کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: (مذہبی امور کے بارے میں غیر ضروری ) بحث کرنے کے بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 704
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَبِي أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالُوا : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَنَحْنُ نَتَمَارَى فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدِّينِ ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ ، ثُمَّ انْتَهَرَنَا فَقَالَ : " مَهْلًا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا ، ذَرُوا الْمِرَاءَ لِقِلَّةِ خَيْرِهِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُمَارِي ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَ قَدْ تَمَّتْ خَسَارَتُهُ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَكَفَى إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُمَارِيًا ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الْمُمَارِيَ لَا أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَأَنَا زَعِيمٌ بِثَلَاثَةِ أَبْيَاتٍ فِي الْجَنَّةِ : فِي رِبَاضِهَا ، وَأَوْسَطِهَا ، وَأَعْلَاهَا - لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ صَادِقٌ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ مَا نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ الْمِرَاءُ [ وَشُرْبُ الْخَمْرِ ، ذَرُوا الْمِرَاءَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالتَّحْرِيشِ ، وَهُوَ الْمُرَائِي ، ذَرُوا الْمِرَاءَ ] فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقُوا عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَالنَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ إِلَّا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا السَّوَادُ الْأَعْظَمُ ؟ قَالَ : " مَنْ كَانَ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ، مَنْ لَمْ يُمَارِ فِي دِينِ اللَّهِ وَلَمْ يُكَفِّرْ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ غُفِرَ لَهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يَصْلُحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ ، وَلَا يُمَارُونَ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَلَا يُكَفِّرُونَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ بِذَنْبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء ، سیدنا ابوامامہ ، سیدنا واثلہ بن اسقع اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم ، یہ حضرات بیان کرتے ہیں : ” ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت کسی دینی معاملے کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے میں آ گئے ، آپ اس طرح پہلے کبھی غصے میں نہیں آئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ڈانٹتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ! تم لوگ باز آ جاؤ ! تم سے پہلے کے لوگ اس ( بحث ) کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، بحث کو ترک کر دو ! کیونکہ اس میں بھلائی کم ہے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ مؤمن بحث نہیں کرتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ بحث کرنے والے کا خسارہ مکمل ہو جاتا ہے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ گناہ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم مسلسل بحث کرتے رہو ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ بحث کرنے والے کی قیامت کے دن میں شفاعت نہیں کروں گا ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ میں جنت میں تین گھروں کا ضامن ہوں ، اُس کے اطراف کے حصے میں ، اس کے درمیان میں اور اُس کے بالائی حصے میں ( موجود گھروں کا اُس شخص کے لئے ، میں ضامن ہوں ) جو حق پر ہونے کے باوجود بحث کو ترک کر دے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ بتوں کی عبادت کے بعد ، اللہ تعالیٰ نے جس پہلی چیز سے مجھے منع کیا ، وہ بحث اور شراب نوشی ہے ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ اُس کی عبادت کی جائے ، لیکن وہ تمہارے درمیان اختلافات سے بھی راضی ہو جائے گا ، بحث کو چھوڑ دو ! کیونکہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور عیسائی بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے ، سواد اعظم کے علاوہ ، وہ سب گمراہی پر تھے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سواد اعظم سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اُس چیز پر گامزن ہو ، جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں ، جو شخص اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتا اور کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل توحید میں سے کسی کو کافر قرار نہیں دیتا ، اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی ۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اسلام کا آغاز غریب الوطنی کے عالم میں ہوا تھا اور یہ عنقریب دوبارہ غریب ہو جائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غریب لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لوگ جو اس وقت ٹھیک رہیں ، جب باقی لوگ خرابی کا شکار ہو چکے ہوں ، اور وہ لوگ جو اللہ کے دین کے بارے میں بحث نہیں کرتے ہیں ، اور جو کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اہل توحید میں سے کسی کو کافر قرار نہیں دیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 705
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَتَذَاكَرُ ، يَنْزِعُ هَذَا بِآيَةٍ ، وَيَنْزِعُ هَذَا بِآيَةٍ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا يُفْقَأُ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، فَقَالَ : " يَا هَؤُلَاءِ ، بِهَذَا بُعِثْتُمْ أَمْ بِهَذَا أُمِرْتُمْ ؟ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے بحث کر رہے تھے ، ایک شخص ایک آیت دلیل کے طور پر پیش کرتا تھا ، دوسرا شخص دوسری آیت دلیل کے طور پر پیش کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے ، تو یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے آپ کے چہرے پر انار کا رس انڈیل دیا گیا ہو ( یعنی غصے کی شدت کی وجہ سے آپ کا چہرہ مبارک انتہائی سرخ ہو رہا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہیں اس بات کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ؟ یا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ تم میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جانا ! کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 706
وَعَنْ أَنَسٍ : مِثْلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ ، وَفِي الْأَوَّلِ سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ ، ضَعَّفَهُ النِّسَائِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، حَدِيثُهُ حَدِيثُ أَهْلِ الصِّدْقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ اور ثبت ہیں ، پہلی روایت میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے ، لیکن اس کی نقل کردہ حدیث اہل صدق کی نقل کردہ حدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ اور ثبت ہیں ، پہلی روایت میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ابوزرعہ فرماتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے ، لیکن اس کی نقل کردہ حدیث اہل صدق کی نقل کردہ حدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 707
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ - لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ، وَتَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ، وَحَسُنَ خُلُقُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ - وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ - وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں اس شخص کے لئے جنت کے درمیان میں ایک گھر ، اور جنت کے درمیان میں ایک گھر اور جنت کے بالائی حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں ، جو شخص بحث کو ترک کر دیتا ہے ، خواہ وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو ، اور جو شخص جھوٹ کو ترک دیتا ہے ، خواہ وہ مذاق کے طور پر ہی کیوں نہ ہو ، اور جس کے اخلاق اچھے ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اچھے اخلاق سے متعلق باب میں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آگے آئے گی ، جس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اچھے اخلاق سے متعلق باب میں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آگے آئے گی ، جس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 708
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ مَازِحٌ ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسُنَتْ سَرِيرَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اس شخص کے لئے جنت کے درمیان میں گھر کا ضامن ہوں ، جو حق پر ہونے کے باوجود بحث کو ترک کر دیتا ہے ، اور جنت کے درمیان میں ایک گھر کا ضامن ہوں ، جو جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے ، خواہ وہ مزاح کے طور پر ہی ہو ، اور جنت کے بالائی حصے میں گھر کا ضامن ہوں ، اُس شخص کے لئے جو اپنے اخلاق اچھے کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 709
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قرآن کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 710
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ ; فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن کے بارے میں بحث نہ کرو ! کیونکہ اس کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔