور بدعت اختیار نہ کرو ، تمہاری کفایت ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8770»
حدیث نمبر: 854
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عَلَى بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى فَقَالَ : اخْرُجْ إِلَيْنَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَخَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ أَمْرًا ذَعَرَنِي ، وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ ، وَلَقَدْ ذَعَرَنِي ، وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ ، قَوْمٌ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يَقُولُ : سَبِّحُوا كَذَا وَكَذَا ، احْمَدُوا كَذَا وَكَذَا . قَالَ : فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُمْ ، فَقَالَ : مَا أَسْرَعَ مَا ضَلَلْتُمْ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْيَاءٌ ، وَأَزْوَاجُهُ شَوَابٌّ ، وَثِيَابُهُ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُغَيَّرْ ، احْصُوا سَيِّئَاتِكُمْ ، فَأَنَا أَضْمَنُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُحْصِيَ حَسَنَاتِكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مغرب اور عشاء کے درمیان ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، انہوں نے فرمایا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ ہمارے پاس باہر تشریف لے آئیں ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ باہر آ گئے ، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس وقت کیوں آئے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں نے ایک معاملہ دیکھا ، جس نے مجھے پریشان کر دیا وہ بات بھلائی کی ہے ، لیکن اس نے مجھے پریشان کر دیا ہے ، اگرچہ وہ بات بھلائی کی ہے ، کچھ لوگ ایک مسجد میں اکٹھے بیٹھے تھے ، ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے : اتنی اتنی مرتبہ سبحان اللہ پڑھو ! اتنی اتنی مرتبہ الحمد للہ پڑھو ! راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چل پڑے ، ان کے ساتھ ہم بھی روانہ ہو گئے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے اور بولے : تم لوگ کتنی جلدی گمراہی کا شکار ہو گئے ہو ؟ حالانکہ اللہ کے رسول کے اصحاب ابھی زندہ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج موجود ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اور برتن خراب نہیں ہوئے ہیں ، تم لوگ اپنی برائیاں شمار کرو ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ضمانت دیتا ہوں کہ وہ تمہاری نیکیاں شمار کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ ، امام أحمد بن حنبل اور یحیی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الأمام الطبراني فى معجمه 8636»
حدیث نمبر: 855
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : بَلَغَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْمًا يَقْعُدُونَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ يَقُولُونَ : قُولُوا كَذَا ، قُولُوا كَذَا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ فَعَلُوا فَآذِنُونِي ، فَلَمَّا جَلَسُوا أَتَوْهُ ، فَانْطَلَقَ مَعَهُمْ ، فَجَلَسَ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ ، فَأَخَذُوا فِي تَسْبِيحِهِمْ ، فَحَسَرَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ رَأْسِهِ الْبُرْنُسَ وَقَالَ : أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : لَقَدْ جِئْتُمْ بِدْعَةً ظُلْمًا ، وَإِلَّا فَضَلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَمْرُو بْنُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَتَفَرَّقُوا . قَالَ : وَرَأَى ابْنُ مَسْعُودٍ حَلْقَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَقَامَ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ : أَيَّتُكُمَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا ؟ قَالَتْ إِحْدَاهُمَا : نَحْنُ . فَقَالَ لِلْأُخْرَى : قُومُوا إِلَيْهَا . فَجَعَلَهُمْ وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤ وَفِي بَعْضِ طُرُقِ الطَّبَرَانِيِّ الصَّحِيحَةِ الْمُخْتَصَرَةِ : فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مُتَقَنِّعًا فَقَالَ : مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . إِنَّكُمْ لَأَهْدَى مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، أَوْ إِنَّكُمْ لَتَعْلَقُونَ بِذَنَبِ ضَلَالَةٍ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ لِعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ : فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَئِنِ اتَّبَعْتُمُ الْقَوْمَ ، لَقَدْ سَبَقُوكُمْ سَبْقًا بَعِيدًا مُبِينًا ، وَلَئِنْ أَخَذْتُمْ يَمِينًا وَشِمَالًا ، لَقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا . ¤
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان بیٹھ کر ( ایک دوسرے کو ) یہ کہتے ہیں : تم یہ پڑھو ! تم یہ پڑھو ! سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب وہ ایسا کرنے لگیں گے ، تو تم لوگ مجھے بتا دینا جب وہ لوگ بیٹھ گئے ، تو دوسرے لوگ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بیٹھ گئے ، اُنہوں نے ٹوپی لی ہوئی تھی ( یعنی اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا ) جب اُن لوگوں نے اپنی تسبیح شروع کی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سر سے ٹوپی ہٹائی اور بولے : میں عبداللہ بن مسعود ہوں ، تو وہ لوگ خاموش ہو گئے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ظلم کے طور پر بدعت کا ارتکاب کیا ہے ، اگر ایسا نہ ہو ، تو تم ہم پر یعنی سیدنا محمد کے اصحاب پر فضیلت رکھتے ہو ؟ تو عمرو بن عتبہ بن فرقد نے کہا: اے ابن مسعود ! میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بکھر جائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی مسجد میں دو حلقے دیکھے ، تو وہ ان دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور دریافت کیا : تم دونوں میں سے کون سا حلقہ پہلے بنا تھا ؟ ایک حلقے کے افراد نے کہا: ہم ( پہلے حلقہ بنا کر بیٹھ گئے تھے ) تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دوسرے حلقے والوں سے کہا: تم لوگ اُٹھ کر ان کے ساتھ مل جاؤ ! تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ہی حلقہ بنا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطا بن سائب ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ امام طبرانی کے بعض مستند طرق میں یہ روایت اختصار کے ساتھ منقول ہے ( جس میں یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سر ڈھانپ کر تشریف لائے ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھے جانتا ہے ، وہ تو جانتا ہی ہے ، اور جو مجھے نہیں جانتا ، تو میں عبداللہ بن مسعود ہوں ، کیا تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب سے زیادہ ہدایت والے ہو ؟ یا پھر تم لوگ گمراہی کے گناہ کے ساتھ چمٹ گئے ہو ؟ عطاء بن سائب کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم قوم ( یعنی صحابہ کرام ) کی پیروی کرتے ، تو وہ تم سے بہت زیادہ اور واضح سبقت لے جا چکے ہیں ، اور اگر تم نے دائیں بائیں کا راستہ اختیار کیا ، تو تم بہت زیادہ گمراہی کا شکار ہو جاؤ گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8630»
حدیث نمبر: 856
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ أَبِي إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ تَجَوَّزَ وَأَتَمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، وَإِذَا صَلَّى فِي الْبَيْتِ أَطَالَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَالصَّلَاةَ . قُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، إِذَا صَلَّيْتَ فِي الْمَسْجِدِ جَوَّزْتَ ، وَإِذَا صَلَّيْتَ فِي الْبَيْتِ أَطَلْتَ ؟ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِنَّا أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : میرے والد ( سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) جب مسجد میں نماز ادا کرتے تھے تو مختصر ادا کرتے تھے ، تاہم وہ رکوع و سجود مکمل کرتے تھے ، اور جب وہ گھر میں نماز ادا کرتے تھے ، تو رکوع سجود اور نماز طویل ادا کرتے تھے ، میں نے کہا: اے ابا جان ! جب آپ مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں ، تو مختصر ادا کرتے ہیں ، اور جب آپ گھر میں نماز ادا کرتے ہیں تو طویل ادا کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! بیشک ہم ( یعنی صحابہ کرام ) پیشوا ہیں اور ہماری پیروی کی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 857
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ إِذْ أَتَى بِرَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ مَسْكَنُهُ بِالسُّوسِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَنْتَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانِ الْعَبْدِيُّ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَضَرَبَهُ بِعَصًا مَعَهُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ ) فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ ثَلَاثًا وَضَرَبَهُ ثَلَاثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي نَسَخْتَ كُتُبَ دَانْيَالَ ؟ قَالَ : مُرْنِي بِأَمْرِكَ أَتَّبِعُهُ . قَالَ : انْطَلِقْ فَامْحُهُ بِالْحَمِيمِ وَالصُّوفِ الْأَبْيَضِ ، ثُمَّ لَا تَقْرَأْهُ أَنْتَ وَلَا تُقْرِئْهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ، فَلَئِنْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قَرَأْتَهُ أَوْ أَقَرَأْتَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَأُنْهِكَنَّكَ عُقُوبَةً ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ . قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْمَرَّتْ وَجَنَتَاهُ ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : أَغْضِبَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ ، فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ ، وَاخْتُصِرَ لِيَ اخْتِصَارًا ، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً ، فَلَا تَتَهَوَّكُوا ، وَلَا يُغْرُنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ " . قَالَ عُمَرُ : فَقُمْتُ فَقُلْتُ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِكَ رَسُولًا . ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا ، جس کا تعلق عبدالقیس قبیلے سے تھا اور اُس کی رہائش گاہ ” سوس “ میں تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم فلاں بن فلاں عبدی ہو ؟ اُس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود عصا اُسے مارا ، اس شخص نے کہا: امیرالمؤمنین ! میرا کیا قصور ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : الٓرٰ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے تم پر عربی میں قرآن نازل کیا ہے ، تاکہ تم سمجھ بوجھ حاصل کرو ، ہم تمہارے سامنے بہترین قصہ بیان کرنے لگے ہیں ، اس کے حوالے سے ، جو ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے ، اگرچہ اس سے پہلے تم غافل لوگوں میں سے ایک تھے “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے سامنے ان آیات کو تین مرتبہ تلاوت کیا اور تینوں مرتبہ اُسے مارا ، اس نے دریافت کیا : امیرالمؤمنین میرا قصور کیا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ، جس نے سیدنا دانیال علیہ السلام کی کتابوں کا نسخہ نقل کیا تھا ؟ اس شخص نے کہا: آپ مجھے حکم دیں ، میں اُس کی پیروی کروں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور اس تحریر کو گرم پانی اور صاف روئی کے ذریعے مٹا دو ! اور پھر کبھی اسے نہ پڑھنا ، اور نہ ہی کسی کو پڑھانا ، اگر تمہارے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ تم نے اُسے پڑھا ہے ، یا کسی کو پڑھایا ہے ، تو میں تمہیں سزا دوں گا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! وہ بیٹھ گیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” ایک مرتبہ میں گیا ، اور میں نے اہل کتاب کی کتاب میں سے کچھ حصہ نقل کیا ، ایک چمڑے پر اُسے نوٹ کر کے میں لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے عمر ! تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ایک تحریر ہے جسے میں نے نقل کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے سے پہلے موجود معلومات میں اضافہ ہو جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے ، پھر یہ اعلان کیا گیا : لوگ اکٹھے ہو جائیں ، انصار نے کہا: کیا تمہارے نبی غضبناک ہوئے ہیں ؟ ہتھیار سنبھالو ! ہتھیار سنبھالو ! وہ لوگ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے گرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک مجھے جامع اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں ، میرے لیے اختصار کیا گیا ہے اور میں تمہارے پاس صاف اور واضح ہدایت لے کر آیا ہوں ، تو تم لوگ موشگافی کرنے والے نہ ہو جانا اور موشگافی کرنے والے لوگ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے یہ کہا: میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہوں ، پھر نبی اکرم ( منبر سے ) نیچے تشریف لے آئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3005»