کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اجماع ( یعنی اتفاق ) کا بیان
حدیث نمبر: 830
عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ ، وَثَلَاثَةٌ خَيْرٌ مِنِ اثْنَيْنِ ، وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَكُنْ لِيَجْمَعَ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدًى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْبَخْتَرِيُّ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دو افراد ایک سے بہتر ہوتے ہیں ، اور تین افراد ، دو سے بہتر ہوتے ہیں اور چار افراد ، تین سے بہتر ہوتے ہیں ، تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ میری امت کو صرف ہدایت پر ہی اکٹھا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بختری بن عبید بن سلمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «125/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 245»
حدیث نمبر: 831
وَعَنْ أَبِي بَصْرَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْبَعًا فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ؛ سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يَجْمَعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْفِتَنِ - وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبصرہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے اپنے پروردگار سے چار چیزوں کا سوال کیا ، تو اس نے تین چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک چیز عطا نہیں کی ، میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو گمراہی پر اکٹھا نہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ یہ مکمل روایت آگے فتنوں سے متعلق ابواب میں آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 831
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 396/6 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 2171 اورده المؤلف فى زوائد المسند 244»
حدیث نمبر: 832
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ ، فَاصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ ، وَابْتَعَثَهُ بِرِسَالَاتِهِ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي قُلُوبِ الْعِبَادِ [ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ ] ، فَوَجَدَ قُلُوبَ أَصْحَابِهِ خَيْرَ قُلُوبِ الْعِبَادِ فَجَعَلَهُمْ وُزَرَاءَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَاتِلُونَ عَنْ دِينِهِ ، فَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ حَسَنٌ ، وَمَا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ سَيِّئًا فَهُوَ عِنْدُ اللَّهِ سَيِّئٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوثَقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کی طرف نظر کی ، تو اس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تمام بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر پایا ، تو انہیں اپنی ذات کے حوالے سے منتخب کر لیا ، اور اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا ، پھر اس نے ( سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کے بعد ) بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا ، تو ان کے اصحاب کے دلوں کو تمام بندوں کے دلوں سے زیادہ بہتر پایا ، تو انہیں اپنے نبی کا وزیر بنا دیا ، جو اس کے دین کے حوالے سے جنگ کرتے ہیں ، مسلمان جس چیز کو اچھا سمجھیں ، وہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اچھی شمار ہو گی ، اور مسلمان جس چیز کو برا سمجھیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی بری شمار ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 246 اورده المؤلف فى كشف الاستار 130»
حدیث نمبر: 833
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَضَ لَنَا أَمْرٌ لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ وَلَمْ تَمْضِ فِيهِ سُنَّةٌ مِنْكَ ؟ قَالَ : " تَجْعَلُونَهُ شُورَى بَيْنَ الْعَابِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَلَا تَقْضُونَهُ بِرَأْيِ خَاصَّةٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي بَابِ الْقِيَاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ درپیش ہوتا ہے ، جس کے بارے میں قرآن نازل نہ ہوا ہو ، اور اس کے حوالے سے آپ کی طرف سے کوئی سنت بھی موجود نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے اہل ایمان میں سے ، عبادت گزار افراد کے درمیان باہمی مشورے کے لیے پیش کر دینا ، اور تم اس کے حوالے سے بطور خاص کسی ایک کی رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہ دینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ، یہ مکمل حدیث ، قیاس سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 833
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 834
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ نَزَلَ بِنَا أَمْرٌ لَيْسَ فِيهِ بَيَانُ أَمْرٍ وَلَا نَهْيٍ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " شَاوِرُوا [ فِيهِ ] الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِينَ ، وَلَا تَمْضُوا فِيهِ رَأْيَ خَاصَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قریش سے تعلق رکھنے والے افراد کو غیر قریش سے تعلق رکھنے والے فرد سے دگنی قوت عطا کی گئی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے زہری سے دریافت کیا : اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : رائے کا پختہ ہوتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1618»