حدیث نمبر: 753
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي السُّلَمِيَّ - قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْخُذُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ آيَاتٍ ، فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ . قَالَ : فَيُعَلِّمُنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : ہمیں اُن صحابی نے یہ بات بتائی ہے ، جو ہمیں قرآن سکھایا کرتے تھے ، وہ فرماتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیات سیکھتے تھے ، تو اگلی دس آیات کا علم اس وقت تک حاصل نہیں کرتے تھے ، جب تک وہ پہلے والی دس آیات میں موجود علم اور عمل کے ہر پہلو سے واقف نہیں ہو جاتے تھے ، وہ صحابی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم علم اور عمل ( دونوں کی ) کی تعلیم دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو عمر کے آخری حصے میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 754
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : كُنْتُ مُجَاوِرَةً أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّ زَوْجَهَا جَامَعَهَا فِي الْمَنَامِ ، أَتَغْتَسِلُ ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : تَرِبَتْ يَدَاكِ أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ ، وَلَنَا أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّا أُشْكِلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ " فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَنَّى يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ؟ هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ انْقِطَاعٌ بَيْنَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ . وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الطَّهَارَةِ وَفِي الِاحْتِلَامِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پڑوس میں رہی ہوں ، ایک دفعہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی عورت خواب میں یہ دیکھتی کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کر رہا ہے ، تو کیا وہ عورت غسل کرے گی ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے ام سلیم ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، تم نے اللہ کے رسول کے سامنے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا ہے ، ہمیں جو مشکل پیش آتی ہے ، ہم اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر لیں ، یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ہم اس کے حوالے سے ناواقف رہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلیم ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، ایسی عورت پر غسل لازم ہو گا ، جب وہ پانی ( یعنی منی کا خروج ) پا لے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا عورت کا بھی پانی ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس کا بچہ اور کس وجہ سے اُس کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ؟ یہ عورتیں بھی مردوں کا حصہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، امام أحمد کی سند میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نامی راوی کے درمیان ” انقطاع “ ہے ، اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث طہارت سے متعلق اور احتلام سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، امام أحمد کی سند میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نامی راوی کے درمیان ” انقطاع “ ہے ، اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث طہارت سے متعلق اور احتلام سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 755
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَقَدْ عِشْتُ بُرْهَةً مِنْ دَهْرٍ وَإِنَّ أَحَدَنَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ ، وَتَنْزِلُ السُّورَةُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَتَعَلَّمُ حَلَالَهَا وَحَرَامَهَا وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ مِنْهَا كَمَا تَعَلَّمُونَ أَنْتُمُ الْقُرْآنَ ، ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا يُؤْتَى أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ ، فَيَقْرَأُ مَا بَيْنَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ إِلَى خَاتِمَتِهِ مَا يَدْرِي مَا آمِرُهُ وَلَا زَاجِرُهُ ، وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ عِنْدَهُ [ مِنْهُ ] ، وَيَنْثُرَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے ایک زمانہ ایسے عالم میں گزارا ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کو قرآن سے پہلے ایمان عطا کیا جاتا تھا ، جب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی سورت نازل ہوتی تھی ، تو وہ شخص اُس کے حلال اور حرام کا علم حاصل کرتا تھا ، اور اُس چیز کا بھی علم حاصل کرتا تھا ، جس سے واقف ہونا اُس کے لئے مناسب تھا ، بالکل اسی طرح ، جس طرح ( آج کے زمانے میں ) تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرتے ہو ، پھر میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ، جنہیں ایمان سے پہلے قرآن دے دیا گیا ، وہ سورہ فاتحہ سے لے کر قرآن کے آخر تک پورا پڑھ لیتے ہیں ، لیکن انہیں یہ پتا نہیں ہوتا کہ قرآن انہیں کیا حکم دیتا ہے اور کس چیز سے منع کرتا ہے ؟ اور ایسے شخص کے لیے یہ مناسب بھی نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں کا علم حاصل کرے ، وہ تیزی سے اس کو یوں پڑھتا ہے ، جس طرح ردی کھجوریں پھینک دی جاتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 756
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَأَبَا مُوسَى إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " تَسَانَدَا وَتَطَاوَعَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا " ، فَخَطَبَ النَّاسَ مُعَاذٌ ، فَحَثَّهُمْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالتَّفَقُّهِ وَالْقُرْآنِ ، وَقَالَ : أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ : إِذَا ذُكِرَ الرَّجُلُ بِخَيْرٍ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِذَا ذُكِرَ بِشَرٍّ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجنے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایک دوسرے کا ساتھ دینا ، ایک دوسرے کی بات مانتا ، خوشخبری سنانا ، متنفر نہ کرنا ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں اسلام ، دین کی سمجھ بوجھ اور قرآن کے حوالے سے ترغیب دی اور یہ فرمایا : میں تم لوگوں کو اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں بتاتا ہوں ، جب کسی شخص کا ذکر بھلائی کے ساتھ کیا جائے تو وہ اہل جنت میں سے ہو گا ، اور جب کسی کا ذکر برائی کے ساتھ کیا جائے تو وہ اہل جہنم میں سے ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔